(دعوت نیوز نیٹ ورک)

دلی اسمبلی الیکشن میں اب سیاست کا سب سے اہم موضوع شاہین باغ ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ بی جے پی نے شاہین باغ کو دلی اسمبلی الیکشن کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔ اب سیاست کا مرکز شاہین باغ ہی ہے۔ لیکن اس شاہین باغ میں سیاست کوئی خاص موضوع نہیں ہے۔ 8فروری کو دہلی میں ووٹنگ ہے لیکن شاہین باغ میں سیاست کو لے کر کوئی جوش و خروش نہیں پایا جاتا۔

اس علاقے کے زیادہ تر لوگ انتخاب یا کسی امیدوار کو لے کر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا صاف طور پر کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یہ احتجاج ضروری ہے۔

بٹلہ ہاوس چوک کے قریب ایک چائے کی دکان پر کھڑے کچھ لوگوں سے جیسے ہی دہلی اسمبلی انتخابات کے تعلق سے میں نے سوال کیا کہ یہاں اس بار کیا رجحان ہے تو ایک صاحب بھڑک جاتے ہیں اور الٹا سوال کر تے ہیں کہ کیا آپ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ آپ ہی بتا دیجیے کہ کس کو ووٹ دیا جائے؟

میں ان کو کافی مشکل سے سمجھا پاتا ہوں لیکن وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ کو تو شاہین باغ میں ہونا چاہیے ۔ اس بار تو ہر میڈیا آرگنائزیشن کے صحافی صرف شاہین باغ کے احتجاج کی خبر کے لیے آ رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا مقصد کوئی نہ کوئی بات نکال کر شاہین باغ اور پورے جامعہ نگر کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ کچھ صحافی اسے کشمیر تک بتا چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہاں دفعہ 370نافذ ہے۔ کاش! مودی جی اور امیت شاہ یہاں سے بھی دفعہ 370ہٹا کر اس علاقے کی ترقی کے بارے میں سوچتے۔

یہ پوچھنے پر کہ کیا یہاں حکومت نے ترقیاتی کام نہیں کروائے ہیں؟ تو اس پر ایک دوسرے شخص کا کہنا ہے کہ حکومت ہمیں اس لائق ہی نہیں سمجھتی ہے کہ ہم اور ہمارا علاقہ ترقی کریں، جب بھی ہم حقوق کی بات کرتے ہیں حکومت ہندو مسلم کا راگ الاپنا شروع کر دیتی ہے۔

وہیں شاہین باغ کے چالیس فوٹا چوراہے پر یادو کی چائے کی دکان پر بی جے پی لیڈروں کے بیان پر تو کافی بحث و مباحثہ ہو رہا ہے لیکن علاقے کی مقامی سیاست کے معاملے پر خاموشی ہے۔ یہاں موجود زیادہ تر نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹی وی یا سوشل میڈیا نہ ہوتا تو شاید اس بار پتہ بھی نہیں چلتا کہ دہلی میں الیکشن بھی ہیں۔ آگے پوچھنے پر وہ بتاتے ہیں کہ جس امیدوار کو سب ووٹ دینگے اسی کو جتا دیا جائے گا۔ کچھ نوجوان کہتے ہیں کہ آخری دن دیکھیں گے کہ کون سا امیدورا بہتر ہے، جس کو بہتر پائیں گے ہم اسی کو ووٹ دیں گے۔

اس پورے معاملے میں دہلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج کے پروفیسر آفتاب عالم بتاتے ہیں کہ اگر پالیٹیکل سائنس کے نکتہ نظر سے دیکھیں تو یہ صورت حال مسلمانوں کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دینے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی سیاست میں ایک خاص طبقے کو اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ اس ملک میں بی جے پی اسی طرز کی سیاست کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ سے مسلمانوں کو دشمن بناکر پیش کرتی آئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ شاہین باغ پر مسلسل آنے والےلیڈروں کے بیانات پولرائزیشن کی سیاست کا حصہ ہیں۔ بی جے پی کے لیڈروں کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ وہ ترقی کے نام پر الیکشن میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے تو ان کے لیے یہی راستہ سب سے آسان ہے کہ ووٹروں کو ہندو مسلمان میں بانٹ دیا جائے ، کیونکہ مذہب بعض مرتبہ ایک ایسا نشہ بن جاتا جس میں انسان تمام باتیں بھول جاتا ہے۔ اور اس حربے کو استعمال کرنے میں بی جے پی کافی حد تک کامیاب نظر آ رہی ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے صدرنشین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کہتے ہیں کہ بی جے پی ہر الیکشن کے پہلے ایسے مسائل اٹھاتی ہے کہ ووٹروں میں پولرائزیشن ہو۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں جس طرح کے بیانات آرہے ہیں، وہ ان کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اور میری نظر میں ان کے ایسے بیانوں سے فرق تو ضرور پڑتا ہے کیونکہ مذہب کی بنیاد پر کہی گئی ہر بات کو ناسمجھ لوگ جلدی ہی مان لیتے ہیں۔ میری رائے میں 70 فیصدی لوگ بغیر سوچے سمجھے بس بھیڑ کی طرح ووٹ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے مطابق شاہین باغ کی تحریک اب کافی پھیل چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں، یہ تحریک صرف شہریت کے مسئلے کی نہیں بلکہ اس تحریک کو میں اس طرح سے دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کو جو سیاسی طور پر حاشیے پر ڈال دیا گیا تھا، اب انہوں نے خود آگے بڑھ کر اپنے آپ کو سیاسی دھارے میں ڈھال لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کی سنے بغیر بی جے پی کے علاوہ کوئی بھی سیاسی پارٹی الیکشن جیت نہیں سکتی ہے۔

وہیں نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ سماج پہلے ہی سے کافی بٹا ہوا ہے۔ یہ ہم سب لوگ 2019 کے انتخابات میں اچھی طرح محسوس کر چکے ہیں۔ ملک کی سیاست میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے کانگریس مسلمانوں کو ڈرا کر ووٹ حاصل کرتی تھی اب یہ کام بی جے پی کر رہی ہے۔ بی جے پی اس ملک کی 80فیصد آبادی کو ڈراتی ہے کہ ہمیں ووٹ دو نہیں تو مسلمان اس ملک پر حاوی ہو جائیں گے، تمہارے بہن بیٹیوں کے ساتھ زور زبردستی کریں گے وغیرہ ۔ بی جے پی لیڈر پرویش ورما یہی بات کہہ کر ووٹروں کو ورغلا رہے ہیں۔ وہ آگے کہتے ہیں کہ دہلی کے اقتدار میں کون آئے گا اور کون نہیں آئے گا، اس سے شاہین باغ کے لوگوں کو کوئی خاص فرق اب نہیں پڑتا ہے۔ جو لوگ بھی دھرنے پر بیٹھے ہیں انہیں سیاست سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے انہیں چاہے جتنا بدنام کیا ہو، لیکن سچ ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے ان کی اس لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ سبھی نے پوری دنیا میں مشہور ہوچکے اس احتجاج سے صرف اپنی سیاسی روٹیاں ہی سینکی ہیں۔

شاہین باغ دہلی اسمبلی الیکشن میں ایک ہاٹ کیک بن گیا ہے، جسے ہر پارٹی اپنے مفاد کے لیے بھرپور استعمال کرنا چاہتی ہے۔ ایسا کوئی لیڈر نہیں بچا ہے جو اس میں نہ کود پڑا ہو۔ ایسے میں اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ شاہین باغ کے دھرنے کی وجہ سے دہلی میں کس سیاسی پارٹی کوکتنا فائدہ حاصل ہوگا۔

شاہین باغ کے بارے میں کس لیڈر نے کیا کہا؟

’’8 فروری کو شاہین باغ میں احتجاج کی حمایت کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔‘‘— منوج تیواری

’’عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے شاہین باغ میں منی پاکستان بنا دیا ہے اور آٹھ فروری کو ہونے جا رہے اسمبلی انتخاب ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ہوگا‘‘۔ کپل مشرا

’’میں کیجریوال سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ شاہین باغ کے لوگوں کے ساتھ ہیں یا نہیں ہیں براہ کرم دلی کے لوگوں کو بتائیں۔‘‘ امیت شاہ

’’لوگ ای وی ایم کا بٹن اتنی زور سے دبائیں کہ کرنٹ شاہین باغ تک پہنچے۔ 8 تاریخ کو جب آپ ووٹ کریں تو ایسے مت سوچنا کہ آپ کا ایک ووٹ کسی کو ایم ایل اے بنائے گا۔ آپ کا ایک ووٹ ملک بھر میں یہ پیغام دے گا کہ نجف گڑھ شاہین باغ والوں کے ساتھ ہے یا بھارت ماتا کے بیٹوں کے ساتھ۔ ‘‘ امیت شاہ

شاہین باغ توہین باغ ہے اور یہاں بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سیسودیا نے کیوں کہا کہ وہ شاہین باغ کی خواتین کے ساتھ ہیں۔ کجریوال جی جواب دو، راہل جی جواب دو کہ آپ کیوں دیش کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں کے ساتھ ہو۔‘‘ سمبت پاترا

’’میں آپ کو یہ لکھ کر دے سکتا ہوں کہ بی جے پی شاہین باغ میں اس راستہ کو نہیں کھولنا چاہتی ہے۔ شاہین باغ سڑک 8 فروری تک بند رہے گی اور پھر9فروری کو کھل جائے گا۔‘‘ کیجروال

’’شاہین باغ‘‘ ’’ٹکرے ٹکرے گینگ‘‘کے عناصر کو اسٹیج فراہم کروارہا ہے۔ یہ مظاہرہ نہ صرف شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف نہیں بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ہے۔ ‘‘ روی شنکر پرساد

’’دہلی کے عوام کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ 'جناح والی آزادی‘‘ چاہتے ہیں یا بھارت ماتا کی جئے‘‘ پرکاش جاوڈیکر

’’شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں بیٹھے مظاہرین کو ایک گھنٹہ میں ہٹایا جاسکتا ہے۔ اگر بی جے پی 11 فروری کو برسراقتدار آتی ہے تو آپ کو ایک گھنٹہ کے اندر وہاں ایک بھی مظاہرین نظر نہیں آئے گا۔ اور ہم ایک ماہ کے اندر سرکاری اراضی پر تعمیر ایک بھی مسجد ہم باقی نہیں چھوڑیں گے‘‘ پرویش صاحب سنگھ ورما

’’اب، وزیر قانون نے شاہین باغ میں مظاہرین کو ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا حصہ بتایا۔ اصل ٹکڑے ٹکڑے گروہ وہ حکمران جماعت ہے جو ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘پی چدمبرم

’’شاہین باغ آج ملک بھر کے آندولنوں کا مرکزی مرکز بن گیا ہے۔ یہ ایک صاف ستھری تحریک ہے۔ وہاں لوگ آئین ہند اور ترنگے کا احترام کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کررہے ہیں۔ ان مظاہرین پر سوالیہ نشان لگانا ناانصافی ہے۔‘‘ سلمان خورشید

شاہین باغ معاملہ بہت حساس ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مرکز اور دہلی حکومت اس معاملے پر پوری طرح سے بے حس بنی ہوئی ہیں۔ جمہوریت میں احتجاج کرنے کا ہر ایک کو حق ہے۔ بچے، بوڑھے اور یہاں تک کہ خواتین بھی دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ حکومت نے ان کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ نہ تو کوئی ان سے بات کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت نہیں بلکہ تاناشاہی چل رہی ہے۔ دہلی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ان مظاہرین کی خبر لیں، وہیں مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان مظاہرین سے بات کرے ‘‘ سبھاش چوپڑا (کانگریس لیڈر)