بھاگوت کے ریمارکس سے مستقبل کا منصوبہ آشکار:امیر حلقہ مغربی یو پی
جناب احمد عزیز احمد امیرِ حلقہ مغربی اتر پردیش و اتر اکھنڈ جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ موہن بھاگوت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کی 130 کروڑ کی پوری آبادی ہندو ہے۔ دراصل یہ لوگ ہمیشہ سے ذو معنی جملے بولتے رہے ہیں۔ ان کے پاس بھارت کے مستقبل کا ایک منصوبہ ہے وہ قانون کی شکل میں اسے ملک کے اندر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ آئین کی رو سے ہمیں یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ ہم اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ نہ صرف عمل پیرا ہو سکتے ہیں بلکہ اس کی اشاعت بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ اسے ختم کرتے ہوئے ایک ایسا قانون مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعہ سے مذہب کی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے اور گھر واپسی جائز ہو جائے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بھارت کے مستقبل کے متعلق نظریات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی اے اے، اسی قانون کو لانے سے پہلے کی پیش بندی ہے یعنی جب ملک کے پسماندہ عوام اپنی مرضی سے ان کا جو منوسمرتی نظام ہے اس سے نکل کے اسلام کے آغوش میں آنا چاہیں گے تو پھر ان کے اسلام میں داخلے کا راستہ مزید تنگ کر دیا جائے۔ اس سے پہلے وہ لالچ کے ذریعے ریزرویشن پالیسی کے ذریعہ سے ان کو اسلام میں آنے سے روکتے رہے ہیں اب وہ چاہتے ہیں کہ مزید خوف پیدا کر دیا جائے۔ غرض ارتداد کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جسے وہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ڈٹنشن کیمپس سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنا نام، مذہب اور کلچر تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جہاں یونان مصر اور روم کا ذکر کیا وہیں مستقبل کے بھارت کے لیے تین ملکوں ،اسرائیل ، جاپان اور جرمنی کا مثال کے طور پرحوالہ دیا جہاں منصوبہ بند طریقے سے ایک قوم کو انہوں نے اس درجہ پر پہنچا دیا کہ جو ان کے لوگ تھے وہ دوسروں سے نفرت کرنے لگے ۔ ان کو حاشیہ پر کر دیا گیا اور اس قدر کردیا گیا کہ پھر اس قوم کو مٹا دینا ان کے لیے آسان ہوگیا۔ اسی طرح سے یہ اس ملک میں بھی کرنا چاہتے ہیں۔ گروگولوالکر نے انیس سو انتالیس میں تصنیف کردہ اپنی کتاب میں واضح طور پر لکھا کہ یہ ملک ہندوستان ہندوؤں کا ملک ہے پھر انہوں نے وہ لوگ جو ہندو نہیں ہوں گے ان کا کیا ہوگا،اس سوال کے جواب میں کہا کہ وہ لوگ جو اس مذہب اور اس کلچر کو اختیار کرکے اس میں ضم ہو جائیں گے ان کو وہ اختیارات دیے جائیں گے جو بنیادی حقوق ہیں اور جو ایسا نہیں کریں گے ان کو اختیارات سے اور قانونی تحفظ سے محروم رکھا جائے گا تو یہ ان کا منصوبہ ہے جو مستقبل کے بھارت میں وہ لانا چاہتے ہیں اور جب وہ مثال کے طور پر اسرائیل ، جرمنی اور جاپان کو پیش کرتے ہیں تواس سے ان کا منصوبہ اور بھی واضح ہوجاتا ہے ۔
ایڈووکیٹ محمد شعیب کے خلاف دوبارہ ایف آئی آر درج
رہائی منچ کے صدر ایڈووکیٹ محمد شعیب کے خلاف لکھنؤ کے گھنٹہ گھر پر سی اے اے ، این آر سی کے خلاف احتجاجی مارچ میں شامل ہونے پر دوبارہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان کے ساتھ 14 افراد کو نامزد اور سینکڑوں نامعلوم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ انہوں نے ہفت روزہ دعوت کو بتایا کہ جھوٹے الزامات عا ید کیے گئے ہیں۔ وہاں پر ٹینٹ لگانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ رہی بات کینڈل مارچ کی تو صرف کینڈل جلائی گئی، کوئی کینڈل مارچ نہیں نکالا گیا۔ گاندھی جی کی یوم وفات پر سب وکیلوں نے کینڈل جلائی تھی میں بھی وہاں پر کھڑا تھا لیکن یہ کہنا کہ مارچ نکالا گیا، جھوٹ ہے اور اس کی بنیاد پر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش ہے تاکہ میں تحریک کو آگے نہ بڑھا سکوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ تحریک کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

