نوشاد عثمان، اورنگ آباد
کسی بھی ملک یا اجتماعیت کے لیے کوئی ایک ضابطہ، دستور یا قانون ہونا چاہیے جو پورے ملک و معاشرے کو جوڑ ے رکھے۔ کوئی انسانی گروہ جو کسی مذہب یا فکر کو مانتا ہے اسے بھی اپنے ماننے والوں کے درمیان معاملات کو استوار رکھنے کے لیے ایک متعین ’تعزیرات‘ (کوڈی فکیشن) کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ مذہبی کتابیں بنیادی اصول بیان کرتی ہیں اور ان اصولوں کی وضاحت کے لیے کچھ واقعات اور کچھ علمی باتیں بیان کرتی ہیں۔ انہی اصولوں پر مبنی سماج یا اجتماعیت کی تعمیر اور پ
ان کو اس پر گامزن رکھنے کے لیے قانونِ تعزیرات کو وضاحت کے ساتھ دستور کی شکل میں لکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ لوگ مذہبی اصول اور ضوابط کے اپنے اپنے طور پر معنی نکال کر من مانی کر سکتے ہیں۔
یہ تو تھا ایک مذہبی یا ایک فکری انسانی گروہ کا معاملہ جو آج کے دور میں بہت کم ممکن ہے۔ آج کسی بھی ملک میں، چاہے وہاں جمہوریت ہو یا بادشاہت یا اور کوئی نظام، کم از کم دنیا کو دکھانے کے لیے ہی سہی، ایک دستور کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو آئیے! دیکھتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے اصل میں دستور کیا ہوتا ہے!
کوئی بہت بڑا انسانی معاشرہ جو مختلف مذہبی اکائیوں سے مل کر بنا ہو ایک کامن معاہدے کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اس کی سب سے بہترین مثال ہمیں سیرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم میں ملتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ جب مدینہ تشریف لائے اور وہاں پر انہوں نے عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام قائم کیا تو وہاں کے یہودیوں سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کو ’میثاقِ مدینہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ریاستِ مدینہ کا دستور تھا۔ حالانکہ اس وقت قرآن بھی موجود تھا لیکن اس کے باوجود ایک الگ سے دستور بنایا گیا۔ کیوں کہ قرآن پر صرف مسلمانوں ہی ایمان رکھتے تھے۔ دیگر لوگوں کا اس پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی ملک کا آئین دراصل ایک معاہدہ ہوتا ہے جسے اس معاشرے میں موجود سارے گروہ، قبائل اور مذاہب کے لوگوں کی اکثریت کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ بلا شبہ وہ معاہدہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تشکیل دیا جاتا ہے اور اس تعلیم سے ٹکرانے والی کوئی چیز اس میں نہیں ہوتی، لیکن اگر کوئی ایمان والا گروہ کسی ایسے معاشرے میں رہتا ہو، جہاں کی اکثریت غیر مسلم ہو تو ایسی صورت میں اس گروہ کے لیے یہی درست ہے کہ وہ اپنے برادرانِ وطن میں دعوت کا کام کرے۔ خدمتِ خلق کے ذریعے وہاں کے باشندوں کے دلوں کو جیتے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بنیادی تعلیمات پر قائم و دائم رہنے کی اجتماعی کوشش بھی کرتا رہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ان کاموں کے لیے درکار شہری حقوق، آزادی، مواقع اور وسائل یہ سب وہاں کی اکثریت سے کیے ہوئے معاہدے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ہو سکے اپنی بنیادی تعلیمات سے نہ ٹکرانے اور اپنے مقصد کی تکمیل کرنے والے معاہدے کرنا حکمت کا تقاضا ہے۔ لہٰذا جب تک اس کی فکر کے حق میں پوری طرح سے رائے عامہ تیار نہیں ہو جاتی، وہ گروہ وہاں کے دستور کی تائید کرتا رہے گا اور اس کے قوانین کو اپنے موقف کے لیے زیادہ سے زیادہ سازگار بناتا چلا جائے گا۔
اس کے علاوہ اللہ نے قرآن میں معاہدات کا پاس و لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اگر دستور ہماری تائید کے باعث وجود میں آیا ہو تو اسے بھی معاہدات کے پاس ولحاظ کی طرح تسلیم کرنا ہوگا۔ بھارت کا موجودہ دستور ہمیں آئینی طریقے سے اس میں ترمیمات کرنے کی بھی آزادی دیتا ہے، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حرفِ آخر نہیں ہے۔ نہ یہ دستور خود کا کسی مذہبی کتاب سے موازنہ کرواتا ہے کہ کون سی کتاب زیادہ افضل ہے یا کونسی زیادہ مستند یا برحق ہے۔
کسی بھی ملک کے دستور کا اپنے شہریوں سے سماجی زندگی کے معاملات میں کچھ تقاضا ہوتا ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ اس کو ایمان یا عقیدے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا نہ کوئی دستور اس طرح کا تقاضا ہی کرتا ہے۔ اپنی فکر کو ملک کے آئین کے مطابق نافذ کرنے کے لیے بھی ہمارا دستور ہمیں سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ انسانیت کے دشمن دستور کی وہ دفعات سلب کر دینا چاہتے ہیں جو اس ملک میں عدل و انصاف پر مبنی ایک نظام قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہے۔
اس طرح ہمیں ایک اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ خصوصاً ایک ایسا ملک جس میں مختلف مذہبوں، مسلکوں اور تہذیبوں کو ماننے والے رہتے ہیں، ایسے ملک میں تو کوئی ایک آئین ہی پرُ امن زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے، لیکن ہر کسی کو وہی ایک دستور منظور ہو، یہ یہاں کے تکثیری معاشرے میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ لوگ جن قوانین پر متفق ہوں ایسا کوئی ایک دستور بنانا اس ملک کی ایک ضرورت تھی اس لیے ایک آئین بنایا گیا جس میں کچھ ایسی دفعات تھیں جو خود اس دستور کے لکھنے اور اسے منظوری دینے والوں کے مذہب کے خلاف تھیں۔ جیسے شراب نوشی کی اجازت جو خود ڈاکٹر امبیڈکر کے مذہب کے خلاف تھی۔
دستورِ ہند کی دفعہ ٢٥ ہر ایک شہری کو اپنی فکر پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی پوری آزادی دیتی ہے۔ دفعہ ١٩ ہر شخص کو آزادی رائے کا حق فراہم کرتی ہے۔ دفعہ ١٤ اور دفعہ ١٥ کے مطابق ملک میں رہنے والے ہر شخص کے ساتھ چاہے وہ کسی بھی مذہب، برادری یا کسی بھی ملک سے تعلق رکھتا ہو، لازماً برابری کا معاملہ کیا جائے گا۔ دفعہ ٢٩ اور ٣٠ کے تحت یہاں کے اقلیتی ادارے (جیسے مدارس، بائبل اسکول وغیرہ) میں حکومت مداخلت نہیں کر سکتی۔ اپلیکیشن آف شرعیہ ایکٹ ١٩٣٤ یہاں کے مسلمانوں کو نکاح ، طلاق، وراثت اور وقف پراپرٹی، ان چار معاملات میں قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ دینے کے لیے یہاں کی عدالتوں کو مجبور کرتا ہے۔ اس طرح کے انسان دوست قوانین ہم کو ہمارے نصب العین کی طرف گامزن ہونے میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن اگر ملک میں کوئی گروہ دستور کی ان دفعات کو جو انسانی حقوق کی وکالت کرتی ہیں پامال کر رہا ہو تو بھلے ہی وہ دستور مکمل طور پر ہماری فکر کے مطابق ہو یا نہ ہو انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے ہمیں اسی کے سہارے جدوجہد کرتے رہنا چاہیے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس ملک میں رائج نظام کو حق سمجھتا ہو یا موجودہ دستور کو ہی حرفِ آخر یا ایسی کتاب سمجھتا ہو جس پر ہر ایک کا ایمان لانا لازم ہو۔ اگر ہم اس دستور کی بازیابی کے لیے جدوجہد نہیں کریں گے تو پھر عدالتوں کے فیصلوں پر ہم شکایت نہیں کر سکیں گے کیونکہ یہ فیصلے دستور کے مطابق ہی دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ حالیہ چند برسوں کے دوران عدالتی نظام پر بھی غیر دستوری فیصلے سنانے کے الزام لگتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے لیے جب تک عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم نہیں ہوتا تب تک موجودہ نظام ہی کے ذریعے جتنا ممکن ہو انسانی حقوق کی بحالی کی کوشش کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ورنہ ہمارے مخالفین کو ایک بہانہ مل سکتا ہے کہ دیکھو ان کو جب انصاف کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت یہ لوگ دستور کی دہائی دیتے ہیں اور جب دستور کی باری آتی ہے تو یہ لوگ اپنی فکر اور عقیدے کو مقدم رکھتے ہیں۔ مثلاً شاہ بانو کیس پر اس وقت کی عدالت کا فیصلہ بدلا گیا لیکن پارلیمنٹ میں دستوری طریقے سے ہی احتجاج وغیرہ کوششیں کی گئیں۔
آج بھی متنازعہ سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جو احتجاج ہو رہے ہیں اس میں دستور کی بازیابی کا نعرہ پوری طاقت سے بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مظاہروں میں دستور کی بڑی بڑی کاپیاں ہاتھوں میں لے کر لہرائی جا رہی ہیں۔ برادران وطن، خصوصاً بابا صاحب امبیڈکر کے لکھے دستور سے خصوصی انسیت رکھنے والے پسماندہ طبقات کی ان احتجاجات کو جو تائید حاصل ہے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ تحریک دستورِ ہند کی حفاظت اور بقا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔
اگر ہم لوگ الگ سے اپنی ڈفلی بجائیں گے تو برادران وطن کی اکثریت کی تائید ہمیں حاصل نہیں ہوگی، ہم صرف اپنے بل پر لڑائی لڑیں گے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو طلاقِ ثلاثہ کے موقع پر ہمارے بڑے بڑے مظاہروں، کانفرنسوں اور دھرنوں کا نکلا تھا۔ کل کو بھلے ہی عدالت اس قانون کو نہ روک پائے لیکن ملکی عوام اور امت کے شعور کو بیدار کرنے کی یہ کوشش فائدہ مند ثابت ہوگی، انشاء اللہ!
اس لیے آج کل سوشل میڈیا میں جو اس طرح کے پیامات چل رہے ہیں کہ ہم اپنے ایمان کی خیر منائیں اور صرف اپنی لڑائی لڑیں وغیرہ، اس طرح کی چیزیں ہماری کوششوں کو کمزور کریں گی۔ اس طرح کے پیغامات کے پیچھے کیا سازش ہے اس کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ کیوں کہ اس کالے قانون کے خلاف جس انداز سے اور جتنی تعداد میں ہمارے برادرانِ وطن ہمارے ساتھ قربانیاں دے رہے ہیں، اس کی تو کو شاید باطل طاقتوں کو بھی توقع نہیں رہی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف جہاں اپنے انداز بدل رہے ہیں، تو دوسری طرف مختلف حربوں کے ذریعے مسلمانوں کو یکا و تنہا کرنے کی نا پاک کوششوں میں مصروف ہیں۔
اللہ تعالٰی اس طرح کی سازشوں سے ہم سب کو بچائے اور اپنے اصل نصب العین کی طرف یکسو رکھے، آمین!
****

