افروز عالم ساحل

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا پر پھر سے دہلی پولیس کے ظلم کی کہانی سامنے آئی ہے۔ کئی درجن طلبا دہلی پولس کے بربریت کے شکار ہوئے ہیں۔ نہ صرف ان طلبا پر ان کے مذہبی شناخت کے بنیاد پر ظلم کیا گیا بلکہ پولیس نے خواتین مظاہرین کے نازک حصوں پر بھی ڈنڈا مارنے کی بات سامنے آئی ہے۔ دہلی کے ’الشفاء ملٹی اسپیشلٹی اسپتال‘ میں ابھی بھی 6 طلبا ایڈمٹ ہیں۔ یہ طلبا شدید طور پر زخمی ہیں۔ اس مسئلے ہر منگل کو انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے ممبران پارلیمنٹ نے لوک سبھا میں تحریک التوا (یعنی پارلیمنٹ کے معمول کے کام کو ملتوی کرنے) کا نوٹس دیا۔

جامعہ نگر میں واقع ابوالفضل انکلیو کے ’الشفاء ملٹی اسپیشلٹی اسپتال‘ کے پبلک ریلیشن آفیسر مرغوب زیدی ہفت روزہ دعوت کے ساتھ بات چیت میں بتاتے ہیں کہ جامعہ سے جیسے ہی طلبا کے زخمی ہونے کی خبریں آئیں، اسپتال نے پچھلی بار کی طرح دو ایمبولنس بھیج دیے۔ اس رات تک کل 34 طالبات اسپتال میں آئیں۔ جن میں سات شدید طور پر زخمی ہیں۔ 6 طلبا ابھی بھی زیر علاج ہیں۔ ان میں سے دو کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ ان طلبا کو لگی چوٹ کے بارے میں پوچھنے پر زیدی نے بتایا کہ زیادہ تر طلبا کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں۔ کسی کو سنیے پر لاٹھی یا بوٹوں سے مارا گیا ہے تو کئی طلبا کو ان کے پرائیوٹ پارٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ کئی طلبا جامعہ کے ایم اے انصاری ہیلتھ سنٹر میں بھی علاج کے لیے گئے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پبلک ریلیشن آفیسر احمد عظیم کے مطابق طلبا نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے کھڑی لاٹھیوں سے ان کے پیٹ اور نازک حصوں پر حملہ کیا۔ لیکن اس بارے میں میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پیر کو جامعہ سے پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی کیمپس کے آس پاس بھاری سیکیورٹی فورس تعینات کردی گئی۔ اور جیسے ہی طلبا نے اپنا مارچ شروع کیا، انہیں جامعہ کے قریب ہی ہولی فیملی اسپتال کے پاس روک دیا گیا۔ اس سے پہلے 30 جنوری کو بھی طلبا کے گاندھی مارچ کو یہیں روکا گیا تھا۔ تب اس مارچ کے شروع ہونے کے پہلے یہاں ایک سر پھرے لڑکے نے فائرنگ کی تھی۔ 

زخمی ہوئے طلبا لیڈر میراں حیدر نے ہفت روزہ دعوت سے بات چیت میں بتایا کہ وہ اس مارچ میں آگے کی طرف تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے، جیسے ہی میں بیرکیڈ پر چڑھے ایک پولیس اہلکار نے انہیں اپنی طرف کھینچ کر نیچے گرا دیا اور مسلسل لاٹھی اور اپنے بوٹوں سے مارتا رہا ساتھ ہی وہ گالیاں بھی بک رہا تھا۔ انہی پولیس والوں میں سے ایک پولیس والے نے مجھے اٹھایا لیکن اچانک ایک دوسرے پولیس والے نے پھر سے مارنا شروع کر دیا۔ ایک پولیس اہلکار نے گھٹنے سے میرے نجی حصے کو نشانہ بنایا۔ اس کا اثر اتنا سخت تھا کہ میں موقع پر ہی بے ہوش ہوگیا۔ 

طلبا لیڈر قاسم عثمانی کہتے ہیں کہ دہلی پولیس نے جس طرح طلبا پر بربریت کی وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ پولیس طلبا کے درمیان آکر پیٹ میں، پیر پر اور پرائیوٹ پارٹ پر اپنی لاٹھی جوتوں سے حملہ کر رہی تھی۔ ساتھ میں کچھ کیمیکل بھی اسپرے کر رہی تھی، جس سے طلبا بے ہوش ہو رہے تھے۔ پولیس کی اسی بربریت کا شکار میں بھی ہوا۔ بتا دیں کہ قاسم بھی شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ 

میراں اور قاسم کے علاوہ باقی طلبا بھی ایسی ہی کہانیاں سناتے ہیں۔ دعوت نے کئی طلبا سے بات کی انہوں نے بتایا کہ انہیں نہ صرف بری طرح سے مارا پیٹا گیا، بلکہ لگاتار ان کے پرائیوٹ پارٹ پر لاٹھیاں چلائی گئیں۔ ایک طالبہ نے بتایاکہ ایک پولیس والے نے میرا برقع کھینچ لیا اور لاٹھی سے میرے سینے اور پرائیوٹ پارٹ پر حملہ کیا۔ زیادہ تر لڑکیوں پر پولیس انہیں کمر سے نیچے ہی لاٹھی سے نشانہ بنا رہی تھی۔ 

طلبا کا الزام ہے کہ پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ ہم پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق 10 سے زائد خواتین طلبہ کو ان کے پرائیوٹ پارٹ پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کی تصدیق ڈاکٹروں نے بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ طلبا کا یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر کچھ کیمیائی اسپرے کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں ان میں سے بیشتر بے ہوش ہوگئے تھے یا نیم ہوش تھے۔ حالانکہ دہلی پولیس لاٹھی چارج اور کیمیکل اسپرے کی بات سے انکار کر رہی ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ طلبا ان پر پانی کے پاوچ سے حملہ کر رہے تھے، اس متعلق پولیس کی جانب سے ایسا نہیں کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔ اس دوران 9 طلبا کو ڈیٹین بھی کیا گیا تھا، لیکن طلبا کے جاری مظاہرہ کی وجہ سے انہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔