بجٹ کی منظوری:
پچھلی قسط میں ہم نے سرکاری بجٹ کے بنانے کے طریقہ کار پر بحث کی تھی۔ اس قسط میں ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سرکار کے بجٹ کی منظوری، نکات اور آڈٹ کا کیا طریقہ کار ہے۔ جب حکومت وزیر خزانہ کے ذریعہ پارلیمنٹ میں بجٹ کو پیش کرتی ہے تو اس کو پارلیمنٹ کے تمام ممبران کے ذریعہ منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے لیے حکومت دو طرح کا بل پیش کرتی ہے جس کو ہم فینانس بل اوراپروپریشن بل کے نام سے جانتے ہیں۔فینانس بل دراصل سرکار کے ذریعہ تمام ذرائع سے آمدنی اکٹھا کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے، جبکہ اپروپریشن بل حکومت کے ذریعہ کیے جانے والے تمام اخراجات کو شامل کرتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بجٹ کے پیش ہونے کے بعد ایک عام بحث ہوتی ہے، جس میں وزیر خزانہ کے بجٹ کی تقریر پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں تمام وزارتوں کے ذریعے طلب کیے گئے سالانہ بجٹ اور خرچ پر توجہ دی جاتی ہے، چونکہ مرکزی سرکار کی سطح پر لگ بھگ (100) سو وزارتیں اور شعبے ہیں، اس لیے حکومت کچھ ہی وزارتوں کے بجٹ پر تفصیل سے بحث کرانے کا موقع ارکان پارلیمنٹ کو دیتی ہے۔ باقی زیادہ تر وزارتوں کے بجٹ کو بحث کے بغیر منظوری دے دی جاتی ہے۔ ہندوستان میں ممبر آف پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ذریعے بجٹ پر بحث کے لیے کافی کم وقت دیا جاتا ہے۔ اس لیے بجٹ میں عام آدمی کی ضرورتوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح عام آدمی کو پچھلے بجٹ سے کیا فائدہ ہوا اس پر بھی پارلیمنٹ کے ممبران زیادہ توجہ نہیں دے پاتے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے، اس میں پارلیمنٹ کے ممبران کے ذریعہ تشکیل کی گئی اسٹینڈنگ کمیٹی( Standing Committee) تمام وزارتوں کےڈیمانڈ ڈرافٹ( Demand Draft (کا تجزیہ کرتی ہے۔ یہ کمیٹی مختلف موضوعات جیسے سماجی انصاف، داخلہ، مالیات، خارجہ، دیہی ترقی، شہری ترقی وغیرہ امور پر تشکیل دی جاتی ہے۔ یہ کمیٹیاں بجٹ کے اپنے جائزے کے دوران خرچ اور آمدنی اور اس سے منسلک تمام مشکلات پر بحث کرتی ہیں اور اپنی تمام سفارشات وزارت کو پیش کرتی ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے بعد ماہِ اپریل سے حکومت بجٹ کے نکات پر عمل درآمد شروع کر دیتی ہے۔
بجٹ کے نکات:
اپریل کے بعد منظور شدہ بجٹ کو سرکار تمام وزارتی شعبوں اور اداروں کو جاری کرتی ہے۔ ایک مالی سال میں چار Quarter ہوتے ہیں۔ تمام وزارتیں اپنی اسکیم کے خرچ کو دو سے تین قسطوں میں صوبائی حکومت کو جاری کرتی ہیں اور صوبائی حکومتیں ان پیسوں کو ضلع کی سطح پر بھیجتی ہیں۔
کئی اسکیموں میں مرکزی حکومت صوبائی حکومت سے ایک سالانہ پلان بھی طلب کرتی ہے اور اس کی بنیاد پر ان اسکیموں کے لیے مخصوص کی گئی رقم صوبائی اور ضلعی سطح پر خرچ کی جاتی ہے۔ عام طور سے مرکز ی حکومت دوسری قسط جاری کرنے سے پہلے صوبائی حکومتوں سے Utilisation Certificate طلب کرتی ہے۔ کئی ریسرچ اسٹڈیز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام طور سے صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت کے ذریعہ جاری کیے گئے بجٹ کو خرچ نہیں کر پاتی ہیں یا جو بجٹ خرچ کیا جاتا ہے اس کا معیار کافی خراب ہوتا ہے، اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے بجٹ کافی دیر سے جاری کیا جاتا ہے، ان سب کے پیچھے کافی اسباب ہوتے ہیں جس کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔
بجٹ کا آڈٹ
بجٹ کے مرحلہ کا آخری طریقہ کار آڈٹ ہے۔
آڈٹ کا کام Comptroller And Auditor General(CAG) کے ذریعہ کیا جاتا ہے جو مرکزی سرکار کا ایک ادارہ ہے۔ صوبائی حکومتوں کی سطح پر آڈٹ Auditor General(AG) کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ ان اداروں کے ذریعہ بجٹ کے خرچ کو آڈٹ کیا جاتا ہے ،جس میں اس بات کی چھان بین کی جاتی ہے کہ آیا جس مقصد سے بجٹ کو جاری کیا گیا ہے، اس کو صحیح طریقہ سے خرچ کیا گیا ہے؟
سی اے جی مرکزی حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی مختلف اسکیموں کی پرفارمینس بھی آڈٹ کرتا ہے، جس میں یہ دیکھنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ ایک مخصوص اسکیم اپنے مقصد کے حساب سے اپنے Target Gap کو کتنا فائدہ پہنچا سکی ہے۔ جیسے اقلیتوں کے لیے چلائی جا رہی وظیفے کی اسکیم سے مسلمانوں کے بچوں میں اسکول چھوڑنے کے شرح میں کتنی کمی آئی ہے۔ سی اے جی کے ذریعے تمام آڈٹ رپورٹ کو پارلیمنٹ کے ذریعہ تشکیل کی گئی Public Accounts Committe(PAC) کو پیش کیا جاتا ہے۔
عام طور سے یہ پایا گیا کہ آڈٹ رپورٹس کا پی اے سی کے ذریعہ بہت سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا جاتا، جس کی وجہ سے آڈٹ کے دوران پائی جانے والی کمیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، جس سے بجٹ کے آڈٹ کا کام بہت موثر نہیں ہو پاتا۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بجٹ کا زیادہ تر فائدہ عام آدمی کو نہیں پہنچ پاتا اور سی اے جی کا ادارہ اپنے کام میں زیادہ اہم رول نہیں نبھا پاتا ہے۔
***
بجٹ کی پارلیمنٹ میں منظوری
- وزیر خزانہ کے ذریعہ بجٹ کی پارلیمنٹ پیش کشی
- فینانس بل (Finance Bill)پربحث
- (پیسہ کہاں سے آتا ہے)
- اپروپریشن بل Appropriation Bill)) پربحث
- (پیسہ کہاں جاتا ہے)

