پرواز رحمانی
اب رام مندر ٹرسٹ
اجودھیا میں مسجد مندر تنازع سے متعلق سپریم کورٹ نے گزشتہ نومبر میں جو فیصلہ سنایا تھا اس کے مطابق مرکزی حکومت کو رام مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ کے اندر اندر ایک ٹرسٹ بنانا تھا۔
ٹرسٹ بنانے میں کوئی دقت نہ تھی وہ ایک ہفتہ کے اندر بھی بن سکتا تھا لیکن حکومت کو اپنی عادت اور تربیت کے مطابق موزوں وقت کا انتظار تھا اور وہ وقت آگیا۔ دہلی میں اسمبلی انتخابات تھے۔ لہذا پولنگ کی تاریخ سے ڈھائی دن قبل خود وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے پندرہ ممبروں پر مشتمل ٹرسٹ بنا دیا گیا ہے اور کام جلد ہی شروع ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ یہ خبر بھی آگئی کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق اتر پردیش سرکار نے بھی مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین مختص کردی ہے۔ ٹرسٹ کے اعلان کے بعد بی جے پی نے دہلی کی انتخابی مہم کو گرمانے کے بہت جتن کیے لیکن مہم میں کوئی خاص گرمی نہیں لا سکی۔ ویسے بھی ضابطے کے مطابق دوسرے ہی دن ۶؍ فروری کی شام چار بچے انتخابی سرگرمیوں کا سلسلہ بند ہوگیا۔ البتہ گھر گھر جاکر مختلف حوالوں سے ووٹ مانگنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بی جے پی کے لوگ مندر کے حوالے سے ووٹ مانگ رہے تھے۔ بی جے پی نے دہلی کے الیکشن کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا رکھا تھا اس لیے وہ پوری مرکزی قوت کے ساتھ میدان میں اتری ہوئی تھی۔
متبادل جگہ کا معاملہ
اور جہاں تک مسجد کے لیے پانچ ایکڑ اراضی کا سوال ہے مسلمانوں نے اس میں کبھی دلچسپی نہیں لی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہمارے لیے یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ حکومت یہ جگہ سنی سنٹرل وقف بورڈ کو دے رہی ہے جو کہ مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ نہیں ہے۔ جو جگہ دی جا رہی ہے وہ بابری مسجد سے تقریباً ۲۵؍کلو میٹر دور ہے۔ اگر یہ جگہ اصل مسجد سے متصل بھی دی جاتی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہی دی جاتی تب بھی پرسنل لا بورڈ اور عامۃ المسلمین کا فیصلہ یہی ہوتا۔ اس لیے کہ مسلمانوں کا مقدمہ علیحدہ جگہ کے لیے نہیں تھا بلکہ قدیم بابری مسجد کا تھا جو اُس وقت کے مسلمانوں نے جو بالکل جائز اور شرعی طریقے سے تعمیر کی تھی۔ کوئی مندر یا مٹھ نہیں توڑا تھا، کسی کی زمین نہیں ہتھیائی تھی۔ ۱۹۹۲ء میں بعض شر پسند اور سماج دشمن عناصر کے ہاتھوں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بہت سے بے خبر اور سادہ لوح لوگ سمجھ رہے تھے کہ اجودھیا کا تنازع اب ختم ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ بعض پڑھے لکھے افراد اور ماہرینِ قانون بھی یہی خیال رکھتے تھے۔ لیکن اِن لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ اینٹ، مٹی، پتھر اور گارے سے بنی عمارت ڈھا دینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہوجاتی بلکہ وہ ہمیشہ کے لیے مسجد ہی رہتی ہے اور اسی لیے مسلمانانِ ہند اپنی شریعت اور ملکی قانون کے مطابق اس کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔
حتمی فیصلہ آنے کے بعد
اور اب گزشتہ نومبر میں سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آجانے کے بعد بھی یہی سمجھا جا رہا ہے کہ بابری مسجد کا معاملہ اب تو بالکل ہی ختم ہوگیا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بابری مسجد پر اپنے دعوے سے کبھی دستبردار ہو ہی نہیں سکتی۔ درست ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور سرکردہ مسلمانوں نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ انہیں منظور ہوگا۔ اور یہ اعلان اس لیے کرنا پڑا تھا کہ رام مندر کے لوگ مختلف ہتھکنڈوں سے اس معاملے کو الجھا رہے تھے اور اسے طول دینا چاہتے تھے۔ سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ ’’بابری مسجد کسی مندر یا مٹھ کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی تھی، وہاں نماز بھی برابر ہوتی رہی، جن لوگوں نے ۱۹۹۲ء میں مسجد توڑی تھی وہ قانون کے مجرم ہیں ......‘‘ فیصلہ مندر والوں کے حق میں سنا دیا۔ مسلمانوں نے اپنے وعدے کے مطابق اِس فیصلے کو تسلیم تو کرلیا لیکن قبول نہیں کیا، نہ کر سکتے ہیں۔ ان کے دلوں میں یہ احساس ہمیشہ زندہ رہے گا کہ مسجد کو ڈھا کر مندر کے لیے راستہ ہموار کیا گیا۔ اگرچہ مسلمان اب کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، لیکن گرائی گئی مسجد کو مسجد سمجھنا بہر حال ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ ملک کی عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ اس پہلو سے ہمیشہ یاد رہے گا۔

