200اراکین پارلیمان، 20 وزرائ، متعدد وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم کی دو ریلیوں نیز وزیر داخلہ کی صرف 13دنوں میں 35 انتخابی ریلیوں کے ساتھ دھنواں دھار تشہیری مہم چلانے والی بی جے پی کے تمام منصوبوں اور خوابوں پر عام آدمی نے جھاڑو پھیردی۔ این اڈی اے کے متعدد لیڈروں اور پرچارکوں کی کمک ملنے کے باوجود مودی شاہ اکیلے کیجریوال کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں ناکام رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اتنی ہی مالدار پارٹی کے نئے نویلے کل ہند صدر جے پی نڈا نے جو 40 عدد انتخابی جلسے اور روڈ شو منعقد کئے سو الگ۔ نفرت کی سوداگری ، جہل کی برسات، گالیوں کی بوچھااور جذبات و تعصب کی آندھیاں برپا کی گئیں حتی کہ چھوٹے بڑے تمام شاہ و یوگی گلی گلی گھر گھر پہنچ کر ہاتھ پھیلاتے دیکھے گئے لیکن سب مل کر بھی دلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری کو اپنے ٹویٹ کی رسوائی سے بچا نہیں سکے۔بہر حال انتخابات ہو چکے، نتائج بھی آگئے لیکن ایک محاذ اور پڑاؤ کا مرحلہ ہی پار کیا گیا ہے، طویل جدو جہد کے اندیشوں کے بیچ ابھی جمہوریت کے حوالے سے کئی سوالات جواب طلب ہیں۔جمہوریت کے فعال،کارکرد اور زندہ ہونے کا ایک ثبوت انتخابات بھی ہوتے ہیں۔ جمہوریت کی تعریف میں یہ چیز شامل ہے کہ تمام یا اہل شہریوں کے ذریعے عوامی نمائندوں کے توسط سے نظام حکومت کی تشکیل ہو۔تکثیری معاشرے میں جمہوریت کوایسا ہونا چاہئے جس میں اس کے تمام اجزاکی برابر کی شراکت داری بھی ہو۔ جمہوریت کی ضد ڈکٹیٹرشپ ہے۔
در اصل جمہوریت ٹکی ہوتی ہے قانون کی حکمرانی، پریس کی آزادی ، حقوق ِ انسانی کا احترام، سرگرم سیاسی عمل اور باشعور شہریوں کے اصولوں پر ! جمہوریت کا ایک خاصہ معاشرے کو درپیش ایشوز اور چیلنجز پر کھلی لیکن مہذب بحث کرانا بھی ہوتا ہے۔ لیکن ریاست ِ دلی کی پوری انتخابی مہم پر ایک سرسری نظر ڈالنے ہی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ انتخابی مہم کا معیار اتنا گر گیا تھا جتنا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انتخابی مہم کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ سیاسی جماعتیں اپنے ووٹروں کو اپنے اپنے ایجنڈے اور پارٹی کی فکر نیز مجوزہ عوامی بہبود کے لیے ان کے خاکوں کو اپنے باشندگان ملک تک لے کر جائیں۔ حکمراں جماعت ہو یا حزب اختلاف دونوں ایک دوسرے کے ایجنڈے، افکار اور حکمرانی کے منصوبے کے مثبت و منفی پہلوئوں پر فکری مباحث منعقد کریں۔ ساتھ ہی عوام کو ایک بہتر نمائندہ منتخب کرنے میں سیاسی بحثوں کے ذریعے سے مدد و رہنمائی مقصود ہوتی ہے کیوں کہ عوام بھی انتخابی تشہیری مہم کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں ۔لیکن دلی انتخابات کے دوران عوام اور عوام کے جذبات اور ان کے ایشوز کے ساتھ جیسا کھلواڑ کیا گیا اسے سیاسی بددیانتی بلکہ بدتمیزی نا کہا جائے تو اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ کو کھلم کھلا ’’دہشت گرد‘‘ کہنا۔ گولی چلانے والے دہشت گرد کی اصلی شناخت اجاگر ہونے سے قبل ایک مخصوص میڈیا حلقے کے ذریعے انتہا درجے کی نفرت انگیز مہم چھیڑ دینا اور ایک دوسرے کو نامناسب الفاظ کے ذریعے مخاطبت بلکہ اس سے آگے بڑھ کر گالی گلوچ اور دھمکی آمیز الفاظ کا استعمال دھڑلے سے کیا گیا۔
اگرچہ حکمراں وزیراعلیٰ نے استقامت اور صبر و ثبات سےکام لیا اور اپنی حصولیابیوں اور پانچ سالہ کارکردگی پر انتخابی مہم کو مرکوز رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی اور پولرائزیشن بمقابلہ ’’کام‘‘ کے بیانیہ (Narrative) کو لے کر چلتے رہے۔ دوسری طرف سام، دام، دَنڈ، بھید جیسے ہر جائز و ناجائز حربے کو جائز ٹھہرانے والے ٹولے نے کبھی پاکستان تو کبھی پرامن شاہین باغ کے احتجاجیوں اور بلاآخر متشدد و اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ انداز کو نہ صرف روا رکھا بلکہ انھیں اس مذموم فعل کی علانیہ پشت پناہی بھی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
مہم کی سطح کاپست ہوجانا، زبان و لہجہ کاگرجانا، ایجنڈے سے عاری جذباتی مہم جوئی وغیرہ کی ضرورت اسی کو پڑسکتی ہے جو اپنے ایجنڈے یا اپنے کاموں کو لے کر پراعتماد نہ ہو۔ انتخابی مہم تو ایشوز اور خدمات کی بنیاد پر چلنی چاہئے اور آئندہ کے منصوبوں کو اپنے مینی فیسٹو کے ذریعے پیش کیا جانا چاہئے۔ لیکن تمام اہم سیاسی جماعتوں کے مینوفیسٹو ووٹنگ سے چند دن قبل تک جاری ہوتے رہے۔ ایسے میں سیاسی منشور عوام تک بھلا کیسے پہنچے گا؟ پھراس کے مشمولات پرعوامی بحث کیوں کر ہوسکے گی؟ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتیں منشور کو ایک رسم اور روایت تک محدود رکھنا چاہتی ہیں۔ تاکہ غیرحقیقی ایشوز کو اچھال کر عوامی جذبات کا استحصال کیا جاسکے اور برآنگیختہ کیڈرمویلائزیشن کے ذریعے ووٹ حاصل کرنا آسان ہو۔مانا جاسکتا ہے کہ دلی انتخابات نے اس بار ایک نچلی سطح تک گرنے کا ریکارڈ قائم کیا اور اس کے بمقابلہ ملک کی انتخابی سیاست میں پہلی بار ایک حکمراں سیاسی جماعت اپنی پانچ سالہ کارکردگی کو بنیاد بناکر پوری انتخابی مہم میں ایک مثبت ایجنڈے کے ساتھ ڈٹی رہی جو کہ ایک خوش آئند عمل کہا جاسکتا ہے۔

