جے جے احمد

دہلی کے انتخابی نتائج محض کیجریوال کی جیت نہیں ہیں بلکہ انتخابات میں جتنی کیجریوال کی جیت ہوئی ہے اسی قدر مودی کی ہار بھی ہوئی ہے۔ یہ ریاستی سطح کا کوئی عام انتخاب نہیں تھا۔ یہ انتخاب ایک ایسے وقت ہوا جب ملک سیکولر اور جمہوری ساکھ کے معاملے میں شدید بحران سے دوچار ہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور اس سے پہلے طلاق ثلاثہ قانون، آرٹیکل ۳۷۰ کا استرداد اور رام مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے عوامی جذبات کو جو ٹھیس پہنچی اس کا عوام کے دل و دماغ پر زبردست دباؤ تھا۔ سی اے اے کو منظوری مل جانے سے نہ صرف مسلمانوں کے دل و دماغ میں خوف پیدا ہوا بلکہ دیگر طبقات کے سیکولر افراد کو بھی محسوس ہونے لگا کہ مودی حکومت کسی بھی طرح اپنے ہندتوا کے ایجنڈے کو بلا کسی تردد کے آگے بڑھانے پر آمادہ ہے۔ سی اے اے کے خلاف ہندوستانی عوام کے اٹھ کھڑے ہونے اور یونیورسٹیوں نیز ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاجوں میں تمام طبقات کی شمولیت سے ہندتوا لابی میں بوکھلاہٹ پیدا ہوگئی ہے۔ بی جے پی کو محسوس ہوا کہ دہلی کے انتخابات اس کے لیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہیں کہ ملک اس کے ساتھ ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ اور ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ساتھ لے کر دہلی کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور ایک خاص کمیونٹی کے خلاف بھڑکاؤ بھاشنوں اور نفرت انگیز بیانات سے دہلی کو گویا میدانِ جنگ بنا دیا۔ انہیں یقین (بلکہ وہم) ہوگیا تھا کہ دہلی کی ۸۰ فیصد سے زائد غیر مسلم آبادی ان کے حق میں اپنا ووٹ دے گی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے شاہین باغ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو دشمن کے طور پر پیش کرنے کا کوئی بھی موقع نہیں گنوایا۔ ابھی چند ماہ پہلے انہوں نے بڑی اکثریت کے ساتھ لوک سبھا کا چناؤ جیتا تھا۔ اس سے انہیں مغالطہ ہوا کہ وہ لوگوں کا فطری انتخاب ہو سکتے ہیں لیکن ان کی تمام کوششوں پر آج \"جھاڑو\" پھر گئی اور سیکولرزم کی جیت ہوئی۔ دہلی کے لوگوں نے واضح کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو مودی کے تقسیم کرنے والے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ نفرت ایک یا دو انتخابات میں جیت سکتی ہے لیکن جلد ہی لوگوں کو احساس ہوگیا کہ نفرت صرف افراتفری اور انارکی کی طرف لے جاتی ہے اور آخرکار سبھی کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

 گزشتہ دو برسوں میں، بی جے پی کو تقریبا تمام ریاستی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پرا ہے۔ اگر وہ ہریانہ اور کرناٹک میں اقتدار میں ہیں بھی تو یہ جیت سے کہیں زیادہ  جوڑ توڑ کے سبب ہے۔ وہ جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور پنجاب جیسی بڑی ریاستیں ہار چکے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی اب ان کی حکومت نہیں ہے۔ تاہم جب بھی وہ شکست سے دوچار ہوئے، تو انہوں نے اور ان کے حامی میڈیا نے ہار کا ٹھیکرا مقامی لیڈروں کے سر پھوڑ کر مودی کو بچانے کی کوشش کی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ریاستی انتخابات میں بڑے بڑے پروپیگنڈوں، بانٹنے والی سیاست اور مودی کی بڑی بڑی ریلیوں کے سبب مقامی مسائل کا محض جزوی اثر دیکھا گیا۔ انتخابی نتائج سے لوگوں کا مودی کے اوپر سے بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ اگر لوک سبھا انتخابات میں انہیں جیت ملی بھی تو ان کے پچھلے پانچ سال کی کاکردگی پر نہیں ملی بلکہ  پلوامہ کے ذریعہ پیدا کئے گئے جذباتی جنون کے سبب ایسا ممکن ہوا تھا۔ اگر پلوامہ کا واقعہ نہپیں ہوتا تو وہ یا تو اقتدار میں آتے ہی نہیں اور اگر آتے بھی تو نہایت کم اکثریت کے ساتھ۔ ایسی صورت میں یا تو وہ ہندتو کے ایجنڈے پر اتنی عجلت میں عمل پیرا نہیں ہوتے اور اگر ایسا کرتے تو اب تک ان کی حکومت گرچکی ہوتی۔ 

اگر مسلمانوں نے کیجریوال کو ووٹ دیا ہے تو ایسا اس لئے نہیں ہے کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو نوٹ کیا تھا کہ کیجریوال نے سی اے اے پر مودی سے کھلے عام اختلاف کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کیا، انہوں نے آرٹیکل ۳۷۰ پر بھی مودی کی حمایت کی۔اگر مسلمانوں نے  کیجریوال کو ووٹ دیا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں، بلکہ انہیں اپنے دشمن کا دشمن تصور کرتے ہوئے ایسا کیا ہے۔ اب کیجریوال کو ثابت کرنا ہے کہ وہ صرف الیکشن کی وجہ سے بی جے پی کے دشمن نہیں ہیں بلکہ انہیں دل سے ان کے ایجنڈے سے نفرت ہے۔

دہلی ملک کے کسی اور صوبے یا شہر کی مانند نہیں ہے۔ یہ ملک کا دل ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ مودی دل کی دھڑکنوں کو سنیں گے۔