اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے طلبا لیڈر اور صدر ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر سلمان احمد کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے.  7فروری کے روز ناندیڑ پولیس نےسلمان احمد کو ضمانت پر رہا کیا۔سلمان احمد پر ناندیڑ کے شاہین باغ احتجاج میں دیئے گئے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف اپنی ایک تقریر کے کچھ حصوں کی غلط پیشکش کے سبب معاملہ درج کیا گیا تھا۔ ناندیڑ پولیس نے جمعرات کی شام ممبئی سے سلمان احمد کو تحویل میں لیا اور انھیں ناندیڑ لیکر گئے۔ سلمان احمد کو اپنے موقف کی وضاحت اور ضروری قانونی کارروائی کرنے کے بعد جمعہ کی سہ پہر اتوارہ پولیس اسٹیشن میں ضمانت مل گئی۔یہ غیرضروری تنازعہ میڈیا اور کچھ افراد کی بدنیتی پر مبنی کوشش اور CAA-NRC-NPR کے خلاف جاری تحریک کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ تھا۔ تقریر میں کچھ بھی متنازعہ نہیں تھا۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ کی تقریر کا ایک چھوٹا سا حصہ لے کر اسے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے سیاق و سباق سے باہر نکال کر پیش کیا گیا۔ایس آئی او جلد ہی میڈیا ہاؤسز اور ان افراد کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرنے کے لئے قانونی عمل شروع کرے گی جنہوں نے تقریر کے مندرجات کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا۔ایس آئی او نے ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری حکام کے ساتھ تعاون کیا ہے اور کرتی رہے گی۔ دراصل سلمان احمد نے پہلے ہی پولیس کے سامنے پیش ہونے کا ارادہ کیا تھا اور اس کے مطابق ناندیڑ کے لئے سفر پلان کرچکے تھے۔ تاہم سلمان احمد کو سفر سے پہلے ہی حراست میں لےلیا گیا۔ان تمام رکاوٹوں کے باوجود معاشرے میں انصاف کے قیام کی جانب کام کرنے کا ایس آئی او کا عزم ہمیشہ کی طرح مستحکم ہے۔ایس آئی او تمام جمہوری اور پر امن طریقے استعمال کرکے CAA جیسے سیاہ قوانین کا مقابلہ کرنا جاری رکھے گی۔تنظیم اس پورے معاملے میں مختلف افراد اور تنظیموں کی طرف سے دیئے گئے تعاون کا خیرمقدم کرتی ہے۔

قبل ازیں ایس آئی او مہاراشٹر کے صدر سلمان احمد نے فروری کی پہلی تاریخ کو ناندیڑ میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف ایک تقریر کی تھی جسے بی جے پی کے چند ذمہ داران نے قابل اعتراض بتاتے ہوئے واویلا مچانا شروع کر دیا ہے۔ ناندیڑ میں پولیس نے ایک معاملہ بھی درج کرلیا ہے۔ان کی گرفتاری بھی عمل آئی تھی ۔اب وہ ضمانت پر رہائی حاصل کرچکے ہیں۔ ویڈیو کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے صدر ایس آئی او سلمان احمد نے کہاکہ میرے بیان میں کوئی بھی فِساد انگیزی یا شر انگریزی کا عنصر نہیں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہماری لڑائی ملک کے تحفظ دستور کی حفاظت، دستوری اقدار، انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کی فضا قائم کرنے کے لیے ہے۔ سی اے اے کی طرز کے قوانین ان سب کے خلاف ہیں۔ مسلمانوں اور ان کے مذہب کے تعلق سے ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان بہت اچھی زبان ہے اسے سیکھیں اور سمجھیں۔ کسی بھی محاورے کا مطلب کیا ہوتا ہے یہ جاننا چاہیے۔ جیسے ’’چاند تارے توڑکر لانے‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ حقیقت میں چاند تارے توڑ کر لائے جائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان کے لیے مشکل سے مشکل کام کو بھی کر کے دکھا دیں گے۔ اسی طرح ’’قبرمیں اتارنا‘‘ محاورے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کو مار کے اس کو قبرمیں اتاریں گے بلکہ یہ سی اے اے کے تناظر میں کہا گیا جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم اس قانون کو جو یکجہتی کے خلاف ہے اس کی مخالفت کریں گے اور اسے ختم کریں اور اسے دفن کریں گے۔ تو اس طرح کی کوئی چیز دوبارہ نہیں آنا چاہیے۔ جو لوگ تیس منٹ کی ویڈیو میں سے تیس سکنڈ کی ویڈیو نکال کر غلط تناظر میں پیش کریں تو ہم انھیں کیا کہیں گے۔ وہ اپنا کام کرتے رہیں اور ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔ 

میڈیا ان کے بیان کوغلط طور پر توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پورے بیان میں مَیں نے کوئی غیر دستوری بات نہیں کہی ہے۔ہماری لڑائی دستور کے دائرے میں ہے ہم دستور بچانے کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں تب ہم کیسے دستور کے خلاف بات کہے سکتے ہیں۔ میڈیا میری تقریر میں سے کچھ حصہ دکھلا کر گمراہی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سلمان احمد نے خود پر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دستور کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ شاہین باغ جیسی تحریک جڑ پکڑ سکے، چنانچہ من مانے الزامات لگا کر عوام کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قبل ازیں وجئے کمار ایس پی ناندیڑ نے ایک نیوز ایجنسی سے کہا تھا کہ اسٹوڈنٹ لیڈر سلمان احمد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153، 109 اور آئی پی سی کی دفعہ 34 کے تحت متنازعہ حکومت اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں درج کی گئی ہیں۔ عوام میں یہ تأثر پایا جا رہا ہے کہ بعض پارٹیوں کے لیڈران بھڑکاؤ بھاشن دے رہے ہیں اور کسی ایک فرقے کے افراد کو کھلے عام گولی مارنے کی ہدایت دے رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے بلکہ جو لوگ حق اور یکجہتی کی بات کرتے ہیں ان کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جار ہی ہیں۔ اسی کی کڑی سلمان احمد کے خلاف کارروائی ہے۔