پروفیسر ظفیر احمد،کولکاتا

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہر 5 شہریوں میں 2 بے روزگار ہیں۔ بے روزگاری کے معاملے میں ہمارا ملک پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا یہاں تک کہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ دہلی میں ورلڈ اکانومک سیچویشن اینڈ پراسپکٹس 2020 کی رپورٹ گزشتہ جمعہ کو شائع کی گئی جس کے مطابق 20 سے 34 سال کے درمیان چالیس فیصد بھارتی نوجوان 2010 سے 2018 تک تعلیم، روزگار یا ٹریننگ (NEET) میں شامل نہیں ہوسکے، جہاں تک شرح نمو کا تعلق ہے اس WESP کی رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ 2019-20 میں ہندوستان کی شرح نمو 5.7 فیصد تک رہ سکتی ہے۔ حالانکہ 2019 میں یہاں کے شرح نمو کا اندازہ 7.5 لگایا گیا تھا یا اس سے کچھ کم، لیکن ملکی معیشت کی بدحالی کی وجہ سے اب یہ تخمینہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد تک ہی رہ پایا ہے۔ کیونکہ بے روزگاری گزشتہ 45 سالوں میں سب سے زیادہ بڑھی ہے۔ پیداوار میں گراوٹ، افراط زر اور دیگر وجوہات کے بنا پر ضروری اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، گرچہ چند سال قبل ہی مغربی ممالک نے ہندوستان کو ایشین ٹائیگر بتاکر چین کے ساتھ شمار کرنا شروع کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ ماہ دسمبر میں مہنگائی کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ خوردہ مہنگائی کی شرح ہی نہیں، بلکہ تھوک مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس میں تیل، دال، آٹا، چاول سبزی سب شامل ہیں۔ سبزیوں کی قیمت میں60 سے70 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جبکہ پیاز کی قیمتوں میں400 سے 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ آلو کی قیمت میں 40 سے50 فیصد تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں اب حکومت کے دعوے پر سوال اٹھنا شروع ہوگیا ہے کہ آخر پانچ برسوں میں ہمارا ملک 5 پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کیسے بن پائے گا جبکہ ہمارے ملک کے زرعی شعبہ کے حالات بھی خستہ ہیں؟

گزشتہ ہفتہ ہی اس سال کا قومی اسٹیٹسٹیکل ایجنسی (این ایس اے) کے جی ڈی پی کا تخمینہ 5 فیصد دکھایا گیا ہے۔ 11 برسوں میں ترقی کی رفتار سب سے کم درج کی گئی ہے۔ اس لیے موجودہ دو سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.8 فیصد تک گراوٹ آگئی۔ گزشتہ دسمبر میں سنٹرل بینک نے 5 فیصد اور اس سے بھی کم کی پیش گوئی کر رکھی ہے کیونکہ اکتوبر تا دسمبر میں ٹیکس کی وصولیابی کی کمی کی وجہ سے مختلف وزارتوں کے اخراجات میں ایک چوتھائی کی کمی کردی گئی ہے اور یہ حکومت کے لیے ایک بڑا درد سر ثابت ہو رہا ہے۔ اگر حکومت کے ہاتھوں کم خرچ ہوتا ہے تو تمام لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوگی، آرڈر اور کنٹریکٹ کا خاتمہ ممکن ہے جس سے اقتصادیات کے جملہ شعبہ جات متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اس سال کے اخیر تک لوگوں کے لیے دو وقت کے گزارے کے بھی لالے پڑسکتے ہیں اور آئندہ سال بھی حکومت خرچ کرنے میں کوتاہی پر مجبور ہوسکتی ہے، کیونکہ ٹیکس کی وصولیابی اور اخراجات کے درمیان کافی بڑی کھائی آجائے گی۔ گزشتہ دو سالوں میں اخراجات کے دائرہ کو کافی وسیع کردیا گیا ہے۔ تنخواہوں، سود کی ادائیگی اور سبسڈیز و دیگر حکومتی اسکیموں میں آمدنی کے بڑے حصے لگ جائیں گے۔ فی الوقت ٹیکس کی وصولی منفی سمت میں ہے، جس سے اخراجات پر بندش لگے گی لیکن اس کو کم کرنا ہماری معیشت کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔ گزشتہ سال ٹیکس کی وصولیابی 1.65 ٹریلین روپے کم ہوئی ہے اور توقع ہے کہ امسال 2.63 ٹریلین تک کم ہوسکتی ہے، کیونکہ براہ راست جی ایس ٹی سے وصولی پر تیزی سے گرتی ہوئی پیداوار کا حد سے زیادہ منفی اثر پڑا ہے۔ فی الوقت حکومت اقتصادی سستی کی وجہ سے ٹیکس کی حد کو بڑھانے کی جسارت بھی نہیں کرپائے گی، کیونکہ افراط زر گزشتہ سال کے اگست کے 3 فیصد سے بڑھ کر دسمبر میں 4 فیصد ہوگیا ہے۔ زیادہ افرادط زر آمدنی کو کم کردیتا ہے اور لوگوں کی قوت خرید بھی گھٹ جاتی ہے۔ اس لیے مختلف شعبہ جات کے مد میں اخراجات کا بڑھانا ہی زیادہ سود مند ثابت ہوگا، کیونکہ 5 فیصد امیروں اور صنعت کاروں سے 60 فیصد ٹیکس کی وصولی ہوتی ہے اور یہ لوگ خرچ کم کرتے ہیں اور زیادہ ہی بچاتے ہیں، لیکن غرباء کی آمدنی کا بڑا حصہ یا تو ضروریات زندگی پر خرچ ہوجاتا ہے یا قرض کی ادائیگی میں۔ اس لیے امیروں پر ٹیکس کی کٹوتی کا اثر کم ہی ہوتا ہے۔ اس لیے معیشت کے انجن کو چلانے کے لیے غیر منظم شعبوں میں سرمایہ کاری کو زیادہ ہی بڑھاوا دیا جائے، تاکہ لوگوں کی آمدنی کے ساتھ ضروری اشیا کی مانگ بڑھے اور اس سے اقتصادیات کو مضبوطی اور توانائی حاصل ہو۔

ہماری معیشت پر کئی ماہ سے جاری سماجی ہنگامے، مظاہرے، انٹرنیٹ پر بندش اور انتظامی ممنوعہ احکام نے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ اس سے کھپت اور کاروبار کو زبردست دھکا لگا ہے۔ بہت ساری کمپنیوں نے کہنا شروع کردیا ہے ہمارے اسٹورس بند ہوگئے ہیں، شو روم میں مال بھی نہیں رکھا جاسکاوغیرہ وغیرہ ۔ سیاحتی صنعت بھی غیر ملکی حکومتوں کی ضروری پابندیوں کی وجہ سے کافی متاثر ہوئیں ہیں۔

 دوسری طرف نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق 26 ہزار نوجوانوں نے 2018 میں خودکشی کی ہے، جس میں بے روزگاری سے پریشان 13 ہزار نوجوان اور نجی کاروبار کی ناکامی سےدوچار 13 ہزار افراد نے اپنی جانیں گنوادی ہیں۔ اس کے ساتھ ہر سال 12 ہزار کسان اپنی پیداوار کی معقول قیمت نہ پانے کی وجہ سے خودکشی کرتے آرہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم اور روزگار سے باہر رہنے والے ہندوستانیوں کی تعداد حد سے زیادہ ہے۔ بے روزگاری کی یہی صورتحال رہی تو ملک میں تشدد اور تخریب کو ہوا ملے گی، جس کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ جے این یو کے اسکول آف سوشل سائنسز کے پروفیسر پربھات پٹنائک کا کہنا ہے کہ ملک فاشزم کی طرف جارہا ہے اور اس کی بڑی وجہ معیشت کی سست روی اور آسمان پر جاتی بے روزگاری ہے۔

مودی حکومت ملک کی اقتصادی کسل مندی پر پریشان ضرور ہے، لیکن معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بہت زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔ ملک میں کاروبار اور صنعت کاری کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے پرامن اور سازگار ماحول بھی نہیں بنایا جاسکا۔ ملک میں ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ جس کا اظہار راہل بجاج جیسے مشہور صنعت کار نے بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے بڑے سرمایہ کار ملک سے باہر سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار ’پر دھان سیوک‘ کے لاکھ جتن کے باوجود ملک میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آرہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایمیزن کے مالک جیف بیزوز نے ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز رکھی تھی جس سے ۱۰لاکھ روزگار کے مواقع فراہم ہوتے، لیکن حکومت نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی، کیونکہ جیف بیزوز کے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ملک میں سی اے اے پر قانون سازی کو لے کر مرکزکی بھاجپائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ دھیرے دھیرے بینکوں پر سے بھی لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ بھارت گیس، این جی سی، بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل جیسی سرکاری کمپنیاں نیلامی کے دہانے پر ہیں۔ حکومت کی ملکیت والی بیمہ کمپنی ایل آئی سی پر نان پرفارمنگ ایسیٹس (این پی اے) کا بوجھ 30 ستمبر 2019 کی رپورٹ کے مطابق 30 ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا ہے۔ یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ گلوبل رسک اسیسمنٹ کنسلٹنسی یوریشیا گروپ نے ہندوستان کو 2020 میں جغرافیائی اور سیاسی خطرات کے مد نظر رسک والے ملکوں کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔ اب کوئی معجزہ ہی ملک کو معاشی بحران سے نکال دے، ورنہ ملک کو بڑے سخت حالات سے نبرد آزما ہونا ہوگا۔