یو پی پولیس کے ’جھوٹ کا پلندہ‘ اب بھوسے کی طرح بھربھرا کر گرتا نظر آ رہا ہے۔ یو پی میں بجنور کی سیشنز عدالت نے یو پی پولیس کے دعوؤں کی پول کھول دی جب جج نے یہ کہتے ہوئے دو ملزمین شفیق احمد اور عمران کو ضمانت پر رہا کر دیا کہ یو پی پولیس ملزمین کے خلاف فساد برپا کرنے اور فائرنگ میں ملوث ہونے کا کوئی بھی ثبوت عدالت کو نہیں دے پائی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمین کے پاس سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے۔ متنازعہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران سب سے زیادہ تشدد یو پی کے بجنور میں دیکھا گیا۔ احتجاج کے دوران تشدد میں یو پی پولیس نے 57 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جسے بعد میں این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں ان دعوؤں کو کھوکھلا ثابت کر دیا گیا تھا۔ این ڈی ٹی وی کی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ احتجاج کے دوران صرف ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے، جبکہ یوگی حکومت اسے بڑھا چڑھا کر بتا رہی تھی تاکہ پولیس کو مزید ’قتل عام‘ کی چھوٹ دے دی جائے۔ واضح رہے کہ یو پی پولیس نے درجنوں افراد پر قومی شاہراہ 74 کو جام کرنے کے علاوہ ونہٹور، نجیب آباد اور نگینہ میں احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور تشدد میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ اس بھیڑ کی قیادت شفیق اورعمران کر رہے تھے۔ لیکن اب عدالت کے فیصلے نے یو پی پولیس کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔ یو پی حکومت اور یہاں کی پولیس کی بربریت نے حقوق انسانی کی تنظیموں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن ایک سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ انسانی حقوق کو پامال کرنے والی یو پی پولیس کے خلاف آخر کب کارروائی ہوگی؟
اگر گاندھی جی اور نیتا جی زندہ ہوتے تو سی اے اے کے خلاف ہوتے:بی جے پی لیڈر چندرا بوس
متنازعہ سی اے اے قانون مودی حکومت کے لیے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ اب مغربی بنگال کی اسمبلی نے متنازعہ سی اے اے کے خلاف قرارداد کو منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل کیرالا، پنجاب اور راجستھان کی اسمبلیوں میں بھی سی اے اے کے خلاف قرارداد کو منظوری مل چکی ہے۔ اسمبلی میں بحث کے دوران آل انڈیا فارورڈ بلاک کے رکن علی عمران نے کہا کہ این پی آر کو صرف معطل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ علی عمران نے بنگال کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ این پی آر کو پوری طرح سے مسترد کیا جائے۔وہیں دوسری جانب مغربی بنگال بی جے پی کے نائب صدر چندرا بوس نے پارٹی کے لیے پھر مشکلیں کھڑی کر دی ہیں۔ نیتاجی کے رشتہ دار چندرا بوس نے مودی کے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے بغیر مودی کا یہ نعرہ نا مکمل ہے۔واضح رہے کہ چندرا بوس پہلے ہی بیان دے چکے ہیں کہ سی اے اے میں مسلمانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ چندرا بوس نے مزید کہا کہ اگر گاندھی جی اور نیتاجی زندہ ہوتے تو وہ سی اے اے کی کبھی حمایت نہیں کرتے۔ بوس نے محمد علی جناح کو ’سیکولر لیڈر‘ بتاتے ہوئے کہا کہ جناح 1940 تک ملک کی تقسیم کے حامی نہیں تھے، لیکن کانگریس کے ذریعہ نظر انداز کیے جانے کے بعد جناح نے 1940 میں لاہور کانفرنس میں الگ ملک کا مسئلہ اٹھایا۔ بوس کے مطابق جناح کا کہنا تھا کہ کانگریس میں’ فرقہ پرست لیڈروں‘ کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا۔ جہاں ملک بھر میں متنازعہ سی اے اے کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، عا لمی برادری بھی مودی حکومت کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، وہیں اس متنازعہ معاملے میں پارٹی کے اندر سے بھی متنازعہ سی اے اے کے خلاف آواز اٹھنا مودی حکومت کے لیے پریشان کن بات ہے۔ کسی جمہوری نظام میں کسی ایک شخص کے ’من کی بات‘ سے زیادہ اہم اور ضروری عوام کے دل کی بات ہوتی ہے۔
تم یقین و عزم کی مشعل جلا ئے رکھنا
سفر دشوار ہو تب بھی حوصلہ برقرار رکھنا
کہتے ہیں مشکلوں اور پریشانیوں کے بیچ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا ہمت کا کام ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ ہمت و استقلال کا کام ہے اسے سچ کر دکھانا۔ جی ہاں! بنگلورو کے ایک بس کنڈکٹر نے یو پی ایس سی کا مینس امتحان پاس کر کے اپنے حوصلے اور عزم و ثابت قدمی کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ یہ سچی کہانی ہزاروں طلبا کو زندگی میں مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے اور اپنے خواب کو پورا کر نے کا سبق دیتی ہے۔ اس کہانی کا کردار ہے مدھو این سی جسے 19 سال کی عمر میں بی ایم ٹی سی ( بنگلور میٹروپولٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن) میں کنڈکٹر کے طور پر نوکری ملی تھی۔ مسلسل آٹھ گھنٹے روزانہ کی ڈیوٹی کے بعد مدھو کو امتحان کی تیاری کے لیے مزید وقت نکالنا بہت مشکل تھا، لیکن اس کے باوجود مدھو روزانہ صبح چار بجے اٹھتے اور دن بھر میں پانچ گھنٹے کا وقت تیاری کے لیے فارغ کرلیتے تھے۔ مدھو کہتے ہیں کہ وہ روزانہ کام پر جانے سے پہلے اور کام سے واپس آنے کے بعد اپنا وقت امتحان کی تیاری میں صرف کرتے تھے۔ گزشتہ برس جون میں مدھو نے یو پی ایس سی کے ابتدائی مرحلے کو پار کیا تھا، جس کے بعد انھیں مزید حوصلہ ملا اور وہ آگے کی تیاری میں سرگرم ہو گئے۔ مدھو کی باس سی شیکھا جو کہ بی ایم ٹی سی کی منیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں، انہوں نے ان کے اس مشکل سفر میں کافی رہنمائی اور مدد کی اور اب 25 مارچ کو ہونے والے انٹرویو کے لیے بھی شیکھا مدھو کو تیار کر رہی ہیں۔ مدھو کی اس کامیابی میں ان کی ایک ناکامی کا بھی ہاتھ ہے جس نے انھیں آگے بڑھنے میں مزید حوصلہ بخشا۔ 2014 میں کرناٹک ایڈمنسٹریٹیو سروسز میں مدھو کو ناکامی ہاتھ لگی تھی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے ہمت اور مضبوط ارادے کی مشعل جلائے رکھی اور آخر کار انھیں کامیابی مل ہی گئی۔ مدھو کی خاص بات یہ ہے کہ بغیر کسی کوچنگ کے صرف ذاتی مطالعہ اور اپنی لگاتار محنت سے انھوں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ امید ہےاس سبق آموز کہانی سے ہماری قوم کے طلباء کو تحریک ملے گی۔

