ہارون ریشی ،سری نگر

جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دائر مفاد عامہ کی کئی عرضداشتوں کی شنوائی کے بعد 10جنوری کو ملک کی اس سب سے بڑی عدالت نے حکومت کو فوراً انٹر نیٹ پر لگائی گئی پابندی پر  نظر ثانی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس اہم فیصلے میں انٹرنیٹ تک رسائی کو شہریوں کا ایک ’’بنیادی حق ‘‘قرار دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومت ’غیر معینہ مدت‘ کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی نہیں عاید کرسکتی۔ سپریم کورٹ نے اس حکم نامے میں رہنما اصول طے کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ آئین کی دفعہ 19کے تحت لوگوں کا انٹرنیٹ کی وساطت سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا در اصل ان کے اظہار رائے کی آزادی سے منسلک ہے۔ حالانکہ انٹرنیٹ سے متعلق شہریوں کے حقوق کے بارے میں یہ کوئی پہلا عدالتی فیصلہ نہیں ہے۔ سال 2016ء میں بھی فاضل عدالت نے ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انٹرنیٹ کے استعمال کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا تعلق اظہار رائے کی آزادی سے منسلک ہے اور حکومت کسی صورت میں شہریوں سے اُن کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔ہندوستان  میں کیرالا پہلی ریاست ہے ،جس نے سرکاری طور پر انٹرنیٹ تک رسائی کو شہریوں کا حق تسلیم کیاہے۔ چند ماہ پہلے ہی کیرالا میں ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سری نارائن گرو کالج کی پرنسپل کو ہدایت دی کہ وہ فہیمہ شاہین نامی اُس طالبہ کو کالج میں دوبارہ داخل کرائیں، کالج میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کی بنا پر جس کا اخراج کردیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں جسٹس پی وی آشا نے آئین کی دفعہ21کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی شہری کو انٹرنیٹ استعمال کرنے سے نہیں روکا جاسکتا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کے عدالتی فیصلے صرف بھارت میں سامنے آئے ہیں۔ بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس نوعیت کے معاملوں میں عدالتوں نے اسی طرح کے فیصلے سنائے ہیں،بلکہ انٹرنیٹ کے استعمال کے عوامی حق کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سال 2015ء میں اقوام متحدہ نے انٹرنیٹ سہولیات کو انسانی حقوق میں شامل کردیا ہے۔ ویسے بھی متمدن اقوام اور دُنیا کی حقیقی جمہوریتوں میں شہریوں سے یہ حق چھیننے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے، لیکن بھارت میں جب بات کشمیر کی ہو تو قومی سلامتی اور ’قومی مفاد‘ کے نام پر کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی گزشتہ سال پانچ اگست کو کیا گیا۔ مرکزی سرکار نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اس سے ریاست کا درجہ چھیننے اور دیگر قسم کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ نہ صرف انٹرنیٹ پر غیر معینہ مدت کے لیے روک لگادی بلکہ پری پیڈ موبائل سروس کو بھی یک لخت معطل کردیاگیا۔ اُس وقت کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح کی پابندی چند دنوں یا چند ہفتوں کے لیے نہیں بلکہ چھ ماہ سے بھی زاید عرصے تک نافذ رہے گی۔ آج کشمیر دُنیا کاوہ واحد خطہ ہے، جہاں کے شہریوں کو مسلسل چھ ماہ تک انٹرنیٹ سروس سے محروم رکھا گیاہے۔ دنیا میں اس نوعیت کی کوئی دوسری مثال کبھی اور کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔

10 جنوری کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد حکومت نے جموں کشمیر میں جزوی طور پر بلکہ برائے نام انٹرنیٹ سروس بحال کردی ہے۔ حکومت نے تین سو ایک ویب سائٹوں پر مشتمل ایک’ وائٹ لسٹ ‘مرتب کرکے جموں کشمیر کے لوگوں کو 2G اسپیڈ کے ساتھ ان ویب سائٹس تک رسائی فراہم کی ہے۔ ان ویب سائٹوں میں بیشتر سرکاری محکموں کی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔ ویسے بھی 2G اسپیڈ پر ان ویب سائٹوں تک رسائی حاصل کرنا ناممکن تو نہیں، لیکن ایک جاں گسل اور صبر آزما عمل ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں لوگ اس برائے نام انٹرنیٹ سروس پر جھنجلاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں۔

حالانکہ اب یہ افواہیں گردش کررہی ہیں شاید آنے والے کچھ دنوں میں حکومت انٹرنیٹ سروس کی موجودہ ا سپیڈ کو بڑھا کر اسے 4G کردے   ۔ اگر ایسا ہوا تو یقینا اس معاملے میں کشمیریوں کو لاحق پریشانی کچھ حد تک ختم ہوجائے گی ،کیونکہ مخصوص ویب سائٹوں تک ہی رسائی سہی، لیکن کم از کم انہیں مہینوں بعد مطلوبہ اسپیڈ پر انٹر نیٹ استعمال کرنے کا موقع تو ملے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اُس اقتصادی، معاشی اور نفسیاتی نقصان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے، جس سے یہاں کی آبادی کو گزشتہ چھ ماہ سے دوچار کر دیا گیا ہے؟انٹرنیٹ بند ہوجانے کے ساتھ ہی وادی میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ دورِ جدید میں ہر طرح کی تجارت انٹرنیٹ سے مربوط ہے اور ہر طرح کی تجارت کی کامیابی کا انحصار انٹرنیٹ سروس پر ہے۔ وادی کا سیاحتی، صنعتی، تجارتی، تعلیمی اور طبی نظام انٹرنیٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے تقریباً مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ مختلف تجارتی اور صنعتی شعبوں سے مربوط تنظیموں کے ایک اہم پلیٹ فارم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے اس ضمن میں ایک تحقیق کی تھی ،جس میں پایا گیا کہ انٹرنیٹ معطل ہوجانے کی وجہ سے کشمیر میں لاکھوں لوگ بے روز گار ہوگئے ہیں۔ وادی سے باہر کی نجی کمپنیوں اور دیگر قسم کے تجارتی اداروں سے وابستہ ہزاروں نوجوان اپنا روز گار کھو بیٹھے۔ انٹرنیٹ سروس بند کردیے جانے کے نتیجے میںان نوجوانوں پر جنہوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران اپنے نئے نئے تجارتی اور صنعتی پروجیکٹ شروع کیے تھے جیسے اُفتاد ہی نازل ہوگئی۔ حکومت نے سال 2008ء میں کشمیری خواتین اور لڑکیوں کو روز گار کے معاملے میں خود کفیل بنانے کے لیے کئی اسکیمیں متعارف کرائی تھیں اور خواتین سے منسوب ایک اداراہ ’’سینٹر فار وومن انٹر پرنیور‘‘ بھی قائم کیا تھا۔ سینکڑوں لڑکیوں نے ان اسکیموں سے استفادہ کرتے ہوئے نئے نئے اور بعض نرالے پروجیکٹ شروع کیے تھے لیکن انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے ان میں سے بیشتر کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا جب کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی بے روزگاری کا شکار تھی۔ صرف دو سال پہلے یعنی 2017ء میں اسٹاک ایکسچینج سینٹر نے جو بھارت میں معاشی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے انکشاف کیا تھا کہ ملک میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح جموں کشمیر میں ہے۔ اس جائزے میں یہاں کی بے روزگاری کی شرح  12.13 فیصد بتائی گئی۔ جبکہ 2016ء کی اکنامک سروے رپورٹ بھی یہ انکشاف ہوا تھا کہ جموں کشمیر میں 18سے29 سال کی عمر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد (24.6فی صد) بے روزگاری کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ بے روزگاری کو کم کرنے کے بجائے چھ ماہ تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھ کر حکومت نے اس میں اضافہ کے سوا کچھ نہیں کیا ہے۔

انٹرنیٹ پابندی کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان طبی اور تعلیمی شعبوں کا ہوا ہے۔ جہاں تک تعلیمی شعبے کا تعلق ہے چھ ماہ تک کشمیری طلبا ان ذرائع علم سے محروم رہے جو صرف انٹرنیٹ کی وساطت سے میسر ہوسکتے ہیں۔ جبکہ اسکالرز اور اسٹوڈنٹس کا ریسرچ ورک بھی بری طرح متاثر ہوگیا۔ اس کے علاوہ کشمیری طلباء کو مختلف کالجوں میں داخلہ لینے اسکالر شپ وغیر ہ کے لیے عرضیاں دینے اور پاسپورٹ وغیرہ کے آن لائن فارمز پُر کرنے کا کام نہیں کر پائے۔ اس طرح سے گویا معمولاتِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ چونکہ وادی میں تعلیمی ادارے مسلسل چھ ماہ سے بند پڑے ہیں اسکول اور کالجوں کے منتظمین نہ ہی سیلبس اور اسائن منٹس اَپ لوڈ کرسکے اور نہ ہی طلبا کو ان تک آن لائن رسائی مل پائی یہی حال طبی شعبے کا بھی رہا۔ عام طور سے مریضوں کے بعض اہم ٹیسٹس جن کے نمونے وادی سے باہر بھیجے جاتے ہیں کی رپورٹس بھی انٹرنیٹ کی وساطت سے ہی آجاتی ہیں۔ لیکن اس عرصے میں یہ ایک انتہائی دشوار گزار کام ثابت ہوا اور اس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ معالجین اور نیم طبی عملے کا ریسرچ اور ان کا آپسی تال میل بھی منقطع رہا۔ عمومی طور پر وادی کے اسپتال میں کینسر جیسے مہلک امراض میں مبتلا مریضوں کے بعض معاملات کے بارے میں صلاح و مشورے کے لیے بیرونی ممالک کے ماہرین سے رابطے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس عرصے میں یہ سب کچھ ناممکن ثابت ہوا۔ ان ساری مثالوں کی تفصیلات مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی وساطت سے مکمل طور پر منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بیرونی ممالک اور کئی اہم بین الاقوامی ادارے بار بار حکومت ہند پر کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران اگر کسی طبقے کو کچھ حد تک انٹرنیٹ سروس میسر رہی تو وہ میڈیا ہے۔ سرینگر میں محکمہ اطلاعات کے مرکزی دفتر میں دو چھوٹے سے کمروں میں چھ سات کمپیوٹر رکھے گئے ہیں جن پر کم از کم تین سو صحافیوں کا انحصار ہے۔ چیکنگ اور نام و پتہ دراج کرانے کے مراحل کے بعد جب صحافی ان کمروں میں داخل ہوجاتے ہیں تو اکثر اوقات یہاں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ ہر صحافی کو دس بیس منٹ یا آدھے گھنٹے تک انٹرنیٹ ’سہولت‘ حاصل کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس میڈیا سینٹر سے بمشکل فوٹو جرنلسٹس اور صحافی اپنا کام اپنے اپنے دفاتر کو بھیج پاتے ہیں۔ جبکہ مقامی اخبارات کو بھی انٹرنیٹ کی وساطت سے مواد حاصل کرنے کے لیے ان ہی چند کمپیوٹروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔حکومت نے پانچ اگست کے بعد صحافت پر کوئی اعلانیہ قدغن تو نہیں لگائی لیکن عملی طور پر صحافیوں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ثابت ہوا اور اس وجہ سے بیشتر صحافی تاریخ کے اس اہم مرحلے پر اپنے پیشے کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ مقامی صحافیوں نے اس عرصے میں اس پر کئی بار صدائے احتجاج بلند کیا لیکن اُن کا احتجاج نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوا۔

اب جبکہ حکومت نے اِن دنوں 2G کی اسپیڈ پر منتخب سائٹوں کو بحال کردیا ہے، سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی بدستور قائم ہے۔ تاہم اب کشمیریوں نے ان تک چور دروازے سے رسائی حاصل کرنے کی سبیل نکال لی ہے۔ لوگ اب اپنے موبائل فونز میں وی پی این سافٹ ویر انسٹال کرکے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ 

کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی کا معاملہ پچھلے چند ماہ کے دوران پوری دنیا میں موضوع بحث بنا رہا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل سروس پر پابندی کے بعد انگریزی اخبارات نے ’’سائبر کرفیو، انٹرنیٹ بین، ای کرفیو، ٹیلی کمونیکیشن بلا کیڈ‘‘ جیسی نئی اصطلاحات کا بھر پور استعمال کیا۔ اس دوران یہ بحث بھی جاری رہی کہ حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر پابندی کو کیا واقعی کوئی قانونی جواز حاصل ہے؟ در اصل حکومت نے یہ پابندی 134 سال پرانے قانون یعنی ’’انڈین ٹیلی گراف ایکٹ ‘‘ کے تحت لگائی ہے۔ برطانوی سامراج کے دور میں یہ قانون ہندوستانی شہریوں کو ٹیلی گراف پیغامات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجے سے روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے عصر حاضر کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ کئی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت بعض وجوہات کی بنا پر چند ویب سائٹس پر پابندی تو لگا سکتی ہے لیکن دنیا بھر کی تمام ویب سائٹس تک لوگوں کی رسائی روکنے کا اسے حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن عملی طور پر حکومت نے صرف تین سو ایک ویب سائٹوں تک رسائی کی اجازت دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ لوگ صرف ان ہی ویب سائٹوں تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ بہر حال یہ ایک قانونی بحث ہے اور اس پر کوئی حتمی رائے قائم کرنے کا حق کسی عدالت کو ہی ہے۔ لیکن یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے کشمیر میں انٹرنیٹ بند کرکے کشمیریوں کی معاشی اور دیگر معمول کی سرگرمیوں پر پابندی لگادی ہے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال شہریوں کا بنیادی حق ہے، یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ کشمیریوں کو اس ’بنیادی حق‘ مسلسل پچھلے چھ ماہ سے محروم رکھا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مودی سرکار یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر میں تعمیر و ترقی کی راہیں کھل گئی ہیں۔

( ہارون ریشی سری نگر سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔ 

رابطہ :haroonreshi@gmail.com)