ڈاکٹر فہیم الدین احمد

جمہوریت میں صحافت (میڈیا) عوام کی آنکھ ہوتی ہے۔ وہ اسی کی مدد سے مختلف واقعات و حقائق کو دیکھتے ہیں اور رائے قائم کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی جمہوریت میں وہ آنکھ ہی دھوکہ دینے لگے، عوام کو گمراہ کرے اور محض جھوٹ دکھانے لگے تو آخر جمہوریت کا حال کیا ہوگا۔ آج صحافت اور میڈیا جس نچلی سطح تک گر گئی ہے اس صورت حال میں صحافت کے لیے سچائی، اقدار، معیار، کردار، تحریک اور فرض جیسی اصطلاحات کی کوئی معنویت ہی باقی نہیں رہی ہے۔ صحافت پہلے پیشہ پھر صنعت اور تجارت بنی اور اب تجارت سے بھی آگے بڑھ کر جھوٹ کی صنعت کی فیکٹری بن کر رہ گئی ہے جہاں ہر روز نئے نئے جھوٹ گھڑے جاتے ہیں۔ اور جب کسی جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے تو پھر نہ تو میڈیا غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور نہ ہی کسی شرمندگی کا اظہار۔ گویا ان کے نزدیک جھوٹ شائع کرنا اور پھیلانا ہی ملک و قوم کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ 

ہندوستانی میڈیا کی اس بدترین صورت حال کے درمیان امریکی صحافتی دنیا کی ایک خبر نے ہم سب کو چونکا دیا ہے۔ ہم جبکہ عالمی قائد (وشو گرو) بننے کے عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آج جو حقیقت میں وشو گرو ہیں ان کے یہاں جمہوریت کے مختلف اداروں کا کیا حال ہے۔ای نیوز ویب پورٹل پر ایک اسٹوری شائع ہوئی ہے اس کے مطابق گزشتہ دنوں باسکٹ بال کے ایک مشہور کھلاڑی کوبی برائنٹ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ حادثے کے وقت ان کے ساتھ ان کی ایک بیٹی بھی تھی جو ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئی۔ امریکہ کے مشہور ٹی وی چینل اے بی سی پر اس حادثے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے چیف نیشنل کرسپانڈنٹ مسٹر ماٹ گٹمین نے یہ خبر دے دی کہ ہیلی کاپٹر میں کوبی برائنٹ اور ان کی چاربیٹیاں بھی موجود تھیں جو حادثے میں ہلاک ہوگئیں۔ جو کہ غلط خبر تھی۔ اس غلطی اور لاپرواہی کی پاداش میں اے بی سی نیوز چینل نے ماٹ گٹ مین کو برطرف کر دیا۔ حالانکہ ماٹ گٹمین نے غلطی کا احساس ہونے کے بعد فوری اپنے ٹوئٹر پر اس غلطی کا اعتراف کرکے معافی مانگ لی تھی۔ ماٹ گٹ مین اے بی سی کے ایک اہم کرسپانڈنٹ تھے۔ وہ پچھلے ۱۲ سال سے اے بی سے کے لیے رپورٹنگ کا کام کر رہے تھے اور انتہائی اہم واقعات کو انہوں نے اے بی سی کے لیے کور کیا تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود محض ایک غلط رپورٹنگ کی پاداش میں چینل نے اپنے اس اہم ترین فرد کو معطل کردیا جب کہ اس نے اس غلطی پر معافی بھی مانگ لی تھی۔ اس موقع پر بیان دیتے ہوئے اے بی سی کے ترجمان نے کہا کہ ‘‘حقائق کو پوری طرح درست پیش کرنا صحافت کی اساس ہے، چونکہ ماٹ گٹمین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کی ابتدائی رپورٹنگ غلط اور ہمارے ادارتی معیارات کے خلاف تھی اس لیے ہم نے انہیں معطل کردیا ہے’’۔ ماٹ گٹمین نے بھی اپنی غلطی کے اعتراف اور معافی نامے میں لکھا ہے کہ ‘‘ہم صحافت کے ذریعے لوگوں کو جوابدہ بناتے ہیں، آج جب کہ مجھ سے ایک غلط بیانی ہوئی ہے تو میں اپنے آپ کو اس کے لیے ذمہ دار اور جواب دہ سمجھتا ہوں اس لیے برائنٹ کے اہل خاندان سے معافی کا خواست گار ہوں’’۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ کیا یہ سب ہمارے لیے حیرت انگیز نہیں ہے۔ شاید یہ سب ہمارے لیے بالکل ہی انہونی بات ہے کہ کہاں محض ایک شخصی حادثے کے متعلق اتفاقاً ایک غلط خبر کا چل جانا اور اس پر اس قدر سخت کارروائی اور کہاں جان بوجھ کر پوری ڈھٹائی کے ساتھ غلط خبریں گھڑنا اور انہیں پھیلانا، کُجا کہ غلطی کا اعتراف اور اس کے خلاف کارروائی کا تصور؟ 

اس پورے واقعے کو ذہن میں رکھیے اور ہمارے آج کے میڈیا کا جائزہ لیجیے کہ کیا ہم واقعی اپنی موجودہ کیفیت کے ساتھ دنیا کی قیادت کے حقدار ہوسکتے ہیں۔ ذرا یاد کیجیے ۳۰ جنوری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فائرنگ کا واقعہ ہوا۔ ایک نوجوان نے اپنی دیسی ساختہ پستول سے جامعہ ملیہ کے احتجاجیوں پر فائرنگ کر دی ایک احتجاجی نوجوان رخمی ہوا۔ لیکن ہمارے ملک کے ایک معروف ٹی وی چینل نے یہ جھوٹی خبر نشر کر دی کہ پستول احتجاجیوں کی جانب سے استعمال کیا گیا، اور کافی دیر تک یہی خبر نشر ہوتی رہی۔ بعد میں جب یہ واضح ہوگیا کہ گولی احتجاجی نے نہیں بلکہ خود اس پر چلائی گئی تھی لیکن، اس کے باوجود بھی اس ٹی وی چینل اور اس کے اینکر کو اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ کم ازکم اپنی غلطی کا اعتراف ہی کر لیتے کہ ہم نے شروع میں جو خبر دی تھی وہ غلط تھی۔ یہ تو بس ایک مثال ہے ورنہ ہمارے میڈیا میں تو ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ وہ جھوٹ کی بنیاد پر ایک نیا بیانیہ کھڑا کر دیتے ہیں اور اسی جھوٹ کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل بھی کر دیتے ہیں اور لوگوں کو مجرم بھی قرار دیتے ہیں۔ گویا یہی عدالت لگاتے ہیں اور خود ہی فیصلے بھی سنا دیتے ہیں۔ دہلی انتخابات کے موقع پر میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے اس سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی کہ آج کا میڈیا صحیح معنوں میں میڈیا نہیں ہے بلکہ ایک مخصوص پارٹی کے نشر و اشاعت کا شعبہ بن کر رہ گیا ہے۔ اب اس میں نہ تو کردار باقی رہا نہ سچائی باقی رہی اور نہ ہی اس کا ضمیر زندہ ہے۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کے پروپگنڈے کا طاقتور وسیلہ بن کر رہ گیا ہے۔ فرض سے تجارت اور تجارت سے محض ایک پارٹی کی پروپگنڈہ مشنری تک ہندوستانی صحافت کا یہ سفر انتہائی افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ عبرتناک بھی ہے اور ہندوستان جیسے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے لیے ایک بدنما داغ بھی ہے۔