جاوید عالم خان
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، نئی دہلی
بجٹ 2020-21موجودہ این ڈی اے حکومت کا دوسرا بجٹ ہے جس میں ہنوزریلوے بجٹ شامل ہونا ہے۔
بجٹ کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے ہمیں اس بجٹ کو موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ پچھلے کئی برسوں سے ملک معاشی بحران کا شکار ہے۔ جی ڈی پی کی شرح پچھلے چھ سالوں میں سب سے کم درج کی گئی ہے جو کہ اس سال 4.5فیصد ہوگئی ہے اسی طرح سے بے روزگاروں کی شرح بھی پچھلے چار ، پانچ برسوں میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی نے بھی لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے عوام میں خرچ کرنے کی صلاحیت میں کافی گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس تناظر میں عوام اس بجٹ سے کافی امید لگارہے تھے کہ وزیر مالیات موجودہ معاشی چیلنجوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ انہوں نے اس بجٹ میں ان ساری چیزوں کے بارے میں کوئی توجہ نہیں دی۔ اس سال کا کل بجٹ تخمینہ 3042230لاکھ کروڑ رکھا گیا ہے جبکہ 2019-20کے مالی سال میں سرکار کے خرچ کو دیکھا جائے تو یہ بجٹ تخمینہ سے کافی گھٹ گیا ہے جوکہ 2698552لاکھ کروڑ تھا۔ اسی طرح 2018-19کا حقیقی خرچ 2315113لاکھ کروڑ تھا اس اعداد و شمار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے اس بجٹ میں سرکاری خرچہ کو نہیں بڑھایا اس کے علاوہ وہ پچھلےبرسوں میں بھی بجٹ تخمینے کو پوری طرح سے خرچ نہیں کرپائی جس کی وجہ سے معاشی بحران کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ خرچ کم کرنے کی اصل وجہ ٹیکس اور ۔۔ ٹیکس آمدنی کا اکٹھا نہ ہوپانا ہے ۔ جس کی اہم وجہ سرکار کی غلط پالیسیوں جیسے نوٹ بندی اور ناقص جی ایس ٹی سسٹم ہے اور ان غلط پالیسیوں کی وجہ سے جی ڈی پی شرح میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر سرکار کا ۔۔ گھٹ گیا اور مالیاتی گھاٹے کی شرح بھی 38فیصد جی ڈی پی تک پہنچ گئی ہے۔
عام طور سے حکومت بجٹ کو تین بڑے Sectors میں خرچ کرتی ہے جسے ہم (Social Sector)، (Economy Sector) اور (General Sector)کے نام سے جانتے ہیں اگر اس بجٹ میں (Social Sector)اور (Economy Sector)کی بات کریں تو دونوں ہیSector ِ میں بجٹ کا معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ (Social Sector) کے بجٹ میں تعلیم ، صحت ، روزگار اور اقلیتوں، دلت، آدیواسی کو زیادہ فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔
اقلیتی امورکی وزارت کا بجٹ
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں ترقی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ان کے لیے اقلیتی امور کی وزارت اور شعبہ تعلیم بجٹ مختص کرتے ہیں۔ اقلیتی امور کی وزارت اور شعبہ تعلیم کئی اسکیم اور پروگرام چلا رہے ہیں۔ اگر اقلیتوں کے لیے بجٹ کا کُل بجٹ سے موازنہ کیا جائے تو یہ صرف 0.17فیصد ہے جب کہ اقلیتوں کی آبادی ملک میں کل آبادی کا 21 فیصد ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت نے اس سال 5020 کروڑ مختص کیے ہیں جس میں بجٹ کو اقلیتوں کے تعلیم، صلاحیت اور بنیادی سہولتوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس سال اقلیتوں کے بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ اگر ہم سال 2019-20کے خرچ پر نظر ڈالیں تو سرکار اکتوبر2019 تک صرف 27 فیصد ہی خرچ کر پائی ہے۔ وہیں 2018-19میں کل خرچ 75 فیصد ہی ہوا۔ اس کی وجہ سے اقلیتوں کے اہم پروگرام جیسے اسکالرشپ، مولانا آزاد فائونڈیشن، نئی منزل اور پردھان منتری جن دھن پروگرام کا نفاذ پوری طرح سے نہیں ہوسکا۔
اقلیتوں کی ترقی کے لیے اہم پروگرام اسکالرشپ اسکیم میں دو طرح سے دقتیں آرہی ہیں۔ ان اسکیموں میں بچوں کو جو وظیفہ دیا جارہا ہے اس کے یونٹ کاسٹ میں 2007-08سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ جیسے کہ پری میٹرک اسکالرشپ میں سالانہ ایک بچے کو صرف 1000 روپے اضافہ دیا جاتا ہے جو کہ نہایت ہی کم ہے۔ اسی طرح اس اسکیم میں بچوں کا کوریج بھی کافی کم ہے۔ حکومت نے پری میٹرک میں 30 لاکھ اور پوسٹ میٹرک میں 5 لاکھ اسکالرشپ کی تعداد متعین کر رکھی ہے جب کہ ان دونوں اسکیموں میں 73 لاکھ اور 17 لاکھ درخواستیں پچھلے سال حکومت کو دی گئی تھیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیم کے متعلق بالکل سنجیدہ نہیں ہے۔
اقلیتوں کے لیے سب سے اہم پروگرام جو وکاس کاریکر م کے تحت روزگار، صحت ، تعلیم کو مضبوط کرتا تھا جب کہ پچھلے تین سالوں میں اس اسکیم کو مکمل طریقے سے نافذ نہیں کیا جاسکا ہے اور اس اسکیم کے تحت بجٹ کو بھی خرچ نہیں کیا جاسکا۔
اقلیتوں کے لیے مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے امداد کی صورت حال بھی کافی خراب ہے۔ سال 2018-19میں حکومت نے 120 کروڑ روپے مختص کیا تھا لیکن صرف 18 کروڑ روپے ہی خرچ کرپائی ۔ اس سال کے بجٹ میں 220کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا ہے
***
اقلیتوں ، خاص طور پر مسلمانوں کو اس بجٹ میں کیا ملا؟
اس بار کے بجٹ میں مودی سرکار نے وزارت اقلیتی امور کے لیے کل 5029 کروڑ کا بجٹ طے کیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں اس وزارت کا بجٹ 4700 کروڑ تھا۔ یعنی اس بار کے بجٹ میں 329 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ سال 19-2018 میں بھی یہ مجوزہ بجٹ 4700 کروڑ تھا۔
اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ گزشتہ کی طرح اس بار بھی مرکزی حکومت نے اقلیتوں کے لیے جاری اسکیموں کے بجٹ میں کمی نہیں کی ہے۔ بلکہ زیادہ تر اسکیموں میں مجوزہ فنڈ میں اضافہ ہی نظر آرہا ہے۔
مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بجٹ میں کمی
لیکن ہاں! مسلمانوں میں قومی یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے اور ان کی سماجی و معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے قائم کیے گئے مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بجٹ مرکزی حکومت نے اس بار کم کر دیا ہے۔ گزشتہ مالی سال یعنی 2019-20 میں اس کے لیے 90 کروڑ کا بجٹ طے کیا گیا تھا لیکن اس سال اس کے لیے مجوزہ بجٹ صرف 82 کروڑ رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس فاؤنڈیشن کی بنیاد جولائی 1989 میں رکھی گئی تھی۔ لیکن اس کا کام 1993-94 کے مالی سال میں شروع ہوا جب حکومت ہند نے 5 کروڑ کے کارپس فنڈ کی پہلی قسط جاری کی۔ دوسری قسط 1995-96 میں 25.01 کروڑ جاری کی گئی۔ یہ کارپس فنڈ 2011-12 میں بڑھ کر 750 کروڑ ہوگیا۔ 12ویں منصوبے میں اس فاؤنڈیشن پر حکومت کی پھر سے نظر عنایت ہوئی۔ اقلیتوں کے بچوں کو معاشی طور پر با اختیار بنانے اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے قائدانہ خوبیوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کے ساتھ ہی مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے کارپس فنڈ کو 750 کروڑ سے بڑھا کر 1500 کروڑ کردیا گیا ہے۔
غور طلب بات ہے کہ اس عام بجٹ میں ملک کے تقریباً 20 فیصد اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص رقم، کل بجٹ کا تقریباً 0.2 فیصد ہے۔ اب آپ خود ہی سوچ سکتے ہیں کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ کتنا کھوکھلا ہے۔
کم خرچ، دکھاوا زیادہ
سنگین بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت اپنے بجٹ میں اقلیتوں کے لیے بجٹ بڑھانے کا دکھاوا تو بہت کر رہی ہے لیکن جو بجٹ تجویز کیا جاتا رہا ہے اتنی رقم مرکزی حکومت اقلیتی امور کی وزارت کو مختص نہیں کرتی ہے۔
سال 2018-19 کے دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس مالی سال میں مرکزی حکومت نے اقلیتی امور کی وزارت کے لیے 4700 کروڑ کا بجٹ تجویز کیا تھا۔ لیکن جب دینے کی باری آئی تو صرف 3564 کروڑ ہی مختص کیے گئے۔ بہت ساری اہم اسکیموں کے بجٹ کم کردیے گئے۔ اب یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ یہ وزارت اس مختص رقم میں سے کتنی رقم خرچ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ہفت روزہ دعوت جلد ہی اقلیتوں کے لیے متعارف کی گئی اسکیموں کے حشر کی کہانیاں آپ کے سامنے پیش کرے گا…

