قربان علی

دہلی اسمبلی الیکشن کے یہ نتائج بہت بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان انتخابات میں دہلی کی عوام نے فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کو شکستِ فاش دی اور ان لوگوں کو جو قانون پر اعتماد، ملک کے آئین پر یقین اور دل میں ملک کی محبت رکھنے والے ہیں کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ یہ کاٹھ کی ہانڈی روز روز نہیں چڑھا کرتی، کئی بار ہم نے یہ دیکھا ہے۔ لوک سبھا الیکشن میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس ملک کی اکثریت نے ایک خاص ایجنڈے کے تحت حکومت کو چن لیا ہے۔ لیکن اس کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات، جو ملکی عوام کے اصل ایشوز جیسے روزگار، معیشت، کسان، مزدور، غریب وغیرہ عنوانات پر لڑے گئے تھے تو بی جے پی ان میں ناکام رہی۔

دہلی میں عام آدمی پارٹی نے بجلی، پانی، تعلیم اور بہتر ہیلتھ سروسیز کے ایجنڈے پر انتخاب لڑا۔ کوئی جذباتی اور عوام کو بے جا جوش میں لانے والا ایشو نہیں اٹھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دہلی کی عوام نے شاندار اکثریت کے ساتھ تیسری بار اروند کیجریوال کو دہلی کا اقتدار سونپا۔ 

بی جے پی جو دہلی میں 22 برس سے اقتدار سے باہر ہے اسے 5 برس مزید اقتدار سے باہر رہنا پڑے گا۔ جبکہ دہلی، جن سنگھ کے زمانے سے اس کا گڑھ رہا ہے اور ابھی بھی میونسپل کارپوریشن میں اسی کا قبضہ ہے۔

یہ نتائج جو قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے، قومی سطح پر ایک نیا سفر شروع ہونے کی امید دلاتے ہیں۔ چونکہ اسی سال بہار میں اور اس کے بعد مغربی بنگال میں الیکشن ہونے والے ہیں، اور دوسری طرف ملک میں معیشت کا حال ہے جو فی الوقت آئی سی یو میں ہے اور جس کے اگلے دو تین ماہ میں کچھ اچھے نتائج نکلنے کی توقع نہیں ہے۔ یہ تمام چیزیں بی جے پی کے لیے خوش آئند یا اچھی علامت نہیں ہیں۔ 

اس الیکشن سے اس بات کا بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جو فرقہ وارانہ سیاست ہے یا جو لوگوں کو بانٹنے والی، ملک کو توڑنے والی طاقتیں ہیں اس کو لوگ اب پسند نہیں کرنے لگے ہیں۔ ملک کا مزاج جس طرح شروع دن سے سیکولر رہا ہے، آگے بھی ویسا ہی رہے گا۔ دہلی کے نتائج بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے آنکھیں کھولنے بلکہ نیند اڑانے والے ثابت ہو چکے ہیں۔ ان کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ اس ملک کا مزاج اب فرقہ پرستی کا نہیں رہا اور یہ ملک سیکولر سیاست کو پسند کرتا ہے۔ بھلے ہی لوک سبھا الیکشن میں لوگوں نے جملے بازی، جھوٹے وعدے اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر ووٹ دیا ہو، لیکن جلد ہی ان کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں۔ امید ہے کہ آگے آنے والے انتخابات میں مزید اچھے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ اور ہمارا ملک مزید مضبوط و مستحکم ہوگا۔ 

(قربان علی سینیئر صحافی ہیں۔ ان کا یہ مضمون افروز عالم ساحل کے ساتھ بات چیت کے بعد لکھا گیا ہے۔)