وجئے واگھمارے
(مراٹھی سے ترجمہ)
متنازعہ این آر سی اور سی اے اے کے خلاف تقریباً ایک ماہ سے ملک گیر سطح پر احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان احتجاجوں کو ہندو۔مسلم رنگ دینے کی ناپاک کوششوں میں ناکامی کے بعد اب اسے ملک سے بغاوت کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ ایک عالمی سطح کا طریقہ کار (Modus Operandi) ہے کہ جہاں کہیں تمہیں کسی مسئلے کا حل نہیں مل پا رہا ہو اور اپنی غلط پالیسیوں کے خلاف عوام کی بے چینی اور مظاہروں کو بدنام کرنا ہو تو اس تحریک یا اس تحریک کے جھنڈے تلے ہونے والے مظاہروں میں دہشت گردوں یا نکسل وادیوں کے ملوث ہونے کا الزام لگا دو پھر تمہارے بقیہ سارے کام آسان ہو جائیں گے۔
بھیما کورے گاؤں واقعہ ہو یا پھر موجودہ شاہین باغ تحریک، ان کو بھی اسی طرح بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھیما کورے گاؤں واقعے پر ریاستی حکومت کی جانب سے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دیے جانے سے قبل اور اپریل 2019 میں پونے پولیس کی تحقیقات پر مطمئن ہونے کے باوجود این آئی اے نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ یہاں معاملہ بالکل واضح ہے اور ہر کسی کو بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ کسی اُوپری اشارے کے بغیر اسی بڑی ایجنسی نے اس مقدمے میں اپنے ہاتھ نہیں ڈالے ہوں گے۔
کنہیا کمار کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے، کنہیا کے ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کی گئی حالانکہ کنہیا کمار نے ویسا کچھ نہیں کہا تھا، یہ ساری باتیں سامنے آچکی ہیں۔ لیکن آج تک کسی نے بھی اس معاملے کی تحقیق کا مطالبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ویڈیو میں چھیڑ چھاڑ کس نے اور کس کے اشارے پر کی تھی
اب شرجیل امام کے 40 منٹ کے ویڈیو میں کچھ منٹ کا حصہ کاٹ کر وائرل کیا گیا ہے، لیکن اس مکمل ویڈیو کو اور شرجیل کے فیس بک وال پر جا کر دیکھنے سے یہ سارا کھیل اچھی طرح سے سمجھ میں آجاتا ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ دلی کے انتخابات جیتنے کے لیے ہندو۔مسلم دشمنی کی آگ بھڑکانے کی منصوبہ بند سازش کی گئی ہے۔ ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائرکٹوریکٹ) کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری مظاہروں میں شدت پسند تنظیموں کی جانب سے رقمیں فراہم کی جاتی ہیں۔ مستقبل میں ان دعوؤں کی حقیقت تو کھل ہی جائے گی لیکن فی الحال ای ڈی نے اپنی ساکھ بہت پہلے سے ہی خراب کر رکھی ہے۔ حکومت سے اختلاف کرنے والے افراد کو نوٹس بھیجنا، ان کے گھروں پر جائز و ناجائز طریقوں سے چھاپے مارنا جبکہ حکومت کی تائید کرنے والے سیاسی لوگوں پر بے پناہ الزامات کے باوجود انہیں کلین چٹ دیدینا یا ان کی جانب سے آنکھیں موند لینا یہ ای ڈی کی شناخت بن گی ہے۔
دہشت گردوں کی مدد کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والی کمپنی سے 10 کروڑ روپیوں کی فنڈنگ قبول کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ای ڈی نے ابھی تک کوئی نوٹس نہیں دیا ہے۔ اسی طرح الکٹورل بانڈ کے تعلق سے مرکزی حکومت کے دباؤ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا ببانگ دہل جھوٹی معلومات فراہم کرتی ہے۔ دہشت گردوں کو دلی میں لانے والے ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کے اکاؤنٹ کی بابت ابھی بھی ای ڈی نے کوئی معلومات ظاہر نہیں کی ہیں۔ امت شاہ کے لڑکے کی کمپنی کو سال بھر میں کروڑہا روپے کا نفع کیسے ہوا؟ اس کی تحقیقات ای ڈی نے کبھی نہیں کیں۔ دابھولکر، گوری لنکیش قتل معاملوں میں کئی تنظیموں کے نام سامنے آئے لیکن ان تنظیموں کی معاشی سرگرمیوں پر بھی کبھی ای ڈی نے تحقیقات نہیں کیں۔بہرحال،
بیسٹ آف لک ای ڈی!

