افروز عالم ساحل
20 اپریل 1946کو گاندھی جی بالیکا آشرم گئے۔ پیارے لال کے مطابق، گاندھی جی بالیکا آشرم سے اپنی رہائش گاہ واپس جانے والے تھے۔ لیکن جامعہ ملیہ کے کچھ طلباء اور اساتذہ نے وہاں آکر ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق کبھی جامعہ بھی آئیں۔ گاندھی جی نے کہا ’’کبھی کا مطلب ابھی ہونا چاہیے۔ اتنی دور آکر آپ کی جامعہ میں گئے بغیر میں واپس نہیں جا سکتا۔‘‘ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گاندھی جی کا طلبا نے جس طرح استقبال کیا اس سے متاثر ہوکر انہوں نے کہا’’ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آ کر میں نے جامعہ کے پریوار کا رکن ہونے کا اپنا دعویٰ صحیح ثابت کیا ہے‘‘۔
اس کے بعد گاندھی جی نے لوگوں سے سوال پوچھنے کے لیے کہا۔ایک طالب علم نے سوال کیا ’’طلبا ہندو مسلم اتحاد کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
گاندھی کا جواب تھا ’’راستہ آسان ہے۔ اگر سارے کے سارے ہندو بھی آپ کو بھلا،برا کہیں تب بھی آپ (مسلمان) انہیں اپنا بھائی سمجھنا بند نہ کریں اور یہی مشورہ ہندوؤں کے لیے بھی ہے۔ کیا یہ ناممکن ہے؟ نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر ممکن ہے اور جو کام ایک فرد کرسکتا ہے وہ ایک گروہ کے لیے بھی ممکن ہے۔آج سارا ماحول آلودہ ہے۔ اخبارات ہر طرح کی اونٹ پٹانگ افواہیں پھیلا رہے ہیں اور لوگ بغیر سوچے سمجھے ان پر یقین بھی کر رہے ہیں۔ اس سے لوگوں میں گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے اور ہندو و مسلمان دونوں ہی اپنی انسانیت کو بھول کر آپس میں جنگلی جانور کی طرح سلوک کرنے لگتے ہیں۔ دوسرا فریق کیا کر رہا ہے، کیا نہیں، اس کا خیال کیے بغیر ہر انسان مہذب سلوک کرے، اسی میں اس کی خوبصورتی ہے۔ مہذب سلوک کے بدلے مہذب سلوک کرنا تو سودے بازی ہوئی۔ ایسا تو چور ڈاکو بھی کرتے ہیں۔ اس میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ انسانیت نفع و نقصان کا حساب لگایانہیں کرتی۔ اس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انسان کو اپنی طرف سے مہذب سلوک کرنا چاہیے۔اگر تمام ہندو میری بات مان لیں یا سارے مسلمان ہی میرے مشورے پر چلنے لگیں تو ہندوستان میں ایسا امن قائم ہوجائے گا جسے کوئی چھڑی یا لاٹھی نہیں توڑسکے گی۔ جب دوسرا فریق انتقام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھائے گا یا کوئی اشتعال انگیز کام نہیں کرےگا، تب شرارتی لوگ بیکار کے جھگڑوں سے جلد ہی بیزار ہوجائیں گے۔ ایک انجان قوت اس کے اٹھے ہوئے بازو کو پکڑ لے گی اور اس کا بازو اس کی تکلیف کو قبول کرنے سے انکار کردے گا۔ آپ سورج پر دھول پھینک کر دیکھیں، اس سے سورج کی چمک میں کمی نہیں آئے گی۔ ضرورت صرف روح میں عقیدت اور صبر و برداشت کو بسانے کی ہے۔ خدا مہربان ہے اور ناانصافی کو ایک حد سے تجاوز نہیں ہونے دیتا ہے۔اس ادارے کی تعمیر میں میرا بھی ہاتھ رہا ہے۔ اس لئے آپ سے اپنے من کی بات کہہ کر مجھے بیحد خوشی ہو رہی ہے۔ ہندوؤں سے بھی میں یہی بات کہتا رہا ہوں۔ آپ ہندوستان اور دنیا کے لیے مثال قائم کریں، یہ میری خواہش ہے۔ ‘‘
(مضمون نگار جامعہ کی تاریخ پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کی کتاب ’’جامعہ اور گاندھی‘‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔)

