میم ضاد فضلی
اگر گزشتہ تین دہائیوں میں وبائی امراض کی تباہ کاری کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کی ریاست گجرات میں طاعون (plague) نے قہر برپا کیا تھا جس نے سب سے پہلے 1994 میں گجرات کے ضلع سورت کو نشانہ بنایا تھا، اس کے بعد 2004 میں اس وبا نے دوبارہ دستک دی اور اس بار ہماچل پردیش اس کے زد میں آیا تھا۔ بعد ازاں چکون گنیا، سوائن فلو اور زیکا وائرس جیسی وباؤں نے ہندوستان کو دہشت زدہ کیا تھا۔ تاہم اس طویل مدت کے بعد ابھی تک مذکورہ بالا امراض سے بچاؤ کے لیے کوئی بھی ٹیکہ ایجاد نہیں کیا جا سکا ہے۔ میڈیکل سائنس میں ابھی تک مذکورہ بالا وبائیں تحقیقات کے مرحلے میں ہی ہیں۔ تازہ ترین وبا کورونا وائرس ہے جس نے چین میں سر اٹھایا ہے۔اگر بغور دیکھا جائے تو کورونا وائرس کی وبا، 2003میں سارس وائرس سے پھیلنے والی وبا سے بھی بڑی دکھائی دیتی ہے۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بھی سارس کے مقابلے میں زیادہ ہو چکی ہے، تاہم کرونا وائرس ،سارس اور زیکا وائرس کے مقابلے میں کم مہلک ہے۔ واضح رہے کہ سانس کی تکلیف پیدا کرنے والی بیماری سارس 2003 میں چین میں پھیلی تھی اور اس کے تقریباً 8100 کیسز سامنے آئے تھے اور اس سے 774 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مگر اس نئے کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک تقریباً 12ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں جس کا انکشاف پڑوسی ملک چین میں گزشتہ برس ماہ دسمبر میں ہوا تھا۔یہ اعداد شمار چین سمیت ان تمام ممالک پر محیط ہیں جہاں کورونا وائرس کے متاثر کی تصدیق کی جاچکی ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک کم و بیش 300 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جو کہ تمام کی تمام چین میں ہی ہوئیں۔ تاہم یہ سارس کی وجہ سے ہونے والی 774ہلاکتوں سے کم ہیں۔ اس نئی وباء کی حساسیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ ٔصحت WHO نے چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس سے متعلق بین الاقوامی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس طرح کا اعلان شاذ و نادر ہی کیا جاتا ہے، جس سے کہ اس بیماری سے نمٹنے میں بین الاقوامی تال میل کو بہتر بنایا جا سکے۔ WHO کے سربراہ Tedros Adhanom Ghebreyesus ٹیڈورس ایدھانوم گیبریسیس نے کہا ہے کہ ان کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس وائرس کے ان ملکوں میں پھیلنے کے امکانات ہیں، جہاں صحت کا نظام بہت کمزور ہے۔ مثال میں ہم بھارت کو رکھ سکتے ہیں ۔ جہا ں محکمہ صحت کی کار کردگی ہمیشہ سوالوں کے گھیرے میں رہتی ہے۔جہاں شعبہ صحت سے وابستہ سارا عملہ عموماً اپنی ذمے داریوں کے تئیں لاپروائی کی وجہ سے بیشتر میڈیا کی سر خیوں میں رہتا ہے۔عالمی ادار ہ صحت کے مطابق امریکہ ، یوکے اور عرب امارات سمیت دنیا کے کم وبیش 22 ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرین پایے گئے ہیں، جن میں 20ممالک میں باضابطہ تصدیق کی جاچکی ہے۔ جبکہ بھارت کی ۱۳ ریاستوں کے مختلف اپتالوں میں کورونا وائرس جیسی علامات کو مد نظر رکھتے ہوئے مریضوں کو داخل کیا گیا تھا۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت ہند کے مطابق چین سے لوٹنے والے 36 ہزار لوگوں کی اسکریننگ بھی کی گئی ہے اور اس کا سلسلہ ملک کے ہوائی اڈوں پر ہنوز جاری ہے۔ حالانکہ ابھی تک صرف ریاست کیرا لہ میں ہی ایک مریض کے کورونا وائرس پازیٹیو ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دریں اثنا عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈورس ایدھانوم گیبریسیس نے اس بیماری کو بین الاقوامی تشویش کی حامل عوامی صحت کی ایمر جنسی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چین پر اعتماد میں کمی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس اقدام کا مقصد ایسے دوسرے ملکوں کی مدد کرنا ہے جو وائرس سے نمٹنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی ادرۂ صحت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ کورونا وائرس کی وباء امریکہ، جاپان اور کناڈا سمیت دنیا کے تقریباً 20ممالک میں مصدقہ طورپر داخل ہوچکی ہے۔ تاہم چین کے علاوہ کہیں سے بھی متاثرین کے اموات کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے اس وبا سے نمٹنے میں تیزی سے کارروائی کرنے کے لیے چینی حکومت کی ستائش بھی کی ہے۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس کی تباہ کاری کو دیکھتے ہوئے وہاں کی حکومت نے محض پندرہ دن میں ہی 1000 اور 1500 بستروں والے دو اسپتال تعمیر کر دیے ہیں، جہاں ماہرین کی ایک بڑی ٹیم کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اس وبا کی روک تھام کے لیے فوج کو بھی اتار دیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق چائنا لبریشن آرمی کے میڈیکل سپلائرس ادویات اور طبی سہولیات کی بڑی امداد لے کر ووہان شہر اور اس کے قرب جوار علاقوں میں پہنچ چکے ہیں ۔
کورونا وائرس کی علامات
کورونا وائرس کے متاثرین بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کی شدت میں یومیہ کی بنیاد پر دھیرے دھیرے تیزی آتی رہتی ہے۔ پھر سر میں لگاتار درد شروع ہو جاتا ہے، شدید نزلہ جس پر دواؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، کھانسی اور مرض کے انتہائی مرحلے میں سانس لینے میں شدید تکلیف ہونے لگتی ہے، نتیجہ کار یہ وائرس گردے فیل کر دیتا ہے اور مریض موت کے منہ میںچلا جا تا ہے۔
کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات
اب تک ملنے والے شواہد کے مطابق انسانوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی چند بڑی وجوہات میں کسی بیمار جانور کے نزدیک جانا، متاثر جانور کا گوشت کھانا یا پہلے سے اس وائرس میں مبتلا انسان سے دوسرے میں منتقل ہونا شامل ہے، ان شواہد کی تصدیق چینی حکام نے کی ہے۔ چین نے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ملک اس وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کے ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں ہے۔
وائرس کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا تھا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری بنیادی طور پر سانس کی نلی کے ذریعے پھیلی ہے، لیکن ابھی تک اس وائرس کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔ ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا۔ ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان میں کم از کم 15طبی کارکن جو اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے وہ بھی اس کا شکار ہیں۔
کورونا وائرس کیا ہے؟
اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی جس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں، لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نلی میں شدید تکلیف ہوتی ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔ اس نئے وائرس کے جینیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنہیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔

