(دعوت نیوز نیٹ ورک)

رہائی منچ کے صدر ایڈووکیٹ محمد شعیب نے دعوت سے خصوصی بات چیت میں این آر سی کے خلاف دیا نعرہ ’ہم مانیں گے نہیں پر، ماریں گے بھی نہیں‘ انہوں نے بتایا کہ ہمارے خلاف لکھنؤ میں تشدد بھڑکانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ ہم ہمیشہ گاندھی جی کے عدم تشدد کے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں۔ ہم نے این آر سی کے خلاف پرامن احتجاج کی اپیل کی تھی، ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم ماریں گے نہیں پر مانیں گے بھی نہیں۔ ہم نے گاندھی جی سے یہی سیکھا ہے۔ طالب علمی کے دور 1966 سے ہی میں اسی راستے پر چل رہا ہوں۔ 

 ایڈوکیٹ محمد شعیب نے پورے ایک ماہ بعد جیل سے رہائی کے بعد اپنی گرفتاری  کے بارے میں بتایا کہ مجھے 18 دسمبر کو ہی میرے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ 19 تاریخ کو رات میں تقریبا ساڑھے گیارہ بجے پولیس والے سی او سے بات کرانے کے بہانے  مجھے تھانے لے گئے۔ سب سے پہلے مجھ سے راجیو یادو کے بارے میں پوچھا گیا میں نے کہا راجیو اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں اور جب بھی لکھنؤ آتے ہیں مجھ سے ملنے ضرور آتے ہیں لیکن اس وقت کہاں ہیں مجھے نہیں معلوم۔ اس پر تھوڑی دیر بعد سی او حضرت گنج آئے اور مجھے گالیاں دینے لگے انہوں نے بھی راجیو کے بارے میں پوچھا میں نے گالی دینے سے منع کیا تو دھمکی دی کہ گالی ہی کیا تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو برباد کر کے رکھ دیں گے، تمہارے بیٹوں کو جیل میں ڈال دیں گے اسی طرح دھمکا کر چلے گئے۔ میں رات بھر بنا کمبل کے فرش پر بیٹھا رہا۔ 20 تاریخ کو تقریباً چار بجے مجھے جیل بھیجا گیا اس وقت تک مجھے پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا، کھانا تو بہت دور کی بات ہے۔جیل میں قید و بند کی صعوبتوں کے بارے میں بات چیت کرتے انہوں نے کہا کہ مجھے لوک تنتر سینانی کا درجہ حاصل ہے اس کے باوجود اس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ ایمرجنسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی میں جیل بھیجا گیا تھا لیکن آج  میں تو کہتا ہوں کہ ایمرجنسی سے بھی زیادہ برا حال ہے۔ ایمرجنسی کے دوران مجھے جیل میں بی کلاس دیا گیا تھا اور تھانے میں بھی مجھ سے کوئی بدسلوکی نہیں ہوئی تھی، سیاسی قیدیوں کو ایک بیرک میں ایک ساتھ رکھا گیا تھا، جبکہ اس بار مجھے عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا۔ میرے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، بلکہ میرے ساتھیوں کو تو مارا بھی گیا اور گالیاں بھی دی گئیں، دیپک کبیر اور پون راؤ امبیڈکر کے ساتھ جو بدسلوکی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ ریٹایرڈ آی پی ایس افسر ایس آر داراپوری کے ساتھ بھی جیل میں کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ رہائی منچ نے سماجوادی پارٹی کی اکھلیش حکومت کے دوران بھی ایک طویل دھرنا دیا تھا۔ دونوں سرکاروں میں فرق کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا اس سرکار میں لوگوں کو عزت دی جاتی تھی، پولیس والے گالی گلوچ نہیں کرتے تھے انہوں نے خالد مجاہد کے معاملے میں احتجاجی دھرنے میں ہمارا تمبو اکھاڑ دیا تھا۔ ریاستی اسمبلی کے ٹھیک سامنے 121 دنوں تک ہمارا دھرنا چلا تھا، لیکن کسی نے گالی گلوچ یا لاٹھی چارج نہیں کی، ہم نے جلوس بھی نکالا مشعل جلوس بھی نکالا، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا جو اس بار ہوا۔ 19 دسمبر کے احتجاجی مظاہرے میں ہوئے تشدد کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے تو انہوں نے کہا میں تو پولیس کی حراست میں تھا، لیکن اس کے باوجود پولیس نے تشدد کا سارا الزام اپوزیشن پر رکھ دیا۔ رہائی منچ ان کے ٹارگیٹ پر ہے وہ بار بار راجیو یادو کے بارے میں پوچھ رہے تھے مجھے ایسا لگتا تھا کہ راجیو مل جاتے تو وہ اسے جان سے ہی مار دیتے۔ دراصل سرکار ہماری تنظیم کو برباد کرنا چاہتی ہے ہماری آواز دبا دینا چاہتی ہے اس لیے ہم سے بولنے کی آزادی بھی چھینی جارہی ہے اور احتجاج کرنے کا حق بھی۔ پولیس خود سے پتھر چلاتی ہے اور خود ہی آگ لگاتی ہے آر ایس ایس کے لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ اپوزیشن اور سرکار کے خلاف بولنے والی تنظیموں کو بد نام کیا جا سکے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ نے اپنی زندگی میں دہشت گردی کے الزام سے تقریبا 14 لوگوں کو آزاد کرایا ہے، لیکن اس بار جب آپ جیل میں تھے تو آپ کو کتنی مدد ملی، انہوں نے کہاکہ اس بار لوگوں نے بہت بڑھ چڑھ کر ہماری مدد کی ہے۔ اتنی اس سے پہلے کبھی نہیں ملی تھی حالانکہ میرے معاملے میں تو میرے جونیر وکیلوں نے ہی پیروی کی۔ انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور ہائی کورٹ کے کہنے پر ہی ہمارے جونیئرس نے ضمانت کروائی۔ ایڈوکیٹ محمد شعیب نے بتایا کہ ہمیں پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کا نوٹس ملا ہے، جیل میں ہمارے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا اس لیے جواب نہیں دے سکے اب باہر آگئے ہیں تو جلد ہی اس کا جواب دے دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلے کے مقابلے ماحول کافی بدل چکا ہے جو لوگ پہلے ہماری مخالفت کرتے تھے وہ اب مخالفت نہیں کرتے بلکہ خاموش رہتے ہیں اور بہت سے وکیل ہماری تحریک کے ساتھ جڑ گئے ہیں۔ جس کا نتیجہ ہے کہ لکھنؤ گھنٹہ گھر پہ چل رہے خواتین کے احتجاج میں ہر شام دستور کی تمہید پڑھی جاتی ہے۔ جیل سے پورے ایک مہینہ بعد ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ فورا گھنٹہ گھر کے احتجاج میں پہنچے اس کے بعد پورے ملک کے احتجاجی پروگراموں میں جا رہے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ اس وقت اس تحریک کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں اور آپ کی امید کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ احتجاج کو ختم کرانے کے لیے لوگوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے ان پر لاٹھی چارج کیا جارہا ہے۔ خاندان کو برباد کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے اس بار یہ عوامی تحریک بن چکی ہے اس کو روک پانا اب سرکار کے بس میں نہیں ہے۔ یہ کسی ایک تنظیم یا شخص کی تحریک نہیں رہی لوگ جیل جانے کو تیار ہیں، لیکن پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس بار عوام نے خود ہی کہہ دیا ہے کرو یا مرو۔ اس تحریک کا سیاست پر بھی گہرا اثر پڑے گا، ملک کا ماحول بدلے گا پوری اور طرح بدلے گا، یو پی کی سرکار بھی بدلے گی، ہم نے ابھی سے نعرہ دے دیا ہے یوگی ہٹاؤ دیش بچاؤ پردیش بچاؤ۔