ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
علی گڑھ
مصورِ فطرت خواجہ حسن نظامی (1878-1955) اردو زبان و ادب کی ایک معتبر و معروف شخصیت ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کے اہم اور بنیادی گوشوں کو اپنی تحریروں میں اجاگر کیا ہے، چھوٹی بڑی تقریباً دو سو کتب اردو ادب میں تحریر کی ہیں۔ وہ ایک ادیب، مورخ، شاعر اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ تصوف و روحانیت سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے۔ یہی وجہ کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان سے بیعت تھے۔ ان کا ایک اور امتیاز ہے، وہ یہ کہ انہوں نے اردو ادب میں پہلی مرتبہ سوانح حیات اور آپ بیتی کا تصور پیش کیا اور اس موضوع پر باقاعدہ لگ بھگ 1890 میں ایک کتاب تصنیف کی جو 1919 میں شائع ہوئی۔
سطور ذیل میں ان کی معروف کتاب’’کرشن بیتی‘‘ جس کا نام بدل کر بعد میں کرشن جیون رکھا گیا ہے، کی اہمیت و افادیت کو پیش کیا جائے گا۔ یہ کتاب اردو زبان میں سری کرشن کی سوانح زندگی پر ہے۔ اس کو مشائخ بک ڈپو دہلی نے صفر/1342 ہجری بہ مطابق ستمبر 1923 میں تیسری بار شائع کیا ہے۔ یہ کتاب اردو زبان و ادب میں ہندوستان میں مروجہ ادیان پر لکھی گئی کتب میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب پر ایک دیباچہ مہاراجہ سرکشن پرشاد چشتی سابق وزیر اعظم حیدر آباد دکن کا ہے۔ دوسرا دیباچہ معروف مصنف مولانا عبد الماجد صاحب کا ہے۔ یہ دونوں دیباچے کتاب کی عظمت و وقعت اور خواجہ حسن نظامی کی روا داری، ہندو مسلم اتحاد و یگانگت کے لیے ان کی کاوشوں اور مطالعہ ادیان پر ان کی گرفت و دسترس پر بین ثبوت ہیں۔ کرشن بیتی پر مفکرین کی آراء کے تحت مہاراجہ سر کشن پرشاد لکھتے ہیں ‘’خواجہ صاحب مسلمان ہیں، موحد ہیں، صوفی ہیں۔ انہوں نے مسلمان ہونے کے باوجود ہندو مذہب کے ایک ہادی کی بزرگی و عظمت کو ملحوظ رکھ کر لکھتے ہوئے اپنی بے تعصبی کا ثبوت دیا ہے۔ اگرچہ تعصب پرستوں کے دلوں یہ بھی میں خار سا کھٹکتا ہوگا، مگر خدا لگتی اور راستی اور ایمان کی بات تو یہی ہے کہ یہی انصاف ہے اور یہی انصاف دین ہے اور یہی دین و ایمان ہے جو سرمایہ ناز ہے اور اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے۔
یہ کتاب گو مسلمانوں کے لیے لکھی گئی ہے، لیکن اس سے ہر مذہب اور عقیدےکا آدمی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اردو زبان میں اس طرز اور اس شان کی محققانہ و تعصبات سے پاک سری کرشن کے حالات میں اور کوئی کتاب نہ ہوگی۔ کرشن مہا راج کے ہر حصۂ زندگی کو اس عمدگی سے لکھا گیا ہے کہ واقعات کے سمجھنے میں معمولی علم اور سمجھ کے لوگوں کو بھی دشواری نہ ہوگی اور پھر کمال یہ کیا کہ انشاء پردازی کی بہار ہر جگہ عجب مستانہ انداز سے دکھائی ہے اور ہر قصہ کو عالم تصور بنا دیا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ میں نے’ کرشن بیتی‘ کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ رائے قائم کی کہ یہ کتاب مدارس کے نصاب تعلیم میں شریک کی جانی چاہیے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی اقوام، ہندو مسلم میں اصلی اور سچا اتحاد پیدا ہو ان کو اس قسم کی کتابیں اپنے بچوں کو پڑھانی چاہئیں، جن سے ہر قوم دوسری قوم کے رہنمایانِ مذہب کی عزت کرنے پر مائل ہوگی۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی رقم طراز ہیں کہ ہندوستان کی دیسی ریاستوں میں ایسی کتاب کا عام طور سے رائج کرنا ہندو مسلمان کے اس اتحاد کو اور زیادہ قوی کرسکتا ہے جو ریاستوں کا طرہ امتیاز ہے۔ اور جس کو بعض مفسد پرداز طبائع برہم و برباد کرنے کی سعی کر رہے ہیں‘‘۔ مذکورہ اقتباس کے تناظر میں یہ پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ مہاراجہ سر کشن پرشاد نے خواجہ حسن نظامی کی اس شاہکار تصنیف کی انفرادیت کا کھل کر اعتراف کیا ہے اور انہوں نے اپنے دستاویزی دیباچے میں اس کتاب کو ہندو مسلم اتحاد کی طرف ایک اہم قدم بتاکر امید ظاہر کی ہے کہ یہ دونوں قوموں کے مابین پرخاش اور کشمکش کو رفع کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مولانا عبد الماجد دریاآبادی نے اس کتاب کے متعلق انتہائی اہم دیباچہ تحریر کیا ہے۔ ‘’ہندوستان کا مخصوص دائرہ عمل تصوف و روحانیت رہا ہے۔ یہاں اس فن کو جس حدِ کمال کو پہنچایا گیا ہے، اس کی نظیر شاید دنیا کے کسی بھی حصے میں نہیں ملے گی، گوتم بدھ کی تعلیمات تو تمام تر تصوف ہیں ہی، خود ہندو مذہب میں طریقت کا عنصر شریعت پر غالب ہے۔ یہاں کے پیشوایانِ طریقت کا شمار غالباً کل دنیا کے رہبرانِ شریعت سے کم نہیں ہے۔ آ گے لکھتے ہیں کہ اردو کا یہ افلاس تاسف انگیز ہے کہ اس میں اس موضوع پر برائے نام سے زیادہ مواد موجود نہیں۔ خواجہ صاحب مستحقِ تہنیت ہیں کہ انہوں نے اس میدان میں پیش قدمی کی اور سری کرشن کے حالات زندگی پر ایک دلچسپ تالیف تیار کردی جو اگرچہ مختصر ہے، تاہم اردو کی موجودہ سطح کو دیکھتے ہوئے بہت غنیمت ہے‘‘۔ اس کے بعد مولانا عبد الماجد دریاآبادی جو لکھتے ہیں وہ انتہائی اہم اور عصری تقاضوں کی بنیاد ہے۔ ‘’سری کرشن اربابِ طریقت کے ایک مسلّم و محترم پیشوا ہوئے ہیں۔ خواجہ صاحب بھی اسی طائفہ عالیہ کے نام لیوا ہیں۔ ایک بڑی بارگاہ کے خاص متوسل ہیں اور ایک جماعتِ کثیر کے مرشد و رہنما ہیں۔ ان سے زیادہ اس کام کی اہلیت کس میں ہونا چاہیے‘‘ کرشن بیتی کی تصنیف کی وجوہات کی گتھی کو خود صاحب کتاب خواجہ حسن نظامی نے واضح کیا ہے کہ اس کتاب کے لکھنے کی اصل وجہ کیا تھی۔ ذیل کی سطور میں ہم اس حقیقت کو کسی حد تک پیش کرنے کی سعی کریں گے۔ ‘’ میری خواہش اس کتاب کی تصنیف سے یہی ہے کہ مسلمانوں کو سری کرشن جی کے اصلی حالات بتاؤں، اور ان کے پاکیزہ دماغوں کو برگزیدہ آدمی کی نسبت بدگمان نہ رہنے دوں۔ جو قرآن شریف کی ہدایت کے خلاف ہے، جس میں ارشاد ہے’ان بعض الظن اثم ‘میرا خیال و عقیدہ ہے کہ سری کرشن کو بے اعتبار کتابوں کے عقائد کی بناء پر عیاش، فریبی اور فتنہ پرداز سمجھنا حقیقت کے خلاف اور سخت گناہ ہے۔ میں اس ارادے میں کہاں تک کامیاب ہوا ہوں یہ جب معلوم ہوگا کہ پڑھنے والے تعصب سے الگ ہوں اور انسانیت و سچے اسلام کی تعلیمِ انصاف سے متاثر ہو کر اس کو پڑھیں۔ اور اچھا نتیجہ نکالنے کا ارادہ رکھیں‘‘۔ اس کے علاوہ ایک دوسری وجہ اس کتاب کے لکھنے کی یہ بیان کی ہے کہ اس کے ذریعے اردو زبان کی خدمت بھی ادا ہوگی‘‘۔ کیونکہ ہم سب ہندو مسلمان اپنی اس زبان کی ترقی کے فرض میں شریک ہیں جو ہم دونوں کو زندہ رکھنے اور آگے بڑھانے کی کنجی ہے۔ ضد اور ہٹ نے ہم دونوں کو اندھا کر رکھا ہے۔ ورنہ سچ بات یہ ہے کہ اردو اگر وہ اردو ہو جو ہندو مسلمانوں کی مشترکہ اور سارے ہندوستان کی زبان ہے۔ ہر ہندوستانی کا دل اس کو تسلیم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہماری زبان ویسی ہی شاندار ہو جائے جیسا ہمارا ملک تمام دنیا میں شاندار ہے۔ اردو ہندی کی بحث میں دونوں فریق اصولی مقصد کو بھول جاتے ہیں اور ایک بھائی دوسرے ملکی بھائی کو حریفانہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ اردو زبان میں سری کرشن کے حالات بہت کم ہیں، اور جو ہیں وہ ذاتی عقائد و خیالات کی بناء پر لکھے گئے ہیں۔ مثلاً لالہ راجپوت رائے صاحب نے جو لائف سری کرشن جی لکھی ہے اس میں آریہ سماجی نظر سے ہر بات کو درج کیا ہے۔ گویا قدیمی خیال کے ہندوؤں کی تردید میں یا سماجی اصلاح کے ماتحت یہ کتاب مرتب ہوئی ہے۔ اگرچہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ بہت غنیمت ہے۔ یہ وجہ تصنیف خواجہ حسن نظامی نے کتاب کے دیباچہ میں رقم کی ہے۔ اس کا جو مقصد و منشا ہے وہ یہ کہ ہندؤوں اور مسلمانوں میں سری کرشن کے حوالہ سے جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کو دور کیا جائے اور دونوں قوموں کے باہم رشتے خوشگوار رہیں۔ یہ سچائی ہے کہ جس معاشرے میں ایک دوسرے کے مذہب اور برگزیدہ شخصیات کا احترام و تقدس یقینی ہوگا، ایسے ہی سماج کو صالح اور صحتمند کہا جاسکتا ہے۔ اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کے دیگر ضروری مباحث کو اختصار سے قلم بند کیا جائے۔ اس کتاب کے اندر سری کرشن کے احوال و کوائف کو انتہائی سنجیدگی اور محققانہ اسلوب کے تحت پیش کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بس اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اگر کوئی بھی اس کتاب کا مطالعہ کر لے تو اسے نہ صرف سری کرشن جی کی شخصیت، افکار و نظریات کے متعلق تمام چیزوں کا علم ہو جائے گا، بلکہ اس کو ہندو ازم کی بھی بہت ساری معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ ہندو مذہب کی تاریخی حیثیت یہ بات بالائی سطروں میں آ چکی ہے کہ اس کتاب کا دیباچہ مہاراجہ سرکشن پرشاد نے لکھا ہے۔ کتاب کا یہ دیباچہ انتہائی عالمانہ اور ہندو ازم کی مفید و بنیادی معلومات پر مبنی ہے۔ چنانچہ مہاراجہ سرکشن پرشاد لکھتے ہیں۔ ‘’قوموں کے تاریخی حالات سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ ہندؤوں کا مذہب سب سے قدیم ہے جس زمانے میں مصر، یونان اور روم کے مذاہب کی بناء بھی نہ پڑی تھی اور اہل دنیا کے کان ان سے آشنا بھی نہ ہوئے تھے۔ اس مذہب کی عمارت کب کی تیار ہوچکی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ہندو مذہب قدیم زمانہ کے مذہبوں سے نہایت شاندار اور عجیب و غریب ظاہر ہوا ہے۔ یہ کوئی مذہب نہیں ہے، نہ اس کی عمارت کی طرز تعمیر ایک وضع پر ہے۔ اس مذہب کو مشرقی طرز کے نہایت خوش نما عظیم الشان اور وسیع محل سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جو دور سے ایک حیرت انگیز عمارت نظر آتی ہے اور قریب جاکر بغور دیکھنے سے منزل پر منزل چنی ہوئی معلوم ہوتی ہے‘‘۔ مذکورہ اقتباس اس بات پر شاہد عدل ہے کہ ہندو مذہب انتہائی قدیم ہے، لیکن اس کا فلسفہ متعدد نظریات اور مختلف افکار کا مرقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود علماء ہنود اس کی کوئی بھی جامع اور مانع تعریف و توصیف بیان کرنے سے قاصر نظر آ تے ہیں۔ توحید کے سلسلے میں مہاراجہ سرکشن پرشاد نے لکھا ہے کہ ‘’ہندو مذہب بہت بڑا ذخیرہ ہے، مذہبی خیالات کا اس میں نہ باطل عقائد کا نشان ہے،نہ کفر و بت پرستی کا، بلکہ یہ ایسا مذہب ہے کہ اگر اس کے نکات اور عظمت دریافت کرنے کے لیے مقدس رشیوں اور باخدا دیوتاؤں کے طریق علم و عمل کو دیکھا جائے تو خدا پرستی کی پوری شان اور توحید کی حقیقی تصویر نظر آئے گی۔ ہندو مذہب کا اصل الاصول بالکل اس کے مصداق ہے من عرف نفسه فقد عرف ربه‘‘ نتیجہ کے طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ہندو مذہب کے اندر توحید کا تصور پایا جاتا ہے، اگرچہ موجودہ زمانہ میں اس کی اصل شکل کو بگاڑ دیا گیا ہے۔ ہندو دھرم میں بت پرستی کا انکار کرنے والی خود ہندو مذہب کی تمام مقدس کتابیں ہی ہیں۔ ہندو مذہب کے متون مقدسہ رگ وید، اتھر وید، یجر وید اور سام وید کے علاوہ دیگر اہم ہندو مذہب کے بنیادی دستاویز میں بھی توحید کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ آریہ قوم کی ہندوستان آمد پر روشنی ڈالتے ہوئے مہاراجہ سر کشن پرشاد نے لکھا ہے کہ ہندو مذہب کی تاریخ کو سات ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے اور یہی ساتوں ادوار اس مذہب کی نشو و نما کے بھی ہیں۔ پہلے دور کے متعلق بتایا ہے کہ اس زمانہ کی تاریخ رگ وید سے معلوم ہوتی ہے۔ عیسی علیہ السلام سے تقریباً دو ہزار سال پیشتر ایک قوم ہند میں آئی، جن کی جلد سفید اور بال سیاہ تھے۔ یہ قوم ایک ہی زبان بولتی تھی جس کا نام آریک تھا۔ یہ اصل زبان تو مفقود ہوگئی ہے، لیکن سنسکرت اسی سے مشتق ہے۔ یہ قوم کابل کے دروں سے ہوکر ہندوستان میں آئی اور اطراف و اکناف میں پھیل گئی یہ خانہ بدوش تھی۔ اسے فن زراعت کا علم تھا اور اکثر اقوام کی ابتدائی حالت کی طرح ان کا متخیلہ نہایت ہی زور دار تھا۔ دوسرے دور میں یہ قوم آگے بڑھی اور ستلج تک پہنچ گئی اور پھر وہاں سے گنگا جمنا تک بڑھی اسی دور میں ہندو مذہب کے فلسفہ کی تصنیف بھی ہوئی۔ گویا اس طرح آریہ قوم آگے بڑھتی گئی اور ہندو مذہب کی ترویج واشاعت بھی ہوتی چلی گئی۔ مذکورہ بالا تمام حقائق وشواہد کی رو سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خواجہ حسن نظامی کی اردو زبان وادب میں لکھی گئی تقابل ادیان پر کتاب کرشن جیون یا کرشن بیتی کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ ایک تو یہ کہ اس کتاب کے اندر مصنف موصوف نے انتہائی رواداری اور انصاف کے ساتھ سری کرشن جی کے حالات کو تقریبا بیس سال کے طویل عرصہ میں مرتب و مدون کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس کتاب کے توسل سے ہندو دھرم کی مذہبی شخصیت سری کرشن کے متعلق عوام و خواص میں جو بے بنیاد باتیں پھیل رہی تھیں ان پر روک لگ سکے گی۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ اس طرح کی کاوش و سعی سے ہندوستان کی جمہوری اور آ ئینی قدریں بحال ہوں گی، نیز دونوں قوموں ہندو اور مسلم کے مابین باہم اعتبار و ارتباط اور تحمل و برداشت کی راہ ہموار ہوگی جو یقیناً ہماری نسلوں کو مذہبی منافرت کے خاتمہ کی طرف تیزی سے لے جائے گی اور تکثیری سماج کی شناخت بھی یہی ہے کہ اس میں ایک دوسرے کے مذاہب کا مطالعہ کیا جائے، ان کی خوبیوں اور خامیوں پرنگاہ رکھتے ہوئے مذاہب کے تقدس و احترام کا درس عام کیا جائے، تاکہ روئے زمین پر امن و امان اور صلح و آشتی کی فضا قائم ہو جائے۔
zafardarik85@gmail.com
(مضمون نگار پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ ہیں)

