افروز عالم ساحل
ملک میں جہاں ایک طرف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اکثر عدالتیں انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں، وہیں سالانہ بجٹ میں وزارت قانون و انصاف کا بجٹ کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ عام بجٹ کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 2020-2019 میں وزارت قانون و انصاف کا بجٹ 3173.36 کروڑ روپیے تجویز کیا گیا تھا لیکن اس سال یعنی2021-2020 میں اسے کم کر کے 2200 کروڑ روپیے کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا بجٹ بھی پچھلے سال کے بجٹ 286.68 سے گھٹا کر اس سال 270 کروڑ روپیے کیا گیا ہے۔
ملک کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے تصرف کے سوال پر وزیر قانون روی شنکر پرساد ہمیشہ عدالتی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ لیکن آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ مرکزی حکومت نے جوڈیشیری کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے جاری کیے جانے والے فنڈ کو بھی کم کر دیا ہے۔ سال 2020-2019 میں اس منصوبہ کے لیے 982 کروڑ روپیے مختص کیے گئے تھے، لیکن اس سال 2021-2020 میں اسے گھٹا کر 754 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
اتنا ہی نہیں، نیشنل جوڈیشیل اکیڈمی کا بجٹ بھی اس بار کم کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2020-2019 میں اس اکیڈمی کے لیے 16 کروڑ روپیے مختص کیے گئے تھے لیکن رواں مالی سال 2020-2021 میں اسے کم کر کے 11 کروڑ روپیے کر دیا گیا ہے۔ یہی کہانی نیشنل لیگل سروسیز اتھارٹی کی بھی ہے۔ گزشتہ مالی سال 2020-2019 میں اس اتھارٹی کے لیے 140 کروڑ روپے مختص کیے گیے تھے لیکن مالی سال 2021-2020 میں اسے کم کر کے 100 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ وہیں اس بار انڈین لا انسٹی ٹیوٹ کو صرف 3 کروڑ روپیوں کا فنڈ دیا گیا ہے۔ فنڈ کی اس کہانی سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت، ملک کے جوڈیشیل سسٹم کو بہتر بنانے کے معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہندوستانی جوڈیشیری سسٹم کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ جبکہ یہ حکومت بجٹ میں مسلسل تخفیف کر رہی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ملک کی جوڈیشیری کے لیے مختص بجٹ، پورے بجٹ کا محض 0.1 فیصد سے 0.4 فیصد ہے۔ ایسی صورتحال میں آنے والے وقت میں آپ ملک کے اندر انصاف کے نظام کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ملک کی عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات؟
ملک کی سپریم کورٹ سے لے کر مختلف عدالتوں میں مقدموں کا بوجھ اس قدر بھاری ہو چکا ہے کہ انصاف کی رفتار دھیمی سے دھیمی تر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ایک دن ایسا آئے گا کہ اس ملک کا عام شہری عدالتوں سے انصاف کی توقع ہی چھوڑ بیٹھے گا۔
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود اعداد وشمار کے مطابق یکم فروری 2020 تک کل 59,670 مقدمات معاملے زیر التوا ہیں۔ وہیں قومی جوڈیشیل ڈیٹا گریڈ کے 07 فروری 2002 تک کی دستیاب اطلاعات کے مطابق ملک کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں 45.87 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں۔ اگر ملک کے مختلف ضلعی اور ما تحت عدالتوں کی بات کریں تو ان میں 3.21 کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں۔
ہفت روزہ دعوت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے امروہہ کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کہتے ہیں کہ حکومت صرف سستے انصاف کی فراہمی کی بات کرتی ہے، لیکن سستا انصاف ملے گا کیسے؟ سہارنپور کے لوگوں کو انصاف کے لیے 800 کلومیٹر کا سفر طے کر کے الہ آباد جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں سستا انصاف کیسے ممکن ہوسکے گا؟ سچی بات یہ ہے کہ حکومت نے اسے کبھی بھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔
کنور دانش علی مزید کہتے ہیں کہ آپ دیکھیے کہ جیلوں میں تعداد کن لوگوں کی ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ آج دلت، قبائلی، پسماندہ اور اقلیت سماج سے تعلق رکھنے والے بیش تر افراد جیلوں میں بند ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کے لوگوں نے ان پر سب سے زیادہ ظلم و ستم کیا ہے۔ انہیں انتظامیہ یا حکومت سے انصاف نہیں ملتا، پھر انہیں مجبوری میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ کنور دانش علی ملک کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے تصرف کا سوال لوک سبھا میں بھی اٹھا چکے ہیں۔
غور طلب ہے کہ لا کمیشن نے 1987 میں کہا تھا کہ دس لاکھ لوگوں پر کم از کم پچاس جج ہونے چاہئیں، لیکن آج بھی دس لاکھ افراد پر ججوں کی تعداد پندرہ بیس کے لگ بھگ ہی ہے۔ ہمارے ملک کی عدالتوں میں جس رفتار سے مقدمات نمٹائے جا رہے ہیں اگر سب کچھ اسی سست رفتاری سے چلتا رہا تو زیادہ تر لوگوں کو اپنی زندگی میں انصاف مل ہی نہیں پائے گا۔ تو پھر ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ حکومت ہماری جوڈیشیری کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا چاہتی ہے؟

