افروز ساحل،دہلی

ہر دور میں بعض ایسی شخصیتیں پیدا ہوتی ہیں جنہیں بجا طور پر تاریخ ساز کہا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین بھی انہی تاریخ ساز ہستیوں میں ایک ہیں۔ وہ تحریک خلافت کا دور تھا۔ ستمبر 1920 میں کلکتہ کانگریس کے خصوصی اجلاس میں گاندھی جی نے یہ تحریک پیش کی کہ ملک کی آزادی کے لیے سرکاری تعلیم کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے، یعنی برطانوی حکومت سے اسکولوں اور کالجوں کے لیے سرکاری گرانٹ نہ لی جائے۔ مہاتما گاندھی اسی سوچ کے ساتھ اس وقت ملک کا دورہ کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے برطانوی حکومت کے ساتھ عدم تعاون کی اپیل کر رہے تھے۔ 

11 اکتوبر 1920کی شام گاندھی جی علی برادران کے ساتھ علی گڑھ پہونچے۔ 12اکتوبر کو گاندھی جی علی گڑھ کے یونین ہال جسے ان دنوں سیڈن ڈبٹنگ کلب کے بھی نام سے جانا جاتا تھا، میں ایم اے او کالج کے طلبہ سے ملے اور خلافت تحریک کے سلسلے میں اپنی باتیں رکھیں۔ علی برادران نے بھی تقریر کیں۔ لیکن سچ پوچھیے تو ان سب لوگوں کے تقریروں کا یہاں کے زیادہ تر طلبہ پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ لیکن کچھ طلبا نے یہ ضرور سوچا کہ مسلمانوں کے اس عظیم الشان علمی مرکز میں خدمتِ اسلام اور خدمتِ ملک کے نام پر کچھ قربانی کا مطالبہ ہو اور ایک حلقہ سے لبیک کی آواز نہ نکلے؟ ان طلبا نے رات ہی رات مشورہ کیا کہ اب جو بھی ہو، ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ صبح ہوتے ہوتے ان کی تحریک پر اسی یونین ہال میں پھر جلسہ ہوا۔ اس جلسہ کا رنگ کچھ اور تھا۔ جوشیلی تقریریں ہورہی تھیں۔ نعرے لگ رہے تھے۔ اسی میں کسی نے اٹھ کر یہ کہا کہ ہمیں بے شک اس ادارہ کو چھوڑنا چاہیے لیکن جو لوگ ہمیں یہاں سے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اس سے بہتر تعلیم کا انتظام اپنے سر لیں۔ ذاکر حسین جو اس وقت ایم اے اور ایل ایل بی کے طالب علم تھے، ایک عرصہ سے بیمار تھے، ایک کونے میں بیٹھے یہ سب سن رہے تھے، ان سے اب رہا نہیں گیا انہوں نے ایک زور دار تقریر کی اور ایک جداگانہ تعلیم گاہ کے قیام کی مدلل تائید کی۔ 

ذاکر حسین صاحب اس وقت اسسٹنٹ لکچرر مقرر ہوئے تھے۔ ان کے ایک دوست سید محمد صاحب اٹھے اور کہنے لگے، یہ شخص میرا دوست ہے، یہ اچھا اور سچا آدمی ہے، مگر اس وقت اس کے سینہ میں شیطان گھس گیا ہے، یہ اپنی تنخواہ کو محفوظ کرنا چاہتا ہے، اس لیے یہ ترکیب کر رہا ہے کہ وقت ٹل جائے اور ہم کچھ نہ کر پائیں۔۔۔ ذاکر صاحب جن کا چہرہ نقاہت سے زرد تھا اور سارا بدن پسینہ سے تر تھا، پھر کھڑے ہوئے اور اس دفعہ ان کی تقریر نے لوگوں کے خیالات کا رخ بدل دیا، جب انہوں نے یہ کہا کہ میں اپنی لکچراری سے مستعفی ہوتا ہوں تو سب کے منہ بند ہوگئے۔ پس جامعہ ملیہ اسلامیہ کا خیال لوگوں کے ذہن میں انہی جوشیلے، تجربہ کار، پر خلوص اور آمادہ عمل نوجوانوں کے باہمی مشورہ سے پیدا ہوا۔ ایک نئی تعلیم گاہ کی یہ تجویز علی برادران، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر انصاری، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی اور سارے مسلمان اہل فکر تک پہونچی۔ اس مطالبہ میں ایسی صداقت تھی کہ سب نے تسلیم کیا کہ قوم کو اپنے نوجوانوں کے اس مطالبے کو ماننا چاہیے۔ بس یہی مطالبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کی اصل وجہ بنا۔ 

ڈاکٹر ذاکر حسین جامعہ کے پہلے طالب علم تھے، جنہوں نے اسی دوران پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت جامعہ کے لیے اس حد تک اہم ہو گئی کہ یہ دونوں نام ایک کے لیے لازم و ملزوم بن گئے۔ 

ذاکر حسین صاحب اعلیٰ کے لیے ستمبر 1922 میں جرمنی کے شہر برلن چلے گئے۔ لیکن جب جامعہ کا نازک دور آیا اور اس کو بند کر دیے جانے کی بات کی جانے لگی تب ذاکر صاحب نے وہاں سے خط لکھ کر کہا، میں اور میرے چند ساتھی جامعہ کی خاطر اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تیار ہیں لہذا ہماری واپسی تک جامعہ کو بند نہ کیا جائے۔ ان کے اس خط کے بعد جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ کا ایک وفد دہلی میں حکیم اجمل خان صاحب سے ملا۔ وفد کے اراکین نے حکیم صاحب سے درخواست کی کہ وہ ذاکر صاحب کے آنے تک جامعہ کو بند نہ ہونے دیں۔  حکیم اجمل خان صاحب نے جب ان چیزوں کا ذکر مہاتما گاندھی سے کیا اور کچھ مایوسی ظاہر کی تو گاندھی جی نے کہا کہ جامعہ کو تو چلانا ہی ہوگا۔ بتا دیں کہ 28 جنوری 1925 کو دہلی کے قرول باغ مقیم حکیم صاحب کی رہائش گاہ شریف منزل میں جامعہ کی فاؤنڈیشن کمیٹی کا جلسہ ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جامعہ کو باقی رکھنا ہے۔ دوسرے دن یعنی 29 جنوری کو گاندھی جی بھی موجود تھے۔ انہوں نے حکیم صاحب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات اور مالی پریشانیوں کے باوجود جامعہ کو چلانا ہی ہوگا، بھلے ہی اس کے لیے مجھے بھیک ہی کیوں نہ مانگنی پڑے۔ عبد الغفار مدھولی صاحب اپنی کتاب ’جامعہ کی کہانی‘ میں گاندھی جی کی اس بات کو اس طرح لکھتے ہیں۔’’اگر آپ کو روپیے کی دقت ہے تو میں بھیک مانگ لوں گا‘‘۔ اس پرحکیم صاحب نے کہا ’’گاندھی جی کی اس بات سے میری ہمت بندھی اور میں نے طے کر لیا کہ جامعہ کو ہرگز بند نہ ہونے دیا جائے گا۔‘‘       فروری 1926میں ذاکر حسین صاحب محمد مجیب اور ڈاکٹر عابد حسین برلن سے دہلی آ پہونچے اور انہوں جامعہ کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس کے کچھ ہی مہینوں بعد جون 1926میں ذاکر حسین اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ گاندھی جی سے ملنے ان کے سابرمتی آشرم گئے۔ گاندھی جی سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد ذاکر حسین صاحب لگاتار گاندھی جی سے ملتے رہے اور ہر مسئلے پر ان سے بات چیت کرتے رہے۔ گاندھی جی کو بھی ہمیشہ ان کی فکر رہی۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد جب گاندھی جی 9ستمبر 1947کی صبح دہلی اسٹیشن پہنچے تو ان کا پہلا سوال یہی تھا کہ ’کیا ذاکر حسین خیریت سے ہیں؟ کیا جامعہ ملیہ اسلامیہ محفوظ ہے؟‘ اتنا ہی نہیں، دوسرے ہی دن صبح صبح اپنا بھروسا پکا کرنے کے لیے خود جامعہ آئے۔ 

آج جب ہم جامعہ کا سو سالہ جشن منانے جارہے ہیں تو ہمیں ذاکر صاحب کا وہ بیان یاد رکھنا چاہیے جو انہوں نے جامعہ کی سلور جوبلی کے موقع پر کہا تھا’’ جب بھی جامعہ میں کسی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے تو میرا دل تھرتھراتا ہے۔ ایسے موقعوں سے فائدہ اٹھا کے میں اہل جامعہ کو یاد دلاتا ہوں کہ عمارتوں کی کثرت کسی ادارے کے لیے قابل فخر نہیں ہے۔ اکثر عمارتیں یا تو مقبرے ثابت ہوتی ہیں یا قید خانے۔ اگر عمارت میں رہنے والے اصل مقصد کو بھول جائیں تو وہ عمارتیں ان کے مقاصد اور ارادوں کا مقبرہ بن جاتی ہیں۔ اگر عمارتیں ہی مقصود بالذات بن جائیں تو وہ جیل خانہ ہیں، جن سے حوصلوں، امنگوں اور ولولوں کو نکلنے کی راہ نہیں ملتی۔ جامعہ کی پہلی عمارت کا سنگ بنیاد رکھتے وقت میں نے کہا تھا کہ کہیں ہم لوگ عظیم الشان اور فلک بوس عمارتوں میں بیٹھ کر اپنے مقاصد کو نہ بھول جائیں۔ اگر ہم ایسا کریں تو آئندہ آنے والی نسلوں کو یہ حق ہوگا کہ ہم کو ان عمارتوں سے دھکے دے کر نکال دیں اور ہمارے مقاصد اور ارادوں کے ان مقبروں کو گرا دیں۔ مجھے امید ہے کہ جامعہ والے اس مقصد کو نہیں بھولیں گے‘‘۔

بتا دیں کہ ڈاکٹر ذاکر حسین 8فروری 1897کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ سن 1907 میں جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا تو پورا خاندان اتر پردیش کے قائم گنج منتقل ہو گیا۔ تب ذاکر حسین کا داخلہ اٹاوا کے اسلامیہ ہائی اسکول میں ہوا۔ اس کے بعد آگے کی تعلیم کے لیے علی گڑھ گئے۔ علی گڑھ کے ایم اے او کالج کے بعد معاشیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے جرمنی کی برلن یونیورسٹی گئے اور واپس لوٹ کر جامعہ کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ آگے چل کر یہی ذاکر حسین اس ملک کے ایک عظیم آزادی پسند محب وطن، مشہور ماہر تعلیم اور ہندوستان کے تیسرے صدر بنے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین 1926سے 1948تک جامعہ کے وائس چانسلر رہے۔ ان 22سالوں میں جامعہ کی کشتی کو ہر طرح کے طوفانوں سے بچاتے ہوئے آگے بڑھاتے رہے، جب تک ملک آزاد ہوا تب تک وہ ماہر سیاست داں بن چکے تھے۔ 1948 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنائے گئے۔ انہوں نے 1956 تک یہاں اپنی خدمات انجام دیں۔ پھر علی گڑھ کو خدا حافظ کہہ کر دوبارہ جامعہ لوٹ آئے۔ 1957میں بہار کے گورنر بنائے گئے۔ 13مئی 1962کو نائب صدر کی حیثیت سے حلف لیا۔ ساتھ ہی 1963میں دوبارہ جامعہ کے چانسلر بنے۔ اسی سال بھارت رتن سے بھی انہیں نوازا گیا۔ انہوں نے 1967میں صدر کا عہدہ سنبھالا۔ غور طلب رہے کہ ان کی ہی صدارت میں ’’یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن‘‘ تشکیل دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پریس کمیشن آف انڈیا، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، یونیسکو، بین الاقوامی تعلیمی خدمات اور سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سے بھی وابستہ رہے۔ 3مئی 1969کو صبح 11بجکر 20 منٹ کو اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے۔ آج بھی جامعہ میں موجود ان کی قبر یہاں کے لوگوں کو ان کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ جامعہ ان کے مقاصد سے بہت دور ہو چکی ہے۔ آج جب جامعہ کے طلبہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سڑکوں پر ہیں تو ان کو یاد کیا جانا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ وائس چانسلر رہتے ہوئے ہمیشہ آزادی کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے اپنے طلبہ کو بھی بھیجتے رہے۔