ڈاکٹر سلیم خان، ممبئی

جمہوری نظام میں عوام کا رجحان نتیجہ خیز ہوتا ہے اس لیے اسے معلوم کرنے کی خاطر جائزے لیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے میڈیا اور دیگر امور پر کروڈوں روپیے خرچ کیے جاتے ہیں۔ وطن عزیز میں معروف جریدے انڈیا ٹوڈے کے ذریعہ عوامی رجحان (موڈ آف نیشن ) کے سروے کی مشق ہر ۶ ماہ میں ایک بار کی جاتی ہے اور اس کی رپورٹ جنوری کے اواخر اور اگست کے اوائل میں شائع کی جاتی ہے۔ یہ جائزہ صد فیصد حقیقت کاترجمان تو نہیں ہوتا لیکن ہوا کے رخ کا پتہ دیتا ہے۔ اس لیے قومی سطح پر حکمت عملی وضع کرنے والوں کے لیے اس کا پاس و لحاظ مفید ہوسکتا ہے۔ گزشتہ سال ماہِ مئی میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد اگست کے میں جو سروے کیا گیا تو اس کے اندر عوام کے موڈ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

۵ اگست (۲۰۱۹) کو ایوان کے پہلے اجلاس میں وزیر داخلہ نے کشمیر کی دفعہ ۳۷۰ کو مسترد کر کے ایک دھماکہ کردیا۔ اس وقت ذرائع ابلاغ نے اس معاملہ کو یوں پیش کیا جیسے مودی سرکار کے اس اقدام کو پوری قوم سراہ رہی ہے اور سارے لوگ اس کے ساتھ ہیں لیکن سروے بتاتا ہے کہ وہ تاثر غلط تھا۔ اٹھاون فیصد لوگوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی جانب یہ ایک مثبت قدم ہے۔ یعنی بیالیس فیصد عوام کو ایسا نہیں لگتا کہ اس سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اٹھاون اور بیالیس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اس کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ یہ حالت تو ابھی ۶ ماہ بعد ہے۔ وقت کے ساتھ عوام کو یہ احساس ہو جائے گا کہ دفعہ ۳۷۰ کے خاتمہ پر جو خواب دکھائے گئے تھے ان کے شرمندۂ تعبیر ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ وادیٔ کشمیر میں سرمایہ کاری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ ایک ایسے علاقہ میں جہاں انٹر نیٹ تک کی سہولت میسر نہ ہو اور عدم تحفظ کا شکار ہوں! ایسے ماحول میں کون سرمایہ دار وہاں جائے گا اور سرمایہ کاری کرے گا؟

پانچ ماہ قبل بڑے طمطراق سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دفعہ ۳۷۰ کے ختم ہوجانے پر کشمیری پنڈت وادی میں لوٹ سکیں گے حالانکہ آئین کی اس دفعہ نے نہ پنڈتوں کو وہاں سے نکالا تھا اور نہ واپس جانے سے روکا تھا۔ وہ تو گورنر جگموہن کے ذریعہ پیدا کردہ خوف و دہشت کے ماحول سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس عرصے میں عدم تحفظ کا احساس اتنا بڑھ گیا ہے کہ کوئی پنڈت واپس جانے کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لا سکتا۔ 1990 سے قبل وہاں 77 ہزار سے زیادہ کشمیری پنڈت قیام پذیر تھے لیکن اب ان کی تعداد 800 خاندانوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ ابھی حال میں انڈین ایکسپریس نے کشمیر کے اندر رانی پور کے اشوک کمار گنجو نامی پنڈت سےبات چیت کی تو اس نے بتایا کہ مشکل ترین حالات میں بھی ان کے کشمیر میں رہنے کی کئی وجوہات تھیں۔ مثلاً والدین کا اپنی سرزمین سے ہجرت کے لیے راضی نہ ہونا اور ہمسایہ مسلمانوں کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی و اصرار، اس لیے وہ وادی میں جمے رہے۔ اس دوران اشوک کمار کو اپنے وہاں رہنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا لیکن اب ہو رہا ہے۔

اس افسوس کی وجہ دفعہ ۳۷۰ کا خاتمہ نہیں بلکہ اقتصادی ابتری ہے جس نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اشوک کمار کے مطابق پچھلے ۳۰ سالوں میں مرکزی حکومت نے صوبے سے نکلنے والے پنڈتوں کا تو خوب خیال کیا مگر وادی میں بسنے والے پنڈت خاندانوں کو پوری طرح نظر انداز کر دیا۔ اس کی وجہ صاف ہے جس ریاست کی ساری آبادی کو نظر انداز کردیا گیا ہو اس میں ایک مختصر اقلیت کا خیال کیسے رکھا جاسکتا ہے؟ اشوک گنجو کے علاوہ اور کئی پنڈت نوجوانوں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وہ کشمیر سے نکل جانا چاہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہیں مقامی لوگوں سے کوئی خوف لاحق ہے بلکہ وہاں پر معاشی ترقی کے امکانات ناپید ہوگئے ہیں۔ سرکاری ملازمت نہیں ملتی اور نجی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ مودی سرکار کے اس احمقانہ اقدام نے معیشت کو تباہ و برباد کر دیا ہے جس کی وجہ سے کشمیری پنڈت وہاں سے نکلنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ سیاسی مفاد کی خاطر جب معیشت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے تو اس کے ایسے ہی بھیانک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کی صورتحال کا پردہ تو دیویندر سنگھ کی گرفتاری سے چاک ہو چکا ہے۔

موڈ آف نیشن سروے کا ایک چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ جموں کشمیر کو یونین ٹیری ٹیری بنا دینا نہ صرف خلافِ آئین ہے بلکہ قوم کے دفاقی ڈھانچے کو بھی مجروح کرتا ہے۔ کشمیر کے بعد امیت شاہ نے دوسرا متنازعہ فیصلہ شہریت کے قانون میں ترمیم کے ذریعہ کیا۔ اس قانون کی ایسی مخالفت ہوئی جو بی جے پی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی۔ اس کی افادیت سمجھانے کے لیے میڈیا نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ اس سے بھی بات نہیں بنی تو سوشیل میڈیا پر زعفرانی سینا نے خوب توانائی صرف کی اور بالآخر بی جے پی کو گھر گھر پہنچنے کی مہم چلانے پر مجبور ہونا پڑا۔ سادھو سنتوں تک کی خدمات اس کام کے لیے حاصل کی گئیں۔ اس کے باوجود ملک کے ۳۳ فیصد باشندوں نے یہ بتایا کہ انہیں اس کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ اس طرح صرف اکتالیس فیصد شہریوں کی اسے حمایت حاصل ہوسکی ان میں سے بھی بڑی تعداد میڈیا کے بہکاوے میں آگئی ہے۔

اس قانون کے خلاف چلنے والے ملک گیر احتجاج کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ موڈ آف نیشن سروے کے مطابق باون فیصد لوگوں کے خیال میں اس قانون نے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔ یہ دراصل نصف کامیابی ہے کہ ملک کی اکثریت نے اقلیت کے اضطراب کو محسوس کیا مگر یہ کافی نہیں ہے۔ این آر سی کا قانون چونکہ ہندوستان کے سارے باشندوں کو مصیبت میں ڈالے گا اس لیے اکثریتی طبقہ کو بھی اس سنگینی سے واقف کرانا لازم ہے۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ملک کے غیر مسلمین کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کیا جائے۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے انہیں بھی ساتھ لینا بہت ضروری ہے۔ اس سونامی سے متاثر ہونے والوں میں ہندوؤں کا فیصد اگر کم بھی ہوا تب بھی ان کی تعداد زیادہ ہوگی کیونکہ ان کی آبادی زیادہ ہے۔ آسام کا قومی شہری رجسٹر اس کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر ملک کے دیگر علاقوں میں اس حوالے سے بیداری درکار ہے اور اس پر کام ہونا چاہیے۔ یعنی غیر مسلم خواص کو مقرر کی حیثیت سے اپنے یہاں بلانے پر اکتفاء کرنے کے بجائے اب ہندو عوام سے رابطہ پیدا کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔

شاہین باغ کے جوش و خروش نے باطل کے ایوانوں میں ہلچل مچادی ہے۔ سنگھیوں کی جانب سے جامعہ میں ایک نوجوان کی گولی باری ان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جامعہ نگر میں انتہا پسند رام بھکت گوپال کی طرف سے گولی چلا کر سی اے اے مخالف مظاہرہ کرنے والے طالب علم شاداب فاروق کو زخمی کرنا اسی حقیقت کا غماز ہے۔ یہ لوگ سمجھ رہے تھے اس سے لوگ خوفزدہ ہوجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اس کے بعد شاہین باغ میں ایک ہندتوا وادی نے ہوا میں فائرنگ ہوئی لیکن اس سے بھی مظاہرین کا حوصلہ مزید بڑھ گیا۔ اب تو یہ احتجاج وزیر داخلہ امیت شاہ کے اعصاب پر سوار ہوگیا ہے اور اس پر تنقید کرنے پر الیکشن کمیشن نے تین بی جے پی رہنماؤں پر ۴۸ سے ۹۶ گھنٹوں تک کی پابندی نے لگا دی ہے۔ اس مظاہرے نے بی جے پی کے چہرے پر پڑا مکھوٹا تار تار کر دیا ہے۔

غیر مسلمین کے اندر آسانی سے عدم تحفظ کا احساس پیدا نہیں ہوتا لیکن اس قانون کے حوالے سے حکومت کے گھناؤنے اغراض و مقاصد کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سنگھ پریوار کے فسطائی ارادوں کا پردہ فاش کرنا یا آئین کو لاحق خطرات کا رونا رونے سے کام نہیں چلے گا۔ اس لیے کہ عام ہندو کو نہ تو فسطائیت سے خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ آئین کے تحفظ کی فکر لاحق ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے اور جب تک یہ تحریک ان بنیادی مسائل سے نہیں جڑتی تب تک ان کی توجہات کا مرکز نہیں بن سکے گی۔ مذکورہ سروے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ملک میں ۳۲ فیصد لوگوں نے بیروزگاری کے مسئلے سب سے زیادہ فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے نزدیک اہم ترین مسائل میں کسانوں کی بے چینی، مہنگائی، بدعنوانی اور کاروبار کی مندی شامل ہیں۔ معیشت کے حوالے سے عوامی غم و غصے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 62فیصد لوگوں کے مطابق اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت کی حالت خراب ہے۔ 32 فیصد بھکتوں نے معاشی ترقی کی گواہی دی مگر انہیں بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اس کی رفتار سست ہے۔