(دعوت نیوز ڈیسک)
حکومت پر طنز کرنے والے اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا اِس وقت سرخیوں میں ہیں۔ کامرا کے ہوائی سفر پرپابندی کے معاملے میں سوشل میڈیا اور اصل دھارے کے میڈیا میں لگاتار بحث جاری ہے۔ ان مباحث کے درمیان یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ آخر ایک صحافی کے ساتھ ’تیکھے‘ اور ’طنزیہ‘ انداز میں بات کرنے اور سوال پوچھنے پر اتنا واویلا کیوں مچ گیا؟ انڈیگو سمیت مزید تین ایئرلائنس ائیر انڈیا، اسپائس جیٹ اور گو ائیر نے بھی کامرا پر پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی کا یہ سلسلہ در اصل اس وقت شروع ہوتا ہے جب مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری میڈیا کے سامنے آتے ہیں اور کامرا پر ایئرلائنس کے ذریعہ سفر پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں، لیکن اس بیچ ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ دو بڑی ایئرلائنس وستارا اور ایئر ایشیا نے مرکزی وزیر کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کے مطابق اپنا کام کریں گے۔ دونوں ایئرلائنس کی جانب سے یہ بیان آیا ہے کہ وہ جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتے ہیں جس سے قانون شکنی ہوتی ہو۔ دونوں ایئر لائنس کے مطابق انھوں نے اس معاملہ پر غور و فکر کے لیے اپنی داخلی کمیٹی کو ہدایت دی ہیں۔ وہیں دوسری جانب پابندی کے بعد انڈیگو کے پائلٹ نے اپنی کمپنی کو ایک میل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس واقعے کی بنیاد پر کنال کامرا پر پابندی عائد کردی گئی ہے لیکن مجھے اس میں ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا کہ ان کے خلاف لیول-ون کے تحت کارروائی کی جائے۔ در حقیقت ایک پائلٹ کی حیثیت سے میں اور میرے ساتھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس سے بھی بدتر سلوک دیکھے ہیں لیکن انہیں ناپسندیدہ نہیں سمجھا گیا‘‘ پائلٹ نے اپنے میل میں مزید لکھا ہے کہ ’’میرے لیے افسوس کی بات ہے کہ میری ایئر لائن نے پائلٹ سے بات کیے بغیر محض سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر ایسی کارروائی کی ہے۔ یہ میرے 9 سالہ فلائنگ کیریئر کا سب سے عجیب و غریب واقعہ ہے‘‘ انہوں نے لکھا ہے ’’میں یہ کہنا اور سمجھنا چاہتا ہوں کہ وی آئی پی مسافروں کے ساتھ ناروا سلوک پر کیے جانے والے اقدامات کے معیار مختلف ہیں۔ میں اس معاملے میں اپنی ایئر لائنس سے وضاحت چاہتا ہوں، کیونکہ اس سے کافی الجھن پیدا ہوئی ہے۔ جس کے بعد انڈیگو کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ ’’ہمیں متعلقہ بیانات موصول ہوئے ہیں اور اس تعلق سے اندرونی کمیٹی نے تفتیش شروع کردی ہے‘‘۔
قاعدہ یہ ہے کہ ائیر لائنس کو پہلے ایسے معاملوں کی جانچ کے لیے ایک سبکدوش ضلع جج یا سیشن جج کی صدارت میں ایک انٹرنل کمیٹی تشکیل دینی ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی تفصیلی جانچ کرتی ہے اور پھر یہ طے کرتی ہے کہ یہ جرائم کے زمرے ایک، دو یا تین میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے پر پہنچنے کے بعد ائیر لائنس کو انٹرنل کمیٹی کو اپیل کرنے کے لیے ملزم کو 60 دنوں کا وقت دینا ہوتا ہے، جس کے لیے ہدایات تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
واقعہ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں ایک ہوائی سفر کے دوران کنال کامرا کا سامنا رپبلک ٹی وی کے ایک صحافی ارنب گوسوامی سے ہو گیا تھا اور انھوں نے پرواز کے دوران ان سے کچھ ’تیکھے‘ قسم کے سوالات کر ڈالے جس پر ارنب نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔ لیکن کنال کامرا کے سوال نے ’ہندتوا‘ ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو تلملا کر رکھ دیا۔ جب کنال نے یہ ویڈیو اپنے سوشل میڈیا ٹوئٹر پر ڈالا تو زبردست طریقے سے وائرل ہوا اور لوگ ارنب گوسوامی کا مذاق بنانے لگے۔ لیکن اس ویڈیو میں کنال کامرا کے ’غیر اخلاقی‘ رویہ کی تنقید مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری نے میڈیا کے سامنے کی جس کے بعد معاملے نے طول پکڑ لیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرواز کے دوران ارنب کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اتنا پریشان کن تو نہیں تھا کہ مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی ہردیپ سنگھ پوری کو میڈیا کے سامنے آکر یہ کہنا پڑے کہ کامرا کے خلاف سبھی ایئر لائنس کو انڈیگو کی طرح کارروائی کرنی چاہیے۔ اس بیان سے کہیں نہ کہیں ارنب گوسوامی کی ایک صحافی والی ’امیج‘ کو بھی نقصان پہنچا ہے اور مرکزی وزیر نے اپنے بیان سے یہ ثابت بھی کر دیا کہ ارنب ’حکومت‘ کے لیے کتنا ضروری ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات دوران پرواز ہوئے ہیں، لیکن نہ وزیر کی طرف سے کوئی بیان آیا اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اتنا واویلا مچایا گیا۔ قابل غور یہ ہے کہ آخر حکومت کو راست اس معاملہ میں دخل دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کہیں ارنب ’سرکاری صحافی‘ تو نہیں ہیں؟ ایسا تو نہیں ہے کہ ارنب ’غیر معیاری‘ اور ’ڈرانے اور دھمکانے‘ کے انداز میں جو سوالات کرتے ہیں ان کا دفاع کیا جا رہا ہے؟
اگر کنال کامرا کے خلاف کارروائی کرنی ہی ضروری تھی تو وہ قانون کو بالائے طاق رکھ نہیں کی جاسکتی۔ دوسرے، وی آئی پی اور وی وی آئی پی مسافروں کے ساتھ بھی اسی طرح کی کارروائی کی جانی چاہیے، پھر چاہے وہ رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ ہوں یا پھر کوئی اور!

