عربی تحریر:فاطمہ احمد حشاش(التعلیم الجدید)

ترجمہ:ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی

تربیت معاشرتی کام ہے، اس میں معاشرے کی طبیعت، امیدوں اور بلند ارادوں کا عکس نظر آتا ہے، اس لیے کہ تربیت معاشرہ کی تعمیر کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، تربیت صرف معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے نہیں کی جاتی ، بلکہ تربیت معاشرے کے عقیدے اور اس کے مطالبات کے مطابق تجدید کے لیے بھی ضروری ہے، تاکہ صالح افراد تیار کیے جاسکیں۔اسی وجہ سے فرد کی تربیت اس طرح کرنا ضروری ہے کہ اس کے دل میں اللہ پر ایمان پیوست ہوجائے اور وہ صرف اسی کے سامنے اپنا ماتھا جھکائے اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ انسانی فطرت کی پابندی کر ے ، اخلاقی، علمی، تربیتی اور روحانی اقدار کا پابند رہے۔جن کی دعوت قرآن کریم، سنت نبوی اور علماء کے اجتہادات میں ملتی ہے، اس لیے افراد کی تربیت والدین اور اساتذہ کے ذمے امانت ہے، جو اس امانت میں خیانت کرتا ہے یا اس میں کوتاہی برتتا ہے یا تربیت کے بلند مقصد سے منحرف ہوجاتا ہے تو اس کے لیے تباہی وبربادی ہے۔

شیخ محمد غزالی کا شمار تربیتی مفکرین میں ہوتا ہے، اس میدان میں انھوں نے بہت کام کیےہیں۔ان کی بہت سی کتابیں، مقالات، مضامین، محاضرے، تقریریں اور دروس ہیں، جن کو شیخ نے اپنی دعوتی، فکری اور علمی زندگی میں پیش کیا تھا، خاص کر تربیتی میدان میں ان کی بڑی کاوشیں ہیں، ان کی کتابوں میں بہت سے تربیتی افکار ملتے ہیں، ان میں سے بعض کا تعلق معلمین کے ساتھ ہے، اسی طرح تربیتی وسائل کا بھی تذکرہ ملتا ہے، ہم یہاں ان کے تربیتی وسائل کو پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

۱۔ بہترین نمونے کے ذریعے تربیت:

بہترین نمونہ انسان پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے تربیتی وسائل میں سے ایک ہے اور یہ سب سے کامیاب ذریعہ ہے، اسی وجہ سے معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کے سامنے بہترین نمونہ بنے، یہ صحیح نہیں ہے کہ معلم اپنے طلبہ میں حسنِ اخلاق پیدا کرنے کے لیے تربیت کرے اور خود حسنِ اخلاق کو نہ اپنائے، اس لیے جس منہج کی وہ تعلیم دے رہا ہے، پہلے خود اس پر عمل کرے اور اسی منہج کے مطابق اپنے طلبہ کی تربیت کرے، تربیت اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتی، جب تک کہ اس کی بنیاد بہترین نمونے پر نہ ہو، اس لیے برا معلم وہ ہے جو اپنے طلبہ سے تو اچھے کاموں کی توقع کرے، لیکن وہ خود ان اچھے کاموں سے دور ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے سامنے حسن اخلاق کا بلند نمونہ تھے، جن کی آپ دعوت دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اپنے صحابہ میں اپنی نصیحتوں اور باتوں سے پہلے اپنی پاکیزہ اور معطر سیرت کے ذریعے بلند اخلاق کو پیوست کرتے تھے۔

شیخ محمد غزالی کا خیال ہے کہ نفس کی پاکیزگی اور اخلاق کی بلندی کے بجائے بہت زیادہ ذہانت اور علم کی وسعت مربی کے لیے کافی نہیں ہے، شیخ محمد غزالی شر پھیلانے والے ذہین کو ناپسند کرتے ہیں، ان کی رائے کے مطابق ذلیل نفس کے علم میں جتنا اضافہ ہوگا، اتنا ہی اس میں تکلیف دینے کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔

۲۔ وعظ ونصیحت کے ذریعے تربیت

بہترین نصیحت ان تربیتی وسائل میں سے ہے جس کی طرف دل مائل ہوتے ہیں اور قبول کرتے ہیں، قرآن کریم اس کی اہمیت کی بہترین دلیل ہے، کیوں کہ قرآن نے بہت سی آیتوں میں بہترین نصیحت کے ذریعے انسانی نفس کو مخاطب کرنے کی ترغیب دی ہے، جس میں ایسا اسلوب اپنایا جائے جو مخاطبین کے نزدیک پسندیدہ ہو، تدریجی طریقے کو اختیار کیا جائے اور بار بار نصیحت کی جائے، ایسا انداز اختیار کیا جائے جس سے مخاطب اور متعلم کو محسوس ہو کہ استاذ اس کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کررہا ہے اور اس پر توجہ دے رہا ہے۔

شیخ غزالی کے نزدیک تربیت پوری زندگی پر مشتمل عمل ہے، انسان کے مکلف ہونے سے لے کر موت تک تربیت ہوتی ہے، یہ سمجھنا غلطی ہے کہ تربیت ایسی عمارت ہے جس کے لیے چند مہینے یا چند سال کافی ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد آرام کیا جائے، مومن اپنے نفس کے لیے ڈرائیور کی مانند ہے جس کو پورے سفر میں چوکنا رہنے کی ضرورت پڑتی ہے، ورنہ وہ جب بھی غفلت برتے گا یا اونگھ آئے گی تو ہلاک ہوسکتا ہے، انسان اپنے نفس کے ساتھ صبح وشام مجاہدہ کرتا ہے  اور اپنے رب کی طرف ثابت قدمی کے ساتھ چلتا رہتا ہے، اللہ کی طرف چلنے والا اللہ کے احکام کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے اور اللہ کی منع کردہ چیزوں سے خودکو روکتا ہے۔

۳۔ترغیب و ترہیب کے ذریعے تربیت

سزا یا ترہیب (ڈرانے) کے اسلوب کو نئے زمانے کے تربیتی اصولوں میں قابلِ اعتنا نہیں سمجھاجاتا، (لیکن یہ صحیح نہیں ہے)کیوں کہ جب مسئلہ کی حل کے سبھی ممکنہ تربیتی وسائل ناکام ہوجاتے ہیں تو عقاب اور سزا کا اسلوب آخری حربہ ہوسکتا ہے، اس لیے معلم کے لیے ضروری ہے کہ جتنا ہوسکے ترغیب کا اسلوب اپنائے اور بار بار ترغیب کا اسلوب ہی برتنے کی کوشش کرے، تاکہ مثبت نتیجہ نکل آئے۔اس اسلوب کے بارے میں شیخ غزالی اپنی بات یوں بیان کرتے ہیں: ترغیب اچھے اعمال انجام دینے اور اطاعت کرنے کی ترغیب دینا ہے، قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت سی بشارتوں اور جلیل القدر حکمتوں کے ساتھ ترغیب کا استعمال ہوا ہے۔

شیخ محمد قطب کہتے ہیں:جس طرح ترغیب کے ذریعے دل کو آگے بڑھایا جاتا ہے، اسی طرح ترہیب کا بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے دل سزا کے خوف سے رذیل چیزوں سے باز رہتا ہے۔

تربیتی میدان میں جسمانی سزا کا خوف دلانے اور انعامات کی ترغیب دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، معلم کے لیے اس بات سے واقف ہونا ضروری ہے کہ کب ترغیب کا اسلوب اپنایا جائے اور کب اس کو اپنانے سے باز رہے  اور کب ترہیب کا اسلوب اختیار کیا جائے۔

۴۔ کہانیوں کے ذریعے تربیت

کہانی کا شمار کامیاب تربیتی وسائل میں ہوتا ہے اور متعلمین کے دلوں میں اس کا بڑا گہرا اثر پڑتا ہے، کیوں کہ متعلم اپنے خیالوں میں کہانی کے مناظر اور واقعات کو دیکھتا ہے ،جس سے مدلولات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ قرآن کریم نے اس تربیتی اسلوب کا استعمال کثرت سے کیا ہے، اس لیے قرآن میں گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں کثرت سے ملتی ہیں، جن کو بیان کرنے کا مقصد رہنمائی، تعلیم، تنبیہ ، نصیحت اور عبرت حاصل کرنا ہے۔

شیخ غزالی کے نزدیک صحیح اسلامی تربیت کی بنیاد زندگی اور زندہ افراد، زمین و آسمان  اورجو بھی چیزیں ہم پر اثر انداز ہوتی ہیں اور جن پر ہم اثر انداز ہوتے ہیں، تمام چیزوں کی مکمل سمجھ حاصل کرنا ہے، پھر ان تمام چیزوں کو اپنے رب کو راضی کرنے اور اپنی آخرت کو بہتر بنانے کے لیے مسخر کرنا ہے۔

۵۔ فارغ اوقات کو استعمال میں لاکر تربیت

’’اگر آپ کا دل اللہ کی اطاعت یا کسی مفید چیز میں مشغول نہیں رہے گا تو نفس آپ کو لہو ولعب اور گناہوں میں مشغول کردے گا‘‘، انسان جس کسی گناہ یا فساد کا شکار ہوتا ہے اس کا سبب اپنے فارغ اوقات کو مفید کاموں میں مشغول نہ رکھنا ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں انسان لہو ولعب اور فساد وبگاڑ کے پیچھے پڑتا ہے، خصوصا اس وقت جب بگاڑ کا ماحول طلبہ کو ملتا ہے، مثال کے طور پر برے ساتھی مل جاتے ہیں، اس لیے معلم کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو فارغ اوقات کو اپنے مفید کاموں علم، اطاعت، ریاضت وکسرت یا اپنی بہترین عادتوں میں استعمال میں لانے کی ترغیب دے، اور وقت کو صحیح استعمال کرنے کے لیے ہمت افزائی کرے، اور اپنی رائے کے ذریعے اس میدان میں ان کی مدد کرتا رہے، کیوں کہ جو بھی وقت ضائع ہوتا ہے وہ عمر اور زندگی میں شمار ہوتا ہےاور ضائع ہونے والا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آتا ۔

شیخ غزالی وقت کی قدر وقیمت کے سلسلے میں کہتے ہیں:جب آپ اپنے نفس کو حق میں مشغول نہیں کریں گے تو نفس آپ کو باطل میں مشغول کردے گا، یہ بات صحیح ہے، کیوں کہ نفس کبھی خاموش نہیں رہتا، اگر خیر، جہاد، منظم مفید کاموں کے منصوبوں میں نفس مسلسل مشغول نہیں رہتا ہے تو نفس کو ادھر ادھر کے افکار وخیالات ہلاک کردیتے ہیں، انسانی زندگی کو محفوظ رکھنے والی سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ اپنے لیے ایک منہج (منصوبہ) بنائے، جس میں اس کے اوقات کو مشغول رکھا جائے، میرا خیال ہے کہ معاشرہ اگر خالی اوقات پر قابو پائے تو بہت سے مفاسد سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔معلم کو اپنی اس ذمے داری کو بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ اپنے طلبہ کو یاد دلاتا رہے کہ ان سے قیامت کے دن ان کے اوقات اور عمر کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ کہاں ضائع کیا؟

۶۔واقعات اور حالات کے ذریعے تربیت

انسانی زندگی مسلسل حالات اور واقعات سے عبارت ہے، انسان کی شخصیت کی تشکیل اور صیقل کرنے میں ان کا بڑا حصہ رہتا ہے، اسی وجہ سے معلم پر ضروری ہے کہ وہ ان حالات و واقعات اور ان کے نتائج سے فائدہ اٹھاکر اپنے طلبہ کے دلوں میں ہر پسندیدہ برتاؤ اور ہر بہترین اخلاق کو راسخ کرنے کی کوشش کرے اور زندگی میں آنے والی رکاوٹوں،ان کے اندر مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، مسلمانوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ و سلم کے زمانے سے لے کر آج تک اپنے اوپر آنے والے حالات سے بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں حاصل کی ہیں، مثال کے طور پر جنگ احد ہے۔

شیخ غزالی کہتے ہیں:جو انسان اپنے مخصوص تجربات کو یاد نہیں رکھتا اور ان سے یہ نہیں سیکھتا کہ رکاوٹوں سے کیسے محفوظ رہے اور دشمنوں سے کیسے بچے تو وہ کوتاہ نگاہ اور کمزور ایمان والا ہے ۔جو امت اسلامیہ کئی صدیوں پر مشتمل اپنی زندگی میں بڑے بڑے واقعات سے عبرت اور نصیحت کا عظیم ذخیرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مدت کے دوران حاصل کردہ اسباق اور عبرتوں کو اپنے سامنے رکھے، تاکہ وہ اسی گڑھے میں نہ گرے جس میں وہ پہلے گر چکی ہے، یا اسے اسی سوراخ سے نہ ڈسا جائے جس سے پہلا اسے ڈسا جاچکا ہے۔

اسی وجہ سے ضروری ہے کہ متعلم اپنی زندگی میں آنے والے تمام واقعات اور حالات سے فائدہ اٹھائے اور ان کو اپنے لیے تجربہ بنائےاور ان تجربات کو نئے آنے والے حالات اور رکاوٹوں کے مقابلے میں استعما ل کرے۔

۷۔ ٹریننگ اور عملی مشقوں کے ذریعے تربیت

’’آپ نے جو سیکھا ہے اس کی مشق نہیں کی ہے تو یقینی طور پر اسے بھلا دوگے‘‘، اسی وجہ سے صرف علم ومعرفت کو حاصل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ان کو استعمال میں لانا ضروری ہے اور سیکھی ہوئی چیز کی مشق کرنا اور اپنی زندگی میں اسے برتنا بھی ضروری ہے، جس کے نتیجے میں اس کے پاس مضبوط تجربات جمع ہوجائیں گے جو پوری زندگی مسلسل اس کی مدد کرتے رہیں گے، اس میدان میں معلم کا بڑا کردار ہے، کیوں کہ وہ ٹرینر ہے، مرشد ہے اور رہنمائی کرنے والا ہے۔ اگر وہ اپنے طلبہ کی ٹریننگ اور تعلیم پر اور سیکھی ہوئی چیزوں کو برتنے پر توجہ نہیں دے گاتو یہ کام کون کرے گا؟

شیخ غزالی کہتے ہیں:تربیت صرف زمین میں اس امید پر بیج بوکر چھوڑنا نہیں ہے کہ بارش آئے گی، پھر اس کے بعد کوئی جدوجہد اور کام باقی نہیں رہتا، بلکہ تربیت یہ ہے کہ بیج بویا جائے، اسے پانی دیا جائے، اس کا خیال رکھا جائے، شیطانی پودوں اور وباؤں سے محفوظ رکھا جائے، اور کھیتی پکنے تک مسلسل توجہ دی جاتی رہے، یہ حقیقت ہے کہ صحابہ اور تابعین نبوی تربیت کا نتیجہ تھے، جن کی شکل میں ایسی ایک نسل تیار ہوگئی جس نے انسانی تہذیب کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ معلم اور مربی پر ضروری ہے کہ جو وہ طلبہ کو سکھارہے ہیں، ان چیزوں کی عملی مشق بھی کرائیں، ان پر مسلسل توجہ دیتے رہیں اور رہنمائی کرتے رہیں اور ضرورت کے وقت نصیحتیں بھی کرتے رہیں۔

۸۔اچھی عادت کے ذریعے تربیت

اسلام نے عادت کو ایک تربیتی ذریعہ اور وسیلہ کے طور پر اپنایا ہے ، اسلام بھلے کاموں کو عادت میں تبدیل کرتا ہے جس سے انسان محنت اور مشقت کے بغیر اعمالِ خیر کو انجام دیتا ہے، ہم جانتے ہی ہیں کہ اسلام نے آکر بہت سی بری عادتوں کا خاتمہ کیا، جیسے زنا، شراب نوشی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی عادت، اسی طرح برے صفات کو بھی جیسے دھوکہ، جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ۔

شیخ غزالی کہتے ہیں: عادت کو عبادت اس وقت شمار کیا جاتا ہے جب مقصد اچھا ہو اور نیت بھی اچھی ہو ۔۔۔۔۔، اس کے دلائل لا متناہی ہیں، مومن کی اکثر عبادتیں اسی قبیل کی ہیں، کیوں کہ اس قسم کے اعمال پوری زندگی کو شامل ہیں اور اس کے بغیر نہ دین مکمل ہوتا ہے اور نہ انسانی معاملات درست ہوتے ہیں۔

خلاصۂ کلام:

شیخ غزالی کے نزدیک تربیتی وسائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف ایک ہی وسیلہ پر اعتماد نہیں کیا، بلکہ متعدد اور متنوع وسائل کو اپنایا، ان سب وسائل کا مقصد صالح اور اچھے اخلاق کا حامل انسان کی تیاری ہے، جو اپنے دین کی خاطر جد وجہد کرے اور زمین پر خلافت کی ذمے داری نبھائے، کیوں کہ اللہ تعالی نے اس زمین پر انسان کو اس مقصد سے پیدا کیا ہے کہ وہ زمین کو آباد کرے، اس کے احکام کی پیروی کرے، اس کے منع کردہ امور سے باز رہے، اور ہر اس چیز سے خود کو دور رکھے جو معصیت اور گناہ کو اپنانے اور گمراہ راستے کی پیروی کرنے کی دعوت دیتی ہو، تربیتی نظام کا مقصد اپنے تمام وسائل کے ساتھ یہ ہونا چاہیے کہ علم کے خواہش مند، اپنی اور اپنی امت کی تعمیر کے لیے کوشاں اور اپنے لیے مفید ہر چیز کی متمنی نسل تیار کی جائے۔

مراجیع:

الخطيب، محمد شحات وآخرون: أصول التربية الاسلامية، دار الخريجين للنشر والتوزيع، 1995م

عويس، عبد الحليم: الشيخ محمد الغزالي تاريخه وجهوده وأراؤه، دار القلم، 2000م

الغريب، رمضان خميس: الشيخ الغزالي حياته وعصره وأبرز من تأثر بهم، دار الحرم للتراث، 2003م

الغزالي، محمد: تراثنا الفكري في ميزان الشرع والعقل، دار الشروق، 2007م

الغزالي، محمد: جدد حياتك، نهضة مصر للطباعة والنشر والتوزيع، 2005م

الغزالي، محمد: خطب الشيخ محمد الغزالي في شؤون الدين والحياة، إعداد قطب عبد الحميد قطب، دار الاعتصام للطبع والنشر والتوزيع، 1988م

الغزالي، محمد: خلق المسلم، نهضة مصر للطباعة والنشر والتوزيع، 2005م

الغزالي، محمد: معركة المصحف في العالم الاسلامي، نهضة مصر للطباعة والنشر والتوزيع، 2005م

الغزالي، محمد: نظرات في القرآن الكريم، نهضة مصر للطباعة والنشر والتوزيع، 2005م

الغزالي، محمد: هذا ديننا، القاهرة، دار الشروق، 2009م