عالم نقوی
’’اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ برپا کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے، اور اللہ ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں، محسنین کے قریب ہے (الاعراف آیت 86-56 اور 85)
یہ فساد کیا ہے جس سے منع کیا جا رہا ہے؟ سورہ بقرہ کی آیت چھبیس اور ستائیس کے مطابق ’فاسق‘ ہی مفسد ہیں۔ اور فاسق کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ،حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔
سورہ رعد کی آیت 20تا 25میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے اور جو ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور بس اُسی سے ڈرتے ہیں اور سوء حساب یعنی قیامت میں حساب کی سختی سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ اور جنہوں نے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صبر کیا، نماز قائم کی اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خفیہ اور علانیہ انفاق کیا ہے اور جو برائی کو نیکی اور اچھائی کے ذریعے سے دفع کرتے رہتے ہیں، آخرت کا گھر اُنہیں کے لیے ہے جو ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں جن میں وہ خود اور ان کے آبا و اجداد اور ازواج و اولاد میں سے سبھی خوش اعمال لوگ داخل ہوں گے، اور ملائکہ ان کے پاس ہر دروازے سے حاضری دیں گے اور کہیں گے تم سب پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا اب آخرت کا یہ دائمی گھر ہی تمہاری بہترین منزل ہے۔ اور جو لوگ اللہ سے کیے گئے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور جن سے تعلقات رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اُن سے تعلق منقطع کر لیتے ہیں( یعنی صلہ رحمی کے بجائے قطع رحمی کرتے ہیں ) اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت اور (جہنم کا) بد ترین گھر ہے‘‘
’فاسق‘ معنی کے لحاظ سے نافرمان، بد عہدی کرنے والے اور اطاعت الٰہی کی حد سے نکل جانے والے کو کہتے ہیں۔ اور اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے جس کے تحت از آدم تا ایں دم تمام انسان صرف اُسی ایک اِلٰہِ واحد کی بندگی اطاعت اور پرستش پر مامور ہیں۔ آیت کریمہ میں’’مضبوط باندھ لینے کے بعد‘‘ کا جو فقرہ ہے وہ ’’الست بربکم قالو ا بلی‘‘ کے اُس عہدِ ازل کی طرف اشارہ ہے جو حضرت آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوع انسانی سے لیا گیا تھا جس کا ذکر سورہ اعراف کی آیت ایک سو بہتر میں اس طرح کیا گیا ہے کہ:
’’جب تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی(قیامت تک آنے والی تمام) ذرّیت کو نکال کر انہیں خود ان کے اوپر گواہ بنا کر سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا تھا کہ بے شک ہم اس کے گواہ ہیں (کہ تو ہی ہمارا رب ہے) یہ عہد تم سے اس لیے لیا گیا تھا کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے‘‘
اس آیت کریمہ کا واضح مطلب یہی ہے کہ ہمیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، ہم یاد رکھیں یا شیطان کے بہکاوے میں آکر بھلا دیں، حقیقت یہی ہے کہ ہم آپ سب اپنے خالق و پروردگار کے ساتھ ایک عہدِ الست، ایک میثاقِ ازل میں بندھے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن ہمیں جواب دینا ہو گا کہ ہم نے اُس عہد کی کتنی پابندی کی؟ قرآن کریم یہاں ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دینا چاہتا ہے کہ اللہ کی ربوبیت کا اقرار انسانی فطرت میں پیوست ہے۔
سورہ بقرہ اور سورہ رعد کی مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جسے جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے اُسے کاٹتے ہیں کا مطلب ’قطع رحمی‘ ہے۔یعنی صلہ رحمی کے خلاف کام کرنا۔ جن رابطوں کی مضبوطی پر ہم انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی فلاح کا انحصار ہے اور جنہیں ہر حال میں درست اور برقرار رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ہے، اُن رابطوں کو توڑنا اور اُن رشتوں کو منقطع کرنا بھی زمین پر فساد پھیلانے ہی کی ایک قسم ہے ۔
انبیائے کرام علیہم السلام کے سوا ہم میں سے کوئی بھی غلطیوں اور گناہوں سے مبرا نہیں ہے۔لیکن ہمیں کسی کے لیے بھی کینہ اور بغض نہیں رکھنا چاہیے۔ سورہ نور کی آیت 22میں بالکل واضح ارشاد خداوندی ہے کہ ’’خبر دار تم میں سے کوئی بھی جسے اللہ نے فضل عطا کیا ہے اور وسعت و فراخی بخشی ہے، یہ قسم نہ کھا لے کہ قرابت داروں اور مسکینوں اور راہ خدا میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ کوئی سلوک نہ کرے گا’ ہر ایک کو معاف کر دینا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے سارے گناہ بخش دے؟ بے شک اللہ بڑا بخشنے والا اور مہر بان ہے‘‘۔
یہ قطع رحمی کرنے والے اللہ کے قائم کردہ رابطوں کو کاٹنے اور توڑنے والے یعنی صلہ رحمی نہ کرنے والے بھی فسادی ہیں اور اللہ مفسدوں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا، اللہ فسادیوں سے اور زمین پر فساد پیدا کرنے اور فساد پھیلانے والوں سے کبھی محبت نہیں کرتا۔ واللہ لا یحب المفسدین (سورہ بقرہ آیت 64)
فساد کی تعریف میں اور کون کون سے برے کام شامل ہیں؟ قرآن کا جواب یہ ہے کہ ’کفر بذات خود ایک فساد ہے۔ لہٰذا کفر کا غلبہ بھی فساد ہے۔اور سیدھے راستے صراط مستقیم سے روکنا فساد ہے۔ حق ظاہر ہوجانے کے بعد اس کو ماننے اور تسلیم کرنے سے انکار کرنا فساد ہے۔ اللہ کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل جانا فساد ہے۔ حکومت پانے کے بعد اللہ کے مقابلے میں خود مختاری اختیار کرنا فساد ہے۔ ملک گیری اور مفتوح قوموں میں ذلیل اخلاق پیدا کرنا فساد ہے۔ رعایا کو مختلف (خود ساختہ چھوٹے بڑے اور نام نہاد پست و ذلیل ) طبقوں میں تقسیم کرنا اور بعض کو اٹھانا اور بعض کو گرانا فساد ہے۔
ہر طرح کے ناروا ہتھکنڈوں سے ناجائز (اور غیر انسانی فرقہ پرستانہ اور متعصبانہ) مقاصد پورے کرنا فساد ہے۔ شتر بے مہار (بے نکیل کے اونٹ) کی طرح رہنا فساد ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا فساد ہے۔ دولت سمیٹنا اور اسے روک کر رکھنا (جمع کرنا اور سرکولیشن میں نہ رکھنا اور ضرورت مندوں تک نہ پہنچانا) فساد ہے۔ فواحش کا ارتکاب فساد ہے۔ رہزنی (ڈاکہ زنی اور چوری ) فساد ہے۔ شرک اور ظلم اور اللہ و آخرت کی جوابدہی سے بے خوفی کا لازمی نتیجہ فساد ہے۔ اور شرک تو ہے ہی ظلم عظیم، تو اِن مفسدین فی الا رض کی پیروی ہر گز ہر گز نہ کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ مفسدین کے کاموں کو کبھی سدھرنے نہیں دیتا مفسدین کے کام بالآخر بگڑ کے رہتے ہیں۔ ان مفسدوں فسادیوں اور دنیا میں ظلم کرنے اور فساد پھیلانے والوں کا برا انجام یقینی ہے۔
’’جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا تو اس فساد کے بدلے میں، جو وہ دنیا میں برپا کرتے رہے ہم انہیں عذاب پر عذاب دیں گے‘‘ (سورہ نحل آیت88)
’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے اونچے ستونوں والے عاد اِرَم (قوم عاد ) کے ساتھ کیا برتاؤ کیا کہ جن کے مانند کوئی دوسری قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی اور قوم ثمود کے ساتھ کہ جو پہاڑوں کی وادی میں پتھر تراش کر مکان بناتے تھے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کہ جنہوں نے شہروں میں خوب ظلم و کیا اور فساد پھیلایا تو (بالآخر ایک روز ) اللہ نے اُن (سبھوں ) پر عذاب کے کوڑے برسائے بے شک تمہارا پروردگار ظالموں کی تاک میں (یا ظالموں کی گھات میں )ہے۔ (سورہ فجر ، آیات6تا14)
تیسویں پارے کے اس سورہ مبارکہ فجر میں موجودہ حالات میں ہماری عبرت و نصیحت کے متعدد تذکرے ہیں۔
قوم عاد کے لیے ’ذات العماد‘ اونچے ستونوں والے کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہی کہ وہ بڑی بڑی اور اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے۔ عاد و ثمود دونوں ہی قوموں کے لوگ اپنی قوت اور شان و شوکت کے اعتبار سے اُس وقت دنیا میں بے مثل تھے۔
اور فرعون کے لیے میخوں والا ’ذُوالاَوتاد‘ غالباً اس کی فوجوں اور زبردست فوجی طاقت کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں ہوں جنہیں ٹھونک کر وہ مظلوموں کو عذاب دیتا تھا لیکن اُن سب کا بد ترین انجام آج دنیا کی ہر قدیم تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
ان شا ءاللہ ہمارے عہد کے نمرودوں، فرعونوں، شدادوں اور قارونوں کا انجام بھی بلا کسی استثنا کے نہایت عبرتناک ہوگا۔ ’’اور ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس برے انجام سے دو چار ہونے والے ہیں (سورہ شعراء آخری آیت)

