ڈاکٹر سلیم خان، ممبئی
دلی کا انتخاب دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تھا مگر امیت شاہ نے اعلان کیا کہ یہ الیکشن دو جماعتوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ اس بار عوام کو دو نظریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ان میں سے ایک راہل بابا اور کیجریوال کے ہمنوا جو شاہین باغ تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرے مودی جی کی جو ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس احمقانہ اعلان کے ذریعہ امیت شاہ نے اپنی پارٹی کی دہلی شاخ کے بجائے سنگھ پریوار کے نظریہ کو داؤ پر لگادیا اور اپنی شکست کو ازخود ہندتوا کی شکست بنا ڈالا۔ یہ کام نہ کیجریوال کرسکتے تھے اور نہ مسلمانوں کے لیے ممکن تھا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ احمق دوست سے دانا دشمن اچھا۔ امیت شاہ نے جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ۸ فروری کو ای وی ایم کا بٹن اس قدر زور سے دبائیں کہ اس کا جھٹکا شاہین باغ میں محسوس ہو۔ وہ جھٹکا شاہین باغ میں تو محسوس نہیں ہوا مگر شاہین باغ کے جھٹکے نے امیت شاہ کو ڈھیر کر دیا ۔
صبر واستقامت کے پیکر شاہینانِ شاہین باغ کے پاس امیت شاہ کی اشتعال انگیزی کا وہی جواب تھا جو جابر و ظالم جالوت کے خلاف طالوت کے ساتھیوں کا تھا۔ ارشادِ ربانی ہے ’’انہوں (طالوت کے ساتھیوں) نے کہا، بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے‘‘۔ ظالم حکم راں جالوت پر حضرتِ داود ؑ کی کامیابی پر قرآن حکیم میں یہ تبصرہ کیا گیا ہے کہ ’’ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا، لیکن دنیا والوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے) ‘‘ مشیتِ اللہ کی نشانیاں ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن عجلت پسند انسان بہت جلد مایوس ہوجاتا ہے۔
دہلی کے اندر۱۹۵۲ سے ۱۹۵۶ کے دوران ایک عبوری صوبائی حکومت تھی اور اس دوران کانگریس کے دو وزرائے اعلیٰ نے یہاں حکومت کی۔ اس کے بعد دہلی کی صوبائی حیثیت کو ختم کرکے یونین ٹریٹری بنا دیا گیا جیسا کہ فی الحال جموں کشمیر کے ساتھ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس نے جب یہ کیا تو بی جے پی کے پرانے ورژن جن سنگھ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اب کی بار بی جے پی نے جموں کشمیر کے ساتھ وہی معاملہ کیا تو کانگریس اس کی مخالفت کر رہی ہے۔۱۹۹۳ میں دوبارہ دہلی اسمبلی محدود حقوق کے ساتھ بحال کردی گئی۔ اس کا فائدہ دہلی کی صوبائی حیثیت کی خاطر جدوجہد کرنے والی بی جے پی کو ملا اس نے پانچ سالوں تک دہلی پر راج کیا۔ اس دوران بی جے پی کے تین وزرائے اعلیٰ آئے اور تینوں کو قومی سطح پر مقبولیت ملی۔ پہلے وزیراعلیٰ مدن لال کھرانہ کو دو سال ۳ ماہ بعد پارٹی کی آپسی چپقلش کے سبب ہٹا دیا گیا۔ ان کے بعد مغربی دہلی کے موجودہ رکن پارلیمان پرویش ورما کے والد صاحب سنگھ ورما کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ انہیں بھی دو سال ۷ ماہ بعد ہٹا دیا گیا اور آخری دو ماہ کے لیے سشما سوراج کے ہاتھوں میں کمان سونپی گئی۔ دہلی کے عوام نے بی جے پی کو اس کی آپسی سر پھٹول کا سبق سکھایا اور بیس سال تک اقتدار کے قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ یہ بن باس ہنوز ختم نہیں ہوا اور امیت شاہ جیسے احمق اگر بی جے پی پر چھائے رہے تو کبھی ختم ہوگا بھی نہیں۔ کانگریس کی شیلا دکشت لگاتار تین بار وزیراعلیٰ بنیں اور جب عوام ان سے بیزار ہوئے تو انہوں نے عآپ کے اروند کیجریوال کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔
یہ ہندوستانی سیاست کا نہایت دلچسپ پہلو ہے کہ کانگریس کی بدعنوانی کے خلاف کیجریوال اور بی جے پی ایک ساتھ تھے اور انتخاب کے بعد حکومت سازی کے وقت وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے کانگریس نے اسی عاپ کی حمایت کردی جس نے کانگریس کے ووٹ بنک میں سیندھ لگائی تھی۔ کیجریوال کو جب احساس ہوا کہ ان کی پارٹی دوبارہ اپنے بل پر انتخاب جیت سکتی ہے تو وہ لوک پال کا بہانہ بنا کر 49 دنوں تک کانگریس کی حمایت واپس کرکے مستعفی ہوگئے۔ اس کے بعد ۲۰۱۵ کے انتخاب میں کانگریس کا نام و نشان مٹا کر وہ دوسری بار وزیراعلیٰ تو بن گئے لیکن لوک پال نامزد نہیں کیا، اس کے باوجود انہوں نے تیسری بار انتخاب جیت لیا۔گزشتہ ۷ سالوں میں دہلی کے رائے دہندگان بھی وقت کے ساتھ اپنا چولا بدلتے رہے ۔۲۰۱۴ کی مودی لہر میں پوری طرح بہہ کر بی جے پی کو ایوانِ پارلیمان کی تمام نشستوں پر کامیاب کردیا۔ اس کے ۹ ماہ بعد اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو 31 سے گھٹا کر 3 پر پہنچا دیا اور کیجریوال کو 67 نشستوں پر غیر معمولی کامیابی عطا کردی۔ اس وقت کیجریوال کو ۵۵ فیصد ووٹ ملے تھے اور ۳۳ فیصد لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ کانگریس کے ووٹ کا تناسب چونکہ دس فیصد تک گھٹ گیا تھا اس لیے اسے ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں ملی۔ اس انتخاب کے دوسال بعد۲۰۱۷میں بلدیاتی انتخاب منعقد ہوا۔ اس میں عآپ کے ووٹ کا تناسب گھٹ کر 26 فیصد پر آگیا۔ اس نقصان کا ۳ فیصد فائدہ بی جے پی کو اور ۱۱ فیصد کانگریس کو ملا۔ اس طرح بی جے پی ۳۶ فیصد ووٹ پانے والی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ کانگریس کی بھی حالت میں اچھا خاصا سدھار آگیا۔ ۲۰۱۹ کے قومی انتخابات میں عآپ کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ ۱۸ فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر کھسک گئی۔ کانگریس کو ۲۳ فیصد ووٹ ملے تھے اور وہ دوسرے نمبر پر تھی مگر بی جے پی نے ۵۷ فیصد ووٹ حاصل کرکے پھر سے ساری نشستوں پر قبضہ کرلیا۔ نئی بی جے پی حکومت میں دہلی اور اس کے اطراف کے کئی مرکزی وزراء ہیں۔ اس کے علاوہ بلدیات کے کونسلرس بھی ان کی جماعت کے ہیں۔ ایسے میں اشتعال انگیز سیاست کرنے کے بجائے رائے دہندگان کے مسائل کو حل کیا جاتا تو بڑی آسانی سے کیجریوال کو زیر کیا جاسکتا تھا لیکن چونکہ ان دونوں سطحوں پر وہ پوری طرح ناکام و نااہل ثابت ہوئی اس لیے انتخابی مہم میں مغل سلطنت، قومی تحفظ، پاکستان، ائیر اسٹرائیک، طلاق ثلاثہ، کشمیر، سی اے اے اور شاہین باغ کا سہارا لینا پڑا۔
اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے بی جے پی کی مہم نہایت دلچسپ تھی۔ انتخاب سے ایک ماہ قبل امیت شاہ نے اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں اپنے کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبائی انتخاب میں وہ بڑے جلسوں پر انحصار کرنے کے بجائے گھر گھر جائیں۔ اس کی مثال قائم کرتے ہوے وزیرداخلہ نے لاجپت نگر میں پمفلٹ بانٹے لیکن اس میں اپنی کامیابیاں اور ارادے بیان کرنے کے بجائے شہریت قانون میں ترمیم کی حمایت کا راگ الاپا گیا تھا۔ وہیں سے بی جے پی کی گاڑی پٹری سے اترگئی کیونکہ عوام کے پاس جانے کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ آپ کیا لے کر جا رہے ہیں۔ امیت شاہ نے جے این یو کے غداروں کو سبق سکھانے کی ترغیب بھی دی اور پھر جے این یو کے طلباء پر زعفرانی غنڈوں کا حملہ ہو گیا۔ جامعہ میں جس پولیس نے طلباء پر ظلم کیا تھا اسی نے جے این یو میں حملہ آوروں کی حفاظت کی۔ یہی حفاظت جامعہ اور شاہین باغ میں فائرنگ کرنے والوں کو دی گئی دہلی کے لوگ یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے۔بی جے پی نے اس دوران جئے پرکاش نڈاّ کو اپنا صدر تو بنالیا لیکن امیت شاہ صاحب نے اسے دل سے تسلیم نہیں کیا اور ازخود بلا ضرورت انتخابی مہم کی ذمہ داری اپنے سر اوڑھ لی۔ ان کو اگر چھٹانک بھر بھی عقل ہوتی تو اس سے دور رہتے تاکہ انتخابی ناکامی کے بعد ان کے چیلے چپاٹے یہ کہتے کہ ہم لوگ اپنے چانکیہ کی غیر موجودگی کے سبب ہار گئے، حالانکہ مسلسل ۶ صوبائی انتخابات میں ناکامیوں کے بعد یہ دعویٰ بے معنی ہوچکا ہے۔ اس بار امیت شاہ نے نہ صرف خود اپنی ذات کو ذلیل کیا بلکہ مودی کو گھسیٹ کر انہیں بھی رسوا کر دیا۔ دولت اور اقتدار کے نشے میں چور امیت شاہ نے ۶۶ مقامات پر الیکشن لڑنے کے لیے ۶ ہزار ۶ سو عوامی خطابات اور روڈ شو کروائے۔ ان میں سے باون میں خود شرکت کی اکتالیس میں نڈا کو بھیجا اور بارہ کو خطاب کرنے کے لیے راجناتھ سنگھ کی خدمات حاصل کیں۔ دو سو ارکان پارلیمان اور پچاس وزراء کو اس مہم میں جھونک دیا۔بی جے پی کی اس تیاری کا اگر۲۰۱۵ سے موازنہ کیا جائے تو بڑا فرق نظر آتا ہے۔ اس وقت امیت شاہ نے صرف ۴ جلسوں پر اکتفاء کیا تھا اور کارکنان کے ساتھ ۷ نشستیں کی تھیں باقی کام پروین شنکر کپور، روی شنکر پرشاد، نرملا سیتا رامن، اورن جیٹلی اور رام لال کے حوالے کردیا گیا تھا۔ اس بار اپنی وزارتی ذمہ داریوں کو بھول کر امیت شاہ نے انتخاب کو وقار کا مسئلہ بنالیا اور تن من دھن سے اس کام میں جٹ گئے۔ یہ انہی کی قیادت کا کمال تھا کہ دہلی آکر یوگی غیر آئینی ’’بریانی اور گولی‘‘ کا راگ الاپ کر چلے گئے۔ انوراگ ٹھاکر نے ’’دیش کے غداروں کو گولی مارو ... کو‘‘ کا انتہائی اشتعال انگیز نعرہ بلند کیا۔ پرویش ورما نے بد گوئی و فحش گوئی کی انتہا کرتے ہوئے لوگوں کو شاہین باغ کے مظاہرین کی جانب سے ’’گھروں میں گھس کر عصمت دری وقتل‘‘ سے ڈرایا۔ ایسی گھٹیا اور لچر انتخابی مہم چلانے کے لیے امیت شاہ سے زیادہ مناسب تر فرد ملک تو کیا سارے عالم میں موجود نہیں ہوگا۔
شاہین باغ کے مظاہرے کا براہِ راست تعلق دہلی کے الیکشن سے نہیں تھا لیکن وزیر اعظم نے اسے ’اتفاق نہیں بلکہ تجربہ‘ کہہ کر اسے انتخابات سے جوڑنے کی کوشش کی اور پھر بی جے پی نے اس کو اپنی مہم کا مرکز و محور بنا نے پر ساری توانائی صرف کردی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسے شاہین باغ کے ذریعہ عوام کو ورغلانے میں کامیابی حاصل ہوئی؟ انڈیا ٹوڈے اور ایکسس کے ذریعہ کرائے گئے مائی انڈیا سروے کے مطابق ۵۰ فیصد لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ شاہین باغ ہے کہاں؟ باقی لوگوں نے الٹا سوال کیا کہ اس احتجاج کا ہم سے کیا تعلق؟ سروے بتاتا ہے کہ بی جے پی اس کے ذریعہ محض ۲ فیصد لوگوں کو متاثر کرسکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے غلط موضوع کا انتخاب کرکے اس پر اپنی توانائی ضائع کردی۔
عاپ، کانگریس اور دیگر غیر بی جے پی جماعتوں کو ووٹ دینے والوں نے ’ترقی میں عدم توجہی‘ کو اس کا سبب بتایا۔ اس کی ذمہ داری بی جے پی کے ماتحت چلنے والی میونسپل کارپوریشن پر ہے۔ ان کونسلروں کی نااہلی نے بی جے پی کی لٹیا ڈبودی ہے۔ مودی جی کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ والے نعرے پر اگر یہ لوگ عمل کرتے تو 42فیصد ووٹرس بی جے پی کے مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالتے۔ باقی 13فیصد ووٹرس بی جے پی کے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں سے ناراض تھے یا ان کی خواہش تھی کہ مرکز اور صوبے میں مختلف جماعتوں کی حکومت ہونی چاہیے۔ سی اے اے کی بنیاد پر بی جے پی آئندہ قومی انتخاب جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے اور گھر گھر جا کر عوام کو سمجھانے کی مہم چلا رہی ہے لیکن اس کے ذریعہ وہ دہلی میں صرف ایک فیصد رائے دہندگان کو ہی اپنا حامی بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے۔ رام مندر کے ٹرسٹ کا اعلان بھی ایک فیصد سے زیادہ لوگوں کو خوش نہیں کرسکا اور کشمیر کی دفعہ ۳۷۰ بھی ۲ فیصد سے زیادہ لوگوں پر اثر انداز نہیں ہوسکی۔ قومی تحفظ کو صرف ۶ فیصد لوگوں نے قابلِ توجہ سمجھا۔ بی جے پی کے ۵۰ فیصد ووٹرس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ایک چوتھائی نے بی جے پی کی کارکردگی کے سبب اسے ووٹ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اس کی بنیاد پر ووٹ مانگتی تو اس کے کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہوتے۔ دہلی کے 37 فیصد باشندے ترقی کو اہمیت دیتے ہیں 17 فیصد کے نزدیک مہنگائی اہم مسئلہ ہے اور 14 فیصد لوگ بیروزگاری کو لے کر فکر مند ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا تعلق مرکزی حکومت سے ہے۔ امیت شاہ اگر دہلی کے رائے دہندگان کو اطمینان دلانے میں کامیاب ہوجاتے کہ موجودہ بجٹ ان مسائل کو حل کردے گا تو ان کے الیکشن جیتنا آسان ہوجاتا لیکن جس کو اپنی کارکردگی پر اعتماد نہ ہو وہ تو بنیادی سوالات سے راہ فرار اختیار کرے گا ہی۔ جن لوگوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہو وہ دوسروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟ دہلی کے انتخابی نتائج اسی حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ان مسائل کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی نے شاہین باغ میں جائے پناہ تلاش کی اور اس کے حوالے سے غلط سلط پروپگنڈہ کرنے لگی حالانکہ اس کو نظر انداز کردینا ان کے حق میں بہتر تھا۔ اس معاملے کو دیکھ کر غزوۂ بدر کی یاد آتی ہے۔ کفار و مشرکین نے اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لیے فوج تیار کرلی لیکن ابو سفیان اپنے قافلہ کے ساتھ بہ حفاظت لوٹ آیا۔ مسئلہ چونکہ حل ہوگیا تھا اس لیے ان کو چاہیے تھا کہ اپنا ارادہ ترک کر دیتے لیکن وہ فوج کشی سے باز نہیں آئے۔ میدان جنگ میں آنے کے بعد انہیں اس بات کا اعلان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی کہ یہ یوم الفرقان ہے آج فیصلہ ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں ہے؟ لیکن اپنی طاقت کے غرور میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا اور ان کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد رب کائنات نے ارشاد فرمایا ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا اگر اب بھی باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے‘‘۔ سیکولر بھارت میں اس آیت کا اگرچہ مکمل اطلاق نہیں ہوتا لیکن ہر دور میں اہل حق کے لیے اس میں بہت برا پیغام مضمر ہے۔

