مودی جی نے پندرہ اگست کو لال قلعہ سے ۵ ٹریلین اکونومی کا نعرہ بلند کیا تھا لیکن اب جبکہ ۹ قومی وبین الاقوامی ایجنسیوں نے ۵ سے زیادہ جی ڈی پی کے امکان کو مسترد کردیا ہے، اس سرکار کے اوپر سے عوام کا اعتماد اٹھنے لگا ہے۔ 6 ماہ قبل 60 فیصد عوام کا یہ گمان تھا کہ مودی حکومت کی معاشی کارکردگی یو پی اے سے بہتر ہے لیکن اب تو صرف ۵۰ فیصد لوگ اس کی بہتری کے قائل ہیں۔ ۶ ماہ میں دس فیصد کی کمی غیر معمولی بے۔ حیرت کی بات یہ ہے تیس فیصد لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ یو پی اے کی معاشی کارکردگی این ڈی اے حکومت سے بہتر تھی۔ پہلے ایسا سوچنے والے صرف ۲۲ فیصد لوگ تھے لیکن اس عرصے میں اس قسم کی سوچ رکھنے والوں میں ۸ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ دراصل یہی وہ کمزور کڑی ہے جہاں پر ضرب لگا کر اس حکومت کی کمر کو توڑا جاسکتا ہے۔

اس سروے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ 43فیصد لوگ یہ خیال کرتے ہیں حکومت بیروزگاری اور دیگر بنیادی مسائل کی جانب سے عوام کی توجہ ہٹانے کی خاطر سی اے اے اور این آر سی جیسے حربے استعمال کر رہی ہے۔ اس نہج پر سوچنے والوں کی تعداد جب 70 فیصد ہوجائے گی تو بی جے پی کی حکومت کو گرنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اس لیے این آر سی کے خلاف چلنے والی تحریک کو معیشت سے جوڑنا لازمی ہے۔ عوام کو نوٹ بندی کی مثال دے کر این آر سی کے نفاذ سے متوقع مصائب سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ کوئی نا ممکن ہدف نہیں ہے۔ موڈ آف نیشن نامی سروے کے مطابق اس دوران این ڈی اے کے ووٹ کی شرح ۴ فیصد گھٹ کر ۴۱ پر آگئی ہے۔ اور یو پی اے کی ووٹ کی شرح میں ۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو اب 29 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امیت شاہ کی ساری قلابازیوں کے باوجود این ڈی اے تیزی کے ساتھ اگست 2018کی حالت پر جا رہا ہے۔ اس وقت وہ 36فیصد پر تھا اور یو پی اے کے پاس 31 ووٹ شیئر تھا جبکہ دیگر علاقائی جماعتوں کے پاس ۳۳ فیصد ووٹ تھے۔

اس ووٹ کے تناسب کی بنیاد پر ڈیڑھ سال قبل یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ این ڈی اے کو جملہ 281 نشستوں پر کامیابی ملے گی اور بی جے پی کو 245 پر اکتفاء کرنا پڑے گا لیکن پلوامہ کے بعد ائیر اسٹرائیک کا تکاّ لگ گیا اور بی جے پی کے ووٹ شیئر میں ۹ فیصد کا اضافہ ہوگیا نیز این ڈی اے کی نشستیں ۳۵۳ پر پہنچ گئیں۔ بی جے پی کو پہلی مرتبہ ۳۰۳ سیٹیں مل گئیں۔ حالیہ سروے کے ووٹ شیئر کو سیٹوں میں تقسیم کیا جائے تو حیرت انگیز صورتحال بنتی ہے۔ موڈ آف نیشن کے مطابق اگر آج انتخابات منعقد ہوجائیں تو این ڈی اے کو پچاس سیٹوں کا نقصان ہوگا اور اس کے ارکان کی تعداد گھٹ کر ۳۰۳ پر پہنچ جائے گی۔ اس میں سے بی جے پی کا اپنا نقصان 34نشستوں کا ہوگا اور 271پر سمٹ جائے گا۔ ایس پی اور بی ایس پی کے بھی یو پی اے میں شامل ہوجانے کی صورت میں این ڈی اے مرتے پڑتے ۲۸۲ پر آجائے گی اور اگر عاپ، ٹی ایم سی اور شیوسینا بھی یو پی اے میں شامل ہوجائیں تو این ڈی اے اپنی اکثریت گنوا دے گی۔ ویسے فی الحال یہ ناممکن ہے لیکن این ڈی اے کی مقبولیت میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا تیسری بار اقتدار میں آنا ناممکن ہوجائے گا بشرطیکہ عوام کسی نئی فریب کاری کا شکار نہ ہوجائیں۔

اس جائزے نے قوم کے سامنے دو بہت بڑے چیلنجز پیش کیے ہیں جن کا مقابلہ مسلمانوں کے علاوہ دوسروں کے لیے مشکل ہے۔ پہلا تو یہ کہ اس ملک کی عوام شخصیت پرست ہے وہ اپنے جیسے انسانوں کو بھگوان سمجھ کر ان کی عقیدت میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اس کا فائدہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ہورہا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت کی مقبولیت میں دس فیصد کی کمی اور ووٹ کی شرح میں ۴ فیصد کا خسارہ ہوا وہیں مودی کی ذاتی مقبولیت ہنوز ۶۸ فیصد پر ہے یعنی اتنی بڑی تعداد میں لوگ وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کی کارکردگی اچھا یا بہت اچھا گردانتے ہیں۔ گزشتہ ۶ ماہ کے اندر اس میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ فی الحال مودی بڑی صفائی سے اپنی شبیہ کو بچا کر سارے گندے کام امیت شاہ سے کروا رہے ہیں۔ مسلمان چونکہ وزیراعظم کی مرعوبیت سے محفوظ ہیں اس لیے وہ دوسروں کو لعنت سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سروے کا دوسرا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ یوگی جیسا سفاک اور نااہل وزیراعلیٰ دیگر وزرائے اعلیٰ کے مقابلے زیادہ مقبول یعنی اٹھارہ فیصد پر ہے جبکہ کیجریوال اور ممتا جیسے لوگ بھی ۱۱ فیصد پر ہیں۔

 اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کے رائے دہندگان کسی رہنما کے ظلم و جبر کو برا نہیں سمجھتے لیکن مسلمان چونکہ اس کا شکار ہیں اس لیے اسے بہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ یوگی کے اس عیب کو اگر غیر مسلمین کے سامنے اجاگر کرنے میں کامیابی حاصل ہو جائے تو وہ یوگی کو سنیاس پر بھیج دیں گے اور ملک کی عوام کو ایک ظالم حکم راں سے نجات مل جائے گی۔ اس کام کو کرتے ہوئے امت کو یہ بات رکھنی ہوگی کہ رائے عامہ کی تبدیلی ایک بہت نازک کام ہے خاص طور پر ایسے لوگوں کو جو کسی کی عقیدت میں مبتلا ہوں۔ یہ کام اگر حکمت سے نہیں کیا جائے تو اس کے الٹے اثرات پڑتے ہیں اور قاری یا سامع مودی بھکتی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوسکتا ہے لیکن ملک کے انصاف پسند لوگ جب یہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تو بی جے پی کو اتر پردیش اور مرکزمیں اپنا اقتدار بچانا مشکل ہو جائے گا ۔