دعوت گراونڈ رپورٹ

ہارون ریشی ،سری نگر

ایک ایسے وقت میں جب کہ جموں کشمیر کے تین سابق وزراء اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت قومی دھارے کے بیشتر معروف اور منجھے ہوئے سیاسی لیڈر جیلوں ہیں، نئی دہلی وادی میں ایک نئی سیاسی لیڈرشپ کو معرض وجود میں لانے اور اسے متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

گزشتہ دو ماہ سے متعدد سابق ممبرانِ اسمبلی پر مشتمل ایک سیاسی گروہ متحرک اور سرگرم ہے۔ ایک مقامی تاجر صنعت کار اور سرمایہ دار الطاف بخاری جو پی ڈی پی، بی جے پی کی مخلوط سرکار میں وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں، اس نئے ابھرتے ہوئے گروپ کی قیادت کر رہے ہیں۔ بخاری کو رام مادھو سمیت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں کے ساتھ قریبی مراسم کے لیے بھی سری نگر سے دہلی تک جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ میڈیا نے اس ابھرتے ہوئے گروپ کو ’’تھرڈ فرنٹ یا تیسرا محاذ‘‘ پکارنا بھی شروع کر دیا ہے۔

مانا جاتا ہے کہ اس مجوزہ تیسرے محاذ کا ایک پس پردہ کردار مظفر حسین بیگ ہیں۔ بیگ مرحوم مفتی محمد سعید کے قریبی ساتھیوں اور انکی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) کے بانیوں میں شامل رہے ہیں۔ وہ ماضی میں جموں کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور رُکن پارلیمنٹ بھی رہے ہیں۔ مظفر حسین بیگ کو حال ہی میں حکومت ہند نے ملک کے تیسرے بڑے شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ سے نوازا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ تاثر قوی ہوگیا ہے کہ بیگ مودی سرکار کے ایک منظور نظر کشمیری سیاستدان ہیں۔ جبکہ خود بیگ کئی بار خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کا شیدائی قرار دے چکے ہیں اور مبالغہ آرائی کی حد سے بھی آگے مودی کی تعریفیں کرتے رہے ہیں۔ سال 2017ء میں بیگ نے نئی دلی میں منعقدہ ایک تقریب جس میں مودی، امیت شاہ اور بی جے پی کے تمام دیگر اعلیٰ لیڈران بھی موجود تھے، سے خطاب کرتے ہوئے مظفر بیگ نے مودی کو گزشتہ ہزارسال کے دوران اس کرہ ارض پر پیدا ہوئیں آئنسٹائن، نیوٹن، نپولن اور ابراھیم لنکن جیسی عظیم شخصیات کے ہم پلہ قرار دیا تھا۔ اس لائیو پروگرام میں بیگ نے کہا تھا کہ اگر ہم وزیر اعظم مودی کا ساتھ دیں گے تو وہ اسی طرح اگلی صدی کے سب سے مہان انسان قرار پائیں گے جس طرح گاندھی جی کو بھارت میں گزشتہ صدی کا سب سے عظیم انسان مانا جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ مظفر حسین بیگ وزیر اعظم مودی کے سب سے بڑے شیدائی ہیں جبکہ بیگ کو پدم بھوشن سے نواز کر مودی سرکار نے بھی انہیں ایک طرح سے قبولیت کی سند عطا کی ہے۔

کشمیر کے موجودہ حالات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین کی غالب اکثریت کو مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں بیگ کا ایک بہت بڑا کردار نظر آنے لگا ہے۔ شاید انہیں مستقبل میں فاروق، عمر اور محبوبہ جیسے معروف سیاسی چہروں کے نعم البدل کے بطور متعارف کرایا جائے گا۔ فی الوقت سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بیگ ہی جموں کشمیر کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوسکتے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سبط محمد حسن نے اس موضوع پر دعوت کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا ’’ مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران مفتی اور عبداللہ خاندان پر کرپشن اور اقربا پروری کے مسلسل الزامات لگنے کے بعد اب بھاجپا سرکار نے عبداللہ اور مفتی جیسے لوگوں کو کشمیر کے سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ اسی لیے اب ایک نئی سیاسی نسل کو سامنے لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اب تک اس بات کے کئی اشارے ملے ہیں کہ کشمیر میں قومی دھارے کی سیاست میں مظفر حسین بیگ اور الطاف بخاری جیسے سیاستدانوں کی قیادت میں ایک تیسرا محاذ قائم کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے کہ جموں کشمیر میں مجوزہ اسمبلی انتخابات میں اس تھرڈ فرنٹ کو ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے موقع مل جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگلی حکومت کی لگام اسی تھرڈ فرنٹ کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اس طرح سے مودی سرکار کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر دینے میں بھی کامیابی ہوسکتی ہے کہ جموں کشمیر میں مقامی لوگ ہی حکومت کررہے ہیں‘‘ تاہم مظفر حسین بیگ ابھی تک تھرڈ فرنٹ کے حوالے سے کھل کر سامنے نہیں آئے ہیں بلکہ اس ابھرتے ہوئے تھرڈ فرنٹ کی قیادت عملی طور پر الطاف بخاری ہی کرتے نظر آرہے ہیں۔ اس گروپ کے ساتھ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس جیسی جماعتوں کے سابق ممبران اسمبلی کی ایک اچھی خاصی تعداد جڑ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس پر یقین کیا جائے تو مجوزہ تھرڈ فرنٹ کے اس ابتدائی ڈھانچے میں اب تک 17سابق ممبرانِ اسمبلی شامل ہو چکے ہیں۔ مرکز میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے حال ہی میں یہ بیان دیا تھا کہ جموں کشمیر میں کانگریس کے کئی لیڈروں کو بلیک میل کرکے تھرڈ فرنٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آزاد کے بقول کشمیر کے کانگریس لیڈران کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر انہوں نے تھرڈ فرنٹ میں شمولیت اختیار نہیں کی تو ان پر کرپشن کے فرضی کیسس چلائے جائیں گے۔ آزاد نے یہ بھی کہا کہ اس مجوزہ تھرڈ فرنٹ کو مرکز کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے اس بیان کے محض ایک ہفتے بعد کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین کانگریس لیڈران کو جموں میں الطاف بخاری اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ میٹنگ میں دیکھا گیا ۔

’تھرڈ فرنٹ‘ کی چھتر چھایا میں این سی، پی ڈی پی اور کانگریس جیسی روایتی سیاسی جماعتوں کے بھگوڑوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز سات جنوری کو اُس وقت کیا جب وہ سرمائی دارالحکومت جموں کے راج بھون میں لیفٹنٹ گورنر گریس چندر مرمو سے ملاقی ہوئے اور انہیں کئی مطالبات پر مشتمل ایک درخواست دی جس میں جموں کشمیر کو آئین کی دفعہ 371 کے زمرے میں لانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ تاکہ دفعہ 370 ختم ہوجانے کے باوجود جموں کشمیر کے باشندوں کو خصوصی رہائشی اور روزگار کے حقوق میسر آ سکیں۔ اس کے دو دن بعد یہ گروپ مرکز کی جانب سے سری نگر بھیجے گئے غیر ملکی سفراء کے وفد سے بھی ملاقی ہوا۔ اب حال ہی میں اس تھرڈ فرنٹ نے دو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جن میں سے ایک کو وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے لیے دہلی بھیجا جائے گا جبکہ دوسری کمیٹی وادی میں سیول سوسائٹی، عام لوگوں اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ روابط پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ گویا اس گروپ نے اب پوری طرح سیاسی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ سرکردہ تجزیہ کار اور بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے ’دعوت‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ این سی، پی ڈی پی اور کانگریس سے بھاگے یا نکا لے گئے لوگوں پر مشتمل اس تھرڈ فرنٹ کو نئی دہلی اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ کیونکہ اس گروپ میں شامل اکثر لوگ ماضی میں بھی دَل بدلی اور وفاداریوں کو تبدیل کرنے کے حوالے سے پہنچانے جاتے ہیں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا ہے کہ نئی دہلی ان کو مستقبل میں کوئی بہت بڑا رول دے گی کیونکہ مرکزی سرکار کو ایسا کرنے کی کوئی مجبوری نہیں ہے۔مرکزی سرکار کو کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ نئی دہلی تو یہاں روایتی سیاست کے ڈھانچے کو مکمل طور پر منہدم کرنے پر تلی ہوئی نظر آتی ہے‘‘

دوسری جانب خود اس ابھرتے ہوئے تھرڈ فرنٹ میں شامل لوگ اپنی سرگرمیوں کو حق بجانب قرار دے رہے ہیں۔ الطاف بخاری کے ایک قریبی ساتھی اور سابق رکنِ قانون ساز کونسل نے اُن کا نام مخفی رکھنے کی شرط پر ’’دعوت ‘‘ کو بتایا کہ ’’ہم جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں کشمیر اور کشمیریوں کے مفاد میں کرنا چاہتے ہیں۔ آپ دیکھیے کہ گیلانی، میر واعظ اور یاسین ملک جیسے لوگوں کو تو منظر نامے سے گویا غائب ہی کردیا گیا ہے۔ ان لیڈروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بھی یہاں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے سیاستدانوں کو قید میں رکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں کوئی تو ہونا چاہیے جو کشمیر اور کشمیریوں کو درپیش روز مرہ کے مسائل کو حل کرانے کے لیے آواز بلند کرے۔ اگر ہم دہلی سرکار کے قریب جاکر یہ مسائل ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض کیوں ہو؟ ہزاروں کشمیری جیلوں میں بند ہیں۔ ہزاروں نوجوانوں کے خلاف پولیس تھانوں میں فوجداری مقدمات درج ہیں۔ تجارت اور صنعتی ادارے ختم ہو چکے ہیں۔ انٹرنیٹ بند ہے، اس کی وجہ سے ہمارے تعلیمی اور طبی شعبے تباہ ہو رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کا مستقبل مخدوش ہورہا ہے۔ ہماری سیاحتی انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ ان سارے مسائل کو اُجاگر کرنے اور انہیں حل کرانے کے لیے کسی نہ کسی کو تو سامنے آنا ہی پڑ ے گا اور اگر ہم یہ بیڑہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے‘‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست سے، یعنی جب سے مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی اختیارات ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو یونین ٹریٹریز میں تبدیل کردیا ہے بیشتر مین سٹریم لیڈروں کو قید کر دیا گیا ہے۔ ان سب کو ما سوائے فاروق عبداللہ کے بغیر کسی چارج کے جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ کو بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ ( پی ایس اے) کے تحت ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ ان کے گھر کو جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ پر پی ایس اے لگانے کے لیے جو الزامات کی فہرست سامنے لائی گئی ہے، اس میں ’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے‘ جیسا سنگین الزام بھی شامل ہے۔ حالانکہ متضاد بات یہ ہے کہ ’ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے‘ والا یہ ’مجرم‘ ابھی تک بدستور رکن پارلیمنٹ ہے۔ یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ پی ایس اے کو جسے وادی میں عمومی طور پر ایک ’کالا قانون‘ پکارا جاتا ہے ماضی میں فاروق عبداللہ کی حکومت نے ہی متعارف کرایا تھا۔ یعنی انہی کی حکومت نے علاحدگی پسندوں اور ملیٹینٹوں کو غیر معینہ عرصے تک جیلوں میں رکھنے کے لیے اسمبلی میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو پاس کرایا تھا۔ اب اسے عبداللہ کے لیے بُرا وقت کہا جائے یا اور کچھ لیکن عملاً آج خود فاروق اسی قانون کے تحت پچھلے چھ ماہ سے اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔

جموں کشمیر میں فی الوقت صدر راج نافذ ہے لیکن مرکزی سرکار نے اس سال جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کا عندیہ دے چکی ہے۔ مبصرین کو یقین ہے کہ نئی دہلی نے فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سے لے کر محبوبہ مفتی تک کے لیڈروں کو جس طرح ذلیل کیا ہے اور انہیں قید و بند کی اذیتیں دی ہیں اس کو دیکھ کر نہیں لگتا ہے کہ یہ لوگ آنے والے اسمبلی انتخابات میں شرکت کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ انتخابی عمل میں شرکت کرنے کے لیے ان لیڈروں اور ان کی پارٹیوں کی سب بڑی الجھن یہ ہوگئی ہے کہ وہ کون سے وعدوں کی بنا پر لوگوں سے ووٹ طلب کریں گے۔ ماضی میں نیشنل کانفرنس رائے دہندگان کو یہ کہہ کر لبھاتی رہی ہے کہ جموں کشمیر کی اٹانومی کو بحال کرایا جائے گا جبکہ پی ڈی پی ریاست میں ’سیلف رول‘ نافذ کرانے کا وعدہ کرتی رہی ہے۔ لیکن اب سیلف رول اور اٹانومی تو دور کی کوڑیاں ہیں کیونکہ نئی دہلی نے پانچ اگست کو جموں کشمیر کی رہی سہی خود اختیاری بھی چھین لی اور اس روز جموں کشمیر کی خود اختیاری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ ایسے میں عبداللہ فیملی اور مفتیوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہوگا کہ وہ کیا کہہ کر لوگوں کے پاس جائیں گے۔کیونکہ سب جانتے ہیں کہ مودی سرکار کو یہ دو سیاسی خاندان ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مبصرین کو یقین ہے کہ تیسرے محاذ کو اگلے الیکشن میں بڑا کردار ملنے کی اُمید ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو یہ سوال اپنی جگہ قائم رہے گا کہ اس الیکشن اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کی حیثیت، اہمیت اور افادیت کتنی ہوگئی کیونکہ یہ تو طے ہے کہ موجودہ حالات میں سیاستدانوں کے نئے چہروں کو عوام کا اعتبار کسی صورت میں بھی حاصل نہیں ہے۔اس مجوزہ تھرڈ فرنٹ سے جڑے اور بھی متعدد سوالات اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں کُلبلا رہے ہیں لیکن ان سارے سوالات کا جواب دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ممکن ہے کہ آنے والے چند ہفتوں میں مجوزہ تھرڈ فرنٹ سے متعلق صورتحال مزید واضح ہوجائے گی اور نئی دہلی کے مجوزہ منصوبے بھی کھل کر سامنے آئیں گے اس ضمن میں فی الحال آنے والے وقت کا انتظار کرنا ناگزیر ہے۔

(ہارون ریشی سری نگر سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی ہیں۔ رابطہ : haroonreshi@gmail.com)