ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
( حیدرآباد)
ہندوستان اس وقت 71واں یوم جمہوریہ منارہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت ہچکولے کھاتے ہوئے بھی اپنے سفر کو جاری رکھی ہے۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں جمہوریت کاجو حال ہوگیا اُسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں جمہوری طرزِ حکومت ابھی ناکام نہیں ہوا ہے۔ لیکن مجاہدین ِ آزادی نے جمہوریت کی کامیابی کا جو خواب دیکھا تھا وہ ابھی تک شر مندۂ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ وہ خواب یہ تھا اس ملک میں قانون کی حکمرانی چلے گی۔ قانون سب کے لیے یکساں ہو گا۔ مذہب، ذات، جنس، زبان اور علاقہ کی بنیاد پر کسی سے امتیاز نہیں برتا جائے گا۔ اس ملک کی جمہوریت اور اس کے سیکولر کردار کے تحفظ کے لیے حکومتوں کو پابند کیا گیا کہ وہ کوئی ایسا قانون ملک میں نافذ نہ کریں جس سے ملک کے کسی گروہ کی دل شکنی ہوتی ہو یا اس کے جذ بات مجروح ہوتے ہوں۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک کے قومی راہنماؤں نے ہندوستان کے لیے جو دستور مدوّن کیا اس کی بنیاد جمہوریت اور سیکولرازم پر رکھی گئی۔ یہ سیاسی نظریہ محض اتفاقی طور پر قبول اور منظور نہیں کرلیا گیا۔ اس نظریہ کو ملک میں نافذ کر نے کی اصل وجہ یہ تھی کہ یہ ملک صدیوں سے کئی مذاہب، کئی زبانوں اور کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ کثرت میں وحدت اس کا امتیاز رہا ہے۔ آئین کے مرتب کر نے والے جانتے تھے کہ اس ملک کی آزادی میں سب کا حصہ رہا ہے۔ لہٰذا آزادی کے بعد ملک کے تمام شہر یوں کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری قرار پائی۔ دستور کی تمہید یا اس کا دیباچہ دستور کی روح ہے۔ اس میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ :۔
: ہم بھارت کے عوام انتہائی سنجید گی سے یہ عہد کر تے ہیںکہ بھارت کو ایک مقتدر، سماج وادی، سیکولر، عوامی جمہوریہ بنائیں گے اور اس کے شہر یوں کو ـ:
انصاف: سماجی، معا شی اور سیاسی۔
آزادی: خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کی
مساوات: حیثیت اور مواقع کی اور ان کے در میان فروغ دیں گے اخوت کو، جس سے فرد کی تکریم اور قوم کے اتحاد و سا لمیت کا حصول ممکن ہو:
دستور سازوں نے اس تمہید کا حلف لیتے ہوئے اسی دستور کو قوم کے حوالے کیا۔ دستور کی تمہید میں جن اصطلاحوں کو استعمال کیا گیا وہ بڑی معنویت رکھتے ہیں۔ دستور کے دیباچہ کی پہلی سطر میں بھارت کیا ہوگا اس کا واضح اعلان کر دیا گیا۔ ملک کا مو جودہ منظر نامہ یہ ہے ملک کی موجودہ حکومت اس کے بنیادی ڈ ھا نچے کو ڈھا دینا چاہتی ہے۔ دستور سازوں نے ہزاروں سال کی تاریخ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کو ایک سیکولر مملکت برقرار رکھتے ہوئے ملک میں یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ دستور کے پیش لفظ میں اس بات کی بھی یقین دہانی کرا ئی گئی کہ ملک کے تمام شہریوں کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔ ہر فرد کو اپنے عقیدے اور عبادت کی آزادی ہو گی۔ اس بات کی بھی طمانیت دی گئی کہ ہر ایک کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔
جمہوریت کے 70 سال بعد ملک میں اس وقت جو طا قتیں بر سر اقتدار آ ئیں ہیں وہ دستور کی دھجیاّں اڑاتے ہو ئے دستور کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں۔ اس وقت ملک کا جو منظر نامہ سا منے آ رہا ہے وہ اس بات کی نشا ندہی کر رہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا کوئی خوش آئند مستقبل نہیں ہے۔ فسطائی قوتیں جمہوریت کا نقاب ڈال کر اپنے مذ موم عزائم کی تکمیل میں لگی ہو ئی ہیں۔ ملک کی مجموعی صورتِ حال یہ ہے کہ ملک کے دستوری اور قانونی ادارے بھی حکو مت کے دباؤ میں ہیں۔ سی بی آئی، آر بی آ ئی، سی وی سی، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن بھی آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے سے معذور ہے۔ حکو مت سے سوال کرنا، اب ملک سے غدّاری تصور کیا جا رہا ہے۔ اپنے سیاسی نظریہ سے اختلاف رکھنے والوں کو قوم دشمن اور ملک دشمن کا لقب دیا جا رہا ہے۔ ملک کے نظام تعلیم کو بد لنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاریخ کو مسخ کر کے دیو مالائی قصوں اور کہا نیوں کو مستند تاریخ کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ ملک کے دستوری عہدوں پر سیاسی قائدین کو براجمان کر کے حکومت ان کو اپنے ایجنٹ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ عوام کی مرضی اور منشاء کے بغیر ان کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں۔ جب عوام اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج پر اُترآرہی ہے تو اُسے کچلنے کے لیے حکومت بربریت کے سارے طریقے اختیار کررہی ہے۔ یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس سے جمہوریت کی جڑ یں کھو کھلی ہو تی جارہی ہیں۔ ایک خطرناک رجحان یہ بھی سا منے آ رہا ہے کہ سیاسی اکثریت کو مذہبی اکثریت سے جوڑ کر ایک مخصوص اکثریت کی بالادستی کو منوانے کی ساری تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔ اسی کے ساتھ حب الوطنی کے نام پر نام نہاد جا رحانہ قوم پرستی کے نعرے کو بلند کرکے ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے بل بوتے پر ایسے قوانین ملک میں نا فذ کیے جا رہے ہیںجس سے سماج میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ اپنے سیاسی مفاد کے خاطر اکثریت میں خوف کا ہّوا کھڑا کرکے سیکولر تانے بانے کو توڑا جارہا ہے۔
ہندوستانی جمہوریت کے موجودہ منظرنامے میں اقلیتوں کی جو صورت حال ابھر کر سامنے آتی ہے وہ کوئی خوش آ ئند نہیں ہیں۔ کسی بھی جمہوریت کی کامیابی کا پیمانہ اس ملک کی اقلیتوں کے ساتھ کیے جا نے والے سلوک سے ہوتا ہے۔ دستورِ ہند نے اقلیتوں کوکئی حقوق نہ صرف عطا کیے ہیں بلکہ ان کی ضمانت بھی دی ہے۔ اس ملک کی لسانی اور مذ ہبی اقلیتوں کو دستور کی دفعہ۲۹ اور ۳۰ کے تحت بہت کچھ مراعات دی گئی ہیں۔ ان میں ان کی زبان اور تہذیب کا تحفظ، اپنے رسم الخط کی حفاظت کے ساتھ اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی آزادی وغیرہ شامل ہے۔ اس وقت مرکز میں جو حکومت ہے وہ اقلیتوں کے ان سارے دستوری حقوق کو چھین لینا چاہتی ہے۔ اس کا منصوبہ اقلیتوں کو ساری دستوری آزادیوں سے محروم کر کے انہیں دوسرے در جے کے شہری بناکر رکھ دینا ہے۔ اپنے اسی منصوبے کی تکمیل کے لیے اقلیتوں کو ہراساں اور پریشان کیا جاتا ہے۔ ماب لینچنگ کے نام پر ہجومی تشدد کے ذریعہ کتنے ہی بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کی جانیں لے لی گئیں۔ آزادی کے کئی سال بعد تک فر قہ وارانہ فسادات کا خونین سلسلہ چلتا رہا ہے۔ ان فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا، لاکھوں روپئوں کی املاک تباہ و بر باد ہو ئی۔ طر فہ تماشا یہ کہ مظلوم مسلمانوں کو ہی بیجا مقدمات میں ماخوذ کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ حکو مت کی مشنری بھی مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جا تی رہی۔ پھر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر ظلم و ستم کے پہاڑ ان پر توڑے گئے۔ میڈیا بھی بغیر کسی تحقیق کے مسلمانوں کو موردِ الزام ٹہراتا رہا۔ شاہ بانو کیس سے لے کر آج تک بھی قومی میڈیا مسلمانوں کا بہی خواہ نہیں رہا۔
اپنی دوسری معیاد کے دوران بی جے پی حکومت، جمہوریت اور سیکولرازم کے تحفظ میں کس قدر ناکام ہوگئی اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی معروضی یا تحقیقی مطالعہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے حالیہ اقدامات کے ذریعہ حکومت نے ملک میں جو بھونچال پیدا کردیا ہے اس سے ملک کے جمہوری نظام کو جو خطرات لاحق ہوگئے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شہریت ترمیمی قانون ہو کہ این آر سی یا پھر این پی آر، ان سارے قوانین کو ملک میں نافذ کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ سیکولرازم کو ختم کرکے اس ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کر دیا جائے فسطائی طاقتوں کا یہ ایجنڈا آج کا نہیں ہے۔ اس کی منصوبہ بندی ایک سوسال پہلے کرلی گئی تھی۔ ۱۹۲۵ میںآر ایس ایس کے قیام کے ساتھ ہی اس بات کا عزم کرلیا گیا تھا کہ اس ملک میں ہندوتوا کے نظریات پر ہندوراشٹر قائم کیا جائے گا۔ آج یہ فسطائی طا قتیں اس خواب کو پورا کرنے میں لگی ہو ئی ہیں۔ ان کے لیے ہندوستان کا موجودہ دستور ایک بہت بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اسی لیے بار بار اس میں تر میم کر تے ہوئے یہ طاقتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون بھی اسی مقصد کے لیے بنایا گیا۔ دستور، مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی وکالت نہیں کرتا۔ لیکن اس قانون کے روسے ہندو، سکھ، عیسائی، بڈ ھسٹ، جین، اور پارسیوں کو شہریت دی گئی۔ مسلمانوں کو اس سے محروم کردیا گیا۔ اور پھر اس شہر یت کے حقدار پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے وہ ہندوستانی نژادبا شندے ہوں گے جوان ممالک میں مذ ہبی ہراسانی کے شکار ہوئے ہوں۔ بی جے پی حکو مت کی یہ ساری منطق دستور کے چوکھٹے میں کسی بھی نوعیت سے نہیں ٹکتی ہے۔ حکومت کے اس غیر دستوری اور ناعاقبت اندیش اقدام کے خلاف آج سارے ملک میں احتجاج ہورہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم پڑھنے والے طلباء اور طا لبات اپنے مستقبل کی پرواہ کئے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ملک کے نامور تعلیمی اداروں میں اس وقت شہریت تر میمی قانون کے خلاف جو غم و غصہ پایا جار ہاہے اس کی نظیر سا بق میں نہیں ملتی۔ خواتین، اپنے شِیر خوار بچوں کے ساتھ احتجاج میں شر یک ہو رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے جہد کار ہر قسم کی قر بانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ غرض یہ کہ سارا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ لیکن مودی حکومت کی ہٹ دھرمی بھی کچھ کم نہیں ہوئی ہے۔ جس کالے قانون کے خلاف ملک کے سارے طبقے احتجاج کر رہے ہیں اور اس غیر قانونی، قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت، اس قانون سے دستبردار ہونے کے بجائے اسے نوٹیفائیڈکر دی ہے۔ اس سے حکومت کی آمرانہ مرضی کا اظہار ہوتا ہے۔ جمہوریت میں افہام و تفہیم سے قانون سازی کی جاتی ہے۔ بحث و مباحث کے بغیر کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن حکومت جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹر شپ پراُ تر آئی ہے اور وہ سیاسی طاقت کے نشے میں ایسے قوا نین بنا رہی ہیں جس سے ملک کے جمہوری نظام میں ایسی خرابیاں در آئیں گی کہ جمہوریت کے معنی اور مطلب ہی بدل جائیں گے۔ ملک کے موجودہ منظر نامے کا یہ پہلو بھی افسوسناک ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل کو حل کر نے کے بجا ئے ایسے متنازعہ موضوعات کو چھیڑ رہی ہے جس سے نہ ملک کا فا ئدہ ہونے والا ہے نہ عوام کو اس سے راحت ملنے والی ہے۔ شہر یت تر میمی قانون کے بعد این آر سی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ پھر این پی آر کی بحث چھیڑی جائے گا۔ اس سے ملک میں جو فضاء تیار ہو رہی ہے وہ کسی بھی لحاظ سے ملک میں جمہوریت کی برقراری کے لیے موزوں نہیں ہے۔ کاش حکو مت کے کارندے اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے جمہوریت اور سیکولرازم کے اصولوں پر ملک کو چلانے کا تہیہ کر یں اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ ورنہ یہی کہنا پڑ ے گا کہ :
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں


