آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ان دنوں ملک بھر میں گھوم گھوم کر یہ بتا رہے ہیں کہ مستقبل میں سنگھ کے خوابوں کا بھارت کیسا ہوگا؟ بھاگوت اس بات کا پرچار کرتے پھر رہے ہیں کہ ہندوستان میں رہنے والے ایک سو تیس کروڑ باشندے ہندو ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں سرسنگھ چالک کا یہ کہنا کسی سازش کا حصہ لگتا ہے۔ دراصل سنگھ شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال کے ترانہ ہندی میں استعمال ہونے والے لفظ \"ہندی\" کو \"ہندو \"سے بدل کر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا ۔۔۔
سنگھ سب کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ بھارت میں رہنے والے وہ تمام باشندے جن کے آبا و اجداد کسی زمانے میں ہندو تھے انہیں کسی تبدیلی مذہب کے بغیر ہندو مان لیا جائے تاکہ گھر واپسی اور شدھی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں مستقبل کا بھارت کے عنوان سے بولتے ہوئے کہا کہ ہندو ہونے کے لیے کچھ کرنا نہیں پڑتا، جن کے پوربج یعنی آباء و اجداد ہندو تھے وہ ہندو ہیں۔ بھاگوت نے ڈاکٹر اقبال کا حوالہ دیے بغیر ترانہ ہندی کے تین الفاظ کا ذکر کیا انہوں نے کہا کہ یونان مصر و روما دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنا وجود کھو چکے ہیں، کیونکہ ان کی تہذیب مٹ چکی ہے۔ مستقبل کے بھارت کے لیے انہوں نے تین دوسرے ممالک کا بھی نام لیا جن میں اسرائیل کا نام سرفہرست ہے، جن سے ان کے عزائم کا پتہ چلتا ہے۔ بھاگوت نے جاپان اور جرمنی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ملک بھی تقریباً ہمارے ساتھ ہی ترقی کے راستے پر چلے تھے لیکن 70 سال میں بھی ہم ان تک نہیں پہنچ سکے۔ مستقبل کے بھارت میں ہمیں ان مثالوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔
اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خان نے موہن بھاگوت کے لیکچر پر دعوت سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ یہ الفاظ کی بازیگری (پھیر) ہے۔ ہندو کا لفظ ہندوستان کے تمام باشندوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا انہیں اپنی زبان ٹھیک کرنا چاہیے اور سکھوں عیسائیوں اور مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی جو ضد ہے اس کو ترک کرنا چاہیے۔
آر ایس ایس کے سربراہ ان دنوں اتر پردیش پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں مراد آباد اور بریلی کے بعد وہ یوپی کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاسی تجربہ گاہ گورکھپور کا دورہ چکے ہیں۔ بھاگوت کے دورے کو 'پرواس، یعنی قیام کا نام دیا جاتا ہے۔ اس دوران ریاستی حکومت کی تمام مشینری ان کی سیوا میں لگائی جاتی ہے سیکورٹی کا یہ عالم ہے کہ ان کی حفاظت میں لگے عملے کو بھی ان کی مرضی کے بغیر ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ یعنی چِڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ میڈیا کو صرف عوامی پروگرام کور کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مولانا توقیر رضا کہتے ہیں کہ منموہن سنگھ کے زمانے میں سونیا گاندھی کو سپر پرائم منسٹر کہا جاتا تھا لیکن آج پوری سرکار آر ایس ایس ریموٹ کنٹرول سے چل رہی ہے اور کوئی سوال اٹھائے والا نہیں۔
دراصل سی آئی اے اور این آر سی معاملے میں اتر پردیش خصوصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ حکومت اتر پردیش نے سب سے پہلے اس کالے قانون کو لاگو کرنے کے لیے غیر ملکی باشندوں کا ڈیٹا وزارت داخلہ کو بھیجا ہے۔ ریاست میں جس طرح سے اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، مظاہرین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور پُر امن احتجاج کو کچلا جارہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کا ماحول بن چکا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے لکھنؤ میں جس طرح اپوزیشن کو دھمکایا وہ رائیگاں ثابت ہوا۔ اس بار دھمکیاں بھی بےاثر ثابت ہو رہی ہیں۔ لکھنؤ کے علاوہ کانپور اور الہ آباد میں بھی احتجاجی دھرنے مسلسل جاری ہیں۔ شیعہ رہنما ڈاکٹر کلب صادق اپنی پیرانہ سالی اور علالت کے باوجود گھنٹہ گھر کے احتجاج میں پہنچے اور وہاں کی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک مودی اور شاہ کی مرضی سے نہیں بلکہ دستور سے چلے گا، اس لیے کسی کو ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے بعد مولانا خالد رشید فرنگی محلی اور دیگر علماء نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔ لکھنؤ میں منور رانا کی دو بیٹیوں سمیت درجنوں خواتین پر ایف آئی آر درج کی گئی لیکن مظاہرین اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے عزائم بہت بلند ہیں۔
بقول منور رانا
خاموشی کب چیخ بن جائے کسے معلوم ہے
ظلم کر لو جب تلک یہ بے زبانی اور ہے

