سید تنویر احمد ، بنگلورو

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

اکبر الہ آبادی کا یہ شعر موجودہ حالات میں بہت ہی محتاط نظر آتا ہے۔ آج کیفیت یہ ہے کہ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں ملک دشمن۔ وہ قتل بھی کرکے معصوم قرار پائیں۔

گزشتہ دنوں جنوبی ہندوستان کے ایک معتبر و موقر اسکول شاہین کے معصوم (نابالغ) طلبہ کے ذریعہ اسٹیج پر کیے گئے ایک طنزیہ ڈرامے نے بین الاقوامی سطح پر ہماری سیاست اور پولیس انتظامیہ کا وہ چہرہ ایک بار پھر واشگاف کردیا جو مسلسل اس ملک کی اقلیتوں کو زک پہنچانے میں مصروف ہے۔ اس تحریر کے لکھے جانے تک اسکول کی معلمہ اور صدر مدرس صاحبہ کو بیدر کی پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا تھا اور اسکول کے اسٹاف کے مطابق پولیس ہر دن اسکول کیمپس میں داخل ہورہی ہے۔ اس سے اسکول کا ماحول، امتحان کے قریب بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ شاہین اسکول اور کالج اپنے معیاری تعلیم کے لیے ہندوستان بھر میں مشہور ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں کے 300سے زائد طلبہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے مسابقتی امتحانات میں اعلیٰ رینک حاصل کرتے ہیں۔ کالج میں تقریباً ۵۰ فیصد غیر مسلم طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں۔ اس اسکول میں ۲۱ جنوری کو سالانہ جشن منایا گیا تھا۔ جشن کے دوران طلبہ نے مظاہرے پیش کیے تھے۔ ان میں سے ایک مکالماتی ڈرامہ تھا اس میں دادی اور پوتے کا مکالمہ اسٹیج کرایا گیا تھا۔

اس میں پوتا این آر سی کے بارے میں چند فقرے کہتا ہے۔ اس پر دادی کہتی ہے کہ اگر کوئی مجھ سے کاغذات طلب کرے تو میں اسے چپل سے ماروں گی۔ بس یہی فقرہ ’’دیش کی غداری‘‘ قرار پایا۔ اس ڈرامہ کو ایک صاحب نے سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلا دیا۔ تین دن کے بعد بھگوائیوں کے ہاتھ لگا۔ نیلیش نامی ایک اے بی وی پی کے کارکن نے پولیس میں شکایت درج کروادی۔ ۲۶ جنوری کو ایف آئی آر درج کیا گیا۔ اس میں اسکول انتظامیہ ، چیرمین ، پرنسپال اور ٹیچر ان سب کے خلاف آئی پی سی کی تین دفعات 153A'124A اور 34لگائے گئے ہیں۔

اسکول انتظامیہ قانونی کارروائی میں مصروف ہے۔ شہر کے لوگو ںکا عام خیال یہ ہے کہ موجودہ بی جے پی سرکار اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ کررہی ہے۔ 124Aسیکشن کا استعمال زیادتی ہے۔

ہائی کورٹ کرناٹک کے ایک مشہور ایڈوکیٹ بی ٹی ونکٹیش نے ہفت روزہ دعوت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ذریعہ پیش کیے جانے والا ڈرامہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ ڈرامہ تھا۔ ہاں بچوں سے غلطی ہوئی ہوگی لیکن یہ اتنا سنگین جرم نہیں ہے کہ اس پر سیکشن 124A(Sedition)کا مقدمہ دائر کیا جائے۔

اس پورے واقعے کو بعض لوگ اس نظر سے بھی دیکھتے ہیں کہ اس کی پوسٹ پر وہ ادارے بھی شامل ہیں جو شاہین کی پرواز سے خار کھائے ہوئے ہیں اور ان کے کالجوں میں داخلوں کی شرح تشویشناک حد تک گھٹ گئی ہے۔ شکایت درج کروانے والے فرد کے فیس بک اور سوشل میڈیا کا جائزہ بتاتا ہے کہ وہ بی جے پی کے لیڈروں سے قریبی تعلقات رکھتا ہے ایک فوٹو میں اسے سابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ بھی د یکھا گیا ہے۔ مقامی عوام کا یہ بھی تاثر ہے کہ اب این آر سی اور سی اے اے کے ساتھ دفعہ 124Aکے خلاف بھی مہم چلائی جانی چاہیے کہ اس قانون کا استعمال غلط نہ ہو۔ واضح رہے کہ یہ قانون انگریز سامراج کی دین ہے۔ اسے بشمول کانگریس کے تمام سرکاریں اپنے مفاد کے لیے اکثر استعمال کرتی رہی ہیں۔ حزب مخالف کے قائدین نے اس واقعے پر اپنے بیانات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل این آر سی کی مخالفت کرنے والوں پر حکومت کا ظلم ہے۔

یکم فروری کی صبح ممبر آف پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی بیدر کا دورہ کیا۔ محروس خواتین کے گھر والوں سے ملاقات کی۔ لیکن ان کے آنے سے پہلے ہی یہ واقعہ مقامی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح کے میڈیا میں اپنی جگہ پاچکا تھا۔

واقعے کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ڈرامہ کرنے والے بچوں سےپولیس کے جوان و عہدیداران مسلسل دو دنوں تک تفتیش کرتے رہے۔ تفتیش کے لیے چند پولیس جوان ، پولیس وردی (لباس) میں آئے تھے جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بچوں کے حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے لیکن کیا اس واقعے سے شاہین کی پرواز میں کوتاہی آئے گی؟ دلی سے لے کر بیدر کی گلی تک عوام اپنے جمہوری حق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔