اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ انسان کیلئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے‘‘۔ (سورہ النجم:37-38)
صاحب تفہیم القرآن نے سورہ النجم کی آیت نمبر37 اور38 کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: اس آیت سے تین بڑے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص خود اپنے فعل کا ذمہ دار ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے فعل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ڈالی جاسکتی اِلّا یہ کہ اس فعل کے صدور میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص اگر چاہے تو کسی دوسرے شخص کے فعل کی ذمہ داری اپنے اوپر نہیں لے سکتا، نہ اصل مجرم کو اس بنا پر چھوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی جگہ سزا بھگتنے کیلئے کوئی اور آدمی اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے۔
اس ارشاد سے بھی تین اہم اصول نکلتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی پائے گا اپنے عمل کا پھل پائے گا۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کے عمل کا پھل دوسرا نہیں پاسکتا، الا یہ کہ اس عمل میں اس کا اپنا کوئی حصہ ہو۔ تیسرے یہ کہ کوئی شخص سعی و عمل کے بغیر کچھ نہیں پاسکتا۔
ان تین اصولوں کو بعض لوگ دنیا کے معاشی معاملات پر غلط طریقے سے منطبق کرکے ان سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی محنت کی کمائی (Earned Income) کے سوا کسی چیز کا جائز مالک نہیں ہوسکتا، لیکن یہ بات قرآن مجید ہی کے دیئے ہوئے متعدد قوانین اور احکام سے ٹکراتی ہے۔ مثلاً قانون وراثت، جس کی رو سے ایک شخص کے ترکے میں سے بہت سے افراد حصہ پاتے ہیں اور اس کے جائز وارث قرار پاتے ہیں، در آنحالیکہ یہ میراث ان کی اپنی محنت کی کمائی نہیں ہوتی بلکہ ایک شیر خوار بچے کے متعلق تو کسی کھینچ تان سے بھی یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں اس کی محنت کا بھی کوئی حصہ تھا۔ اسی طرح احکام زکوٰۃ و صدقات جن کی رو سے ایک آدمی کا مال دوسروں کو محض ان کے شرعی و اخلاقی استحقاق کی بنا پر ملتا ہے اور وہ اس کے جائز مالک ہوتے ہیں حالانکہ اس مال کے پیدا کرنے میں ان کی محنت کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس لئے قرآن کی کسی ایک آیت کو لے کر اس سے ایسے نتائج نکالنا جو خود قرآن ہی کی دوسری تعلیمات سے متصادم ہوتے ہوں، قرآن کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔ بعض دوسرے لوگ ان اصولوں کو آخرت سے متعلق مان کر یہ سوالات اٹھاتے ہیں کہ آیا ان اصولوں کی رو سے ایک شخص کا عمل دوسرے شخص کیلئے کس صورت میں بھی نافع ہوسکتا ہے؟ اور کیا ایک شخص اگر دوسرے شخص کیلئے یا اس کے بدلے کوئی عمل کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیا جاسکتا ہے؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے عمل کے اجر کو دوسرے کی طرف منتقل کرسکے؟ ان سوالات کا جواب اگر نفی میں ہو تو ایصالِ ثواب اور حج بدل وغیرہ سب ناجائز ہوجائیں گے، بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار بھی بے معنی ہوجاتی ہے، کیونکہ یہ دعا بھی اس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جائے، مگر یہ انتہائی نقطۂ نظر معتزلہ کے سوا اہل اسلام میں سے کسی نے اختیار نہیں کیا ہے۔ صرف وہ اس آیت کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ایک شخص کی سعی دوسرے کیلئے کسی حال میں بھی نافع ہوسکتی۔ بخلاف اس کے اہل سنت ایک شخص کیلئے دوسرے کی دعا کے نافع ہونے کو تو بالاتفاق مانتے ہیں، کیونکہ وہ قرآن سے ثابت ہے؛ البتہ ایصالِ ثواب اور نیابۃً دوسرے کی طرف سے کسی نیک کام کے نافع ہونے میں ان کے درمیان اصولاً نہیں بلکہ صرف تفصیلات میں اختلاف ہے۔
(1 ایصال ثواب یہ ہے کہ ایک شخص کوئی نیک عمل کرکے اللہ سے دعا کرکے کہ اس کا اجر و ثواب کسی دوسرے شخص کو عطا فرما دیا جائے۔ اس مسئلے میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ خالص بدنی عبادات، مثلاً نماز، روزہ اور تلاوتِ قرآن وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچ سکتا، البتہ مالی عبادات، مثلاً صدقہ یا مالی و بدنی مرکب عبادات، مثلاً حج کا ثواب دوسرے کو پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اصل یہ ہے کہ ایک شخص کا عمل دوسرے کیلئے نافع نہ ہو، مگر چونکہ احادیث صحیحہ کی رو سے صدقہ کا ثواب پہنچایا جاسکتا ہے اور حج بدل بھی کیا جاسکتا ہے، اس لئے ہم اسی نوعیت کی عبادات تک ایصال ثواب کی صحت تسلیم کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ انسان اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے، خواہ وہ نماز ہو یا روزہ یا تلاوتِ قرآن یا ذکر یا صدقہ یا حج وعمرہ ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آدمی جس طرح مزدوری کرکے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میرے بجائے فلاں شخص کو دے دی جائے، اسی طرح وہ کوئی نیک عمل کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرسکتا ہے کہ اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کر دیا جائے۔ اس میں بعض اقسام کی نیکیوں کو مستثنیٰ کرنے اور بعض دوسری اقسام کی نیکیوں تک اسے محدود رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ یہی بات بکثرت احادیث سے بھی ثابت ہے: بخاری ، مسلم، مسند احمد، ابن ماجہ، طبَرانی (فی الاوسط)، مستدرک اور ابن ابی شیبہ میں حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہؓ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابو رافع، حضرت ابو رافع، حضرت ابو طلحہ انصاری اور حذیفہ بن اُسید الغِفاری کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے لے کر ایک اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربان کیا اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے۔
یہ روایات اس امر کی تصریح کرتی ہیں کہ ایصال ثواب نہ صرف ممکن ہے، بلکہ ہر طرح کی عبادات اور نیکیوں کے ثواب کا ایصال ثواب ہوسکتا ہے اور اس میں کسی خاص نوعیت کے اعمال کی تخصیص نہیں ہے، مگر اس سلسلے میں چار باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیں: ایک یہ کہ ایصالِ اسی عمل کے ثواب کا ہوسکتا ہے جو خالصۃً اللہ کیلئے اور قواعد شریعت کے مطابق کیا گیا ہو، ورنہ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کیلئے یا شریعت کے خلاف جو عمل کیا جائے اس پر خود عمل کرنے والے ہی کو کسی قسم کا ثواب نہیں مل سکتا، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی طرف منتقل ہوسکے۔
دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں صالحین کی حیثیت سے مہمان ہیں ان کو تو ثواب کا ہدیہ یقینا پہنچے گا مگر جو وہاں مجرم کی حیثیت سے حوالات میں بند ہیں انھیں کوئی ثواب پہنچنا متوقع نہیں ہے۔ اللہ کے مہمانوں کو ہدیہ تو پہنچ سکتا ہے مگر امید نہیں کہ اللہ کے مجرم کو تحفہ پہنچ سکے۔ اس کیلئے اگر کوئی شخص کسی غلط فہمی کی بنا پر ایصال ثواب کرے گا تو اس کا ثواب ضائع نہ ہوگا بلکہ مجرم کو پہنچنے کے بجائے اصل عامل ہی کی طرف پلٹ آئے گا۔ جیسے منی آرڈر اگر مرسَل الیہ کو نہ پہنچے تو مرسِل کو واپس مل جاتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایصال ثواب تو ممکن ہے مگر ایصال عذاب ممکن نہیں ہے؛ یعنی یہ تو ہوسکتا ہے کہ آدمی نیکی کرکے کسی دوسرے کیلئے اجر بخش دے اور وہ اس کو پہنچ جائے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی گناہ کرکے اس کا عذاب کسی کو بخشے اور وہ اسے پہنچ جائے۔ اور چوتھی بات یہ ہے کہ نیک عمل کے دو فائدے ہیں۔ ایک ا س کے وہ نتائج جو عمل کرنے والے کی اپنی روح اور اس کے اخلاق پر مرتب ہوتے ہیں اور جن کی بنا پر وہ اللہ کے ہاں بھی جزا کا مستحق ہوتا ہے۔
(مرتب: عبدالعزیز ، کولکاتا)

