مولانا سید احمد ومیض ندوی
حیدرآباد
اس وقت پورا ملک این آر سی کے مسئلے میں الجھا ہوا ہے، اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجوں اور دھرنوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ شاہین باغ کی شاہین صفت خواتین نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ہے، دہلی کی شدید سردی بھی ان کے آہنی عزم کے آگے بے بس ہو چکی ہے۔ ایک طرف احتجاج کی آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے تو دوسری طرف حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے، بلکہ صاف کہہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں سیاہ قانون کو واپس نہیں لے گی۔ تازہ صورت حال بتاتی ہے کہ حکومت نے طاقت کے بل پر احتجاج کو کچلنے کا پروگرام بنالیا ہے، دہلی کے لیفٹنٹ گورنر کی جانب سے پولیس کو دیے گئے زائد اختیارات کا حالیہ فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
این آر سی کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اس کے اثرات سے پورا ملک متأثر ہوگا، کیوں کہ یہ در اصل ملک کے دستور پر حملہ ہے، ملکی معیشت پر اس کے بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس نئے قانون سے جہاں مسلمانوں پر آفت آئے گی وہیں ایس ٹی ایس سی اور آدی واسی بھی پوری طرح متأثر ہوں گے۔ این آر سی کا دوسرا پہلو خاص مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کے لیے وجود و بقاء کا مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ در اصل انھیں دین اسلام سے دست بردار کروانے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ اس لیے این آر سی پر مسلمانوں کا شدید تشویش میں مبتلا ہونا فطری ہے۔ این آر سی کے نتیجے میں پیدا شدہ موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں ملتِ اسلامیہ کو چند نکات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
۱- اس وقت سب سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو خوف کی نفسیات سے باہر نکالا جائے۔ بحیثیتِ مسلمان ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ خوف اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے، مؤمن سب کچھ ہوسکتا ہے مگر بزدل نہیں ہوتا۔ مؤمن اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔ نفع و نقصان، عزت و ذلت اور کاموں کے بنانے اور بگاڑنے کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مخلوق سراپا اس کی محتاج ہے اور جو خود محتاج ہو وہ دوسروں کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کرسکتی ہے۔ اگر ساری دنیا مل کر کسی کو نقصان پہنچانا چاہے لیکن خدا کا منشا یہ نہ ہو تو اس کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ صاحبِ اقتدار لوگ بھی ہم جیسے انسان ہیں، وہ اس وقت تک اپنے تخریبی مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک خدا نہ چاہے۔ مؤمن حالات سے اس لیے بھی نہیں گھبراتا کیوں کہ اس کا تقدیر پر پختہ یقین ہوتا ہے، مؤمن کا ایقان ہے کہ آدمی کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو اللہ کے پاس طے پہلے سے ہے۔ اہلِ ایمان کا یہ بھی یقین ہے کہ دینِ اسلام دنیا میں مٹنے کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ یہ دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: اسی خدا نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو سارے ادیان پر غالب کر دے۔ قرآن و سنت میں بیشتر مقامات پر اسلام کے روشن مستقبل کی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں۔ دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اسے مٹا نہیں سکتیں۔ دشمنانِ اسلام کسی این آر سی یا این پی آر جیسی پھونکوں کے ذریعے اسلام کے چراغ کو بجھانا چاہیں تو نہیں بجھا سکیں گے، چاہے وہ اپنا یہ شغل قیامت تک جاری رکھیں۔
مسلمان ایک زندہ قوم ہیں، ان کے پاس ایمان کی طاقت ہے اور اخلاق کی قوت ہے۔ دشمنانِ اسلام کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ یہ قوم اپنی اس بے پناہ قوت کے ذریعے کل ہم پر غالب آ سکتی ہے۔ اس لیے وہ پیش بندی کے طور پر ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
۲- مسلمانوں کو این آر سی سے گھبرانے کی اس لیے بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دشمنانِ حق کا یہ حربہ پرانا ہے۔ پچھلے انبیاء کے زمانے میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ مسلمانوں کو ایمان سے ہٹانے کے لیے انھیں ملک سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی گئی، اور صاف کہہ دیا گیا کہ یا تو تم ہمارے دین میں لوٹ جاؤ یا ملک سے نکل جاؤ۔ سورہ ابراہیم میں ارشاد ہے: ‘’اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم ضرور تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا پھر تم لوگ پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ، پس ان کے رب نے ان کے رسولوں کو وحی کی کہ اے پیغمبرو! ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور تمہیں سرزمین میں ٹھہرائیں گے‘‘ عہدِ رسالت میں کفارِ مکہ نے بھی صحابہ کے خلاف شہریت ختم کرنے کا حربہ استعمال کیا اور صاف کہا کہ یا تو ہمارے دین میں واپس آ جاؤ یا پھر مکہ سے نکلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ این آر سی کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو دینِ حق چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔ گزشتہ دنوں وارانسی میں جگہ جگہ ایک پوسٹر چسپاں کیا گیا تھا جس میں یہ تحریر تھا ‘’ہندو دھرم میں گھر واپسی کرو اور سی اے اے اور این آر سی سے چھٹکارا پاؤ‘‘
۳- موجودہ حالات میں مسلمانوں میں دین پر ثابت قدمی اور استقامت کی رو ح پھونکنے کی پہلے زیادہ ضرورت ہے۔ اب ملک میں مسلمانوں کے لیے دین کے حوالے سے مسلسل آزمائشیں آتی رہیں گی، ساحلی علاقوں میں جہاں غربت زدہ مسلمان چند روپیوں کے لیے عیسائیت قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو رہے ہیں، انھیں جب پتہ چلے گا کہ مسلمان رہ کر ملکی شہریت باقی نہیں رکھی جا سکتی تو وہ حراستی کیمپوں سے بچنے کے لیے آسانی کے ساتھ دوسرا مذہب اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ آزمائشوں کا مقابلہ وہی مسلمان کر سکتے ہیں جن کے دلوں میں پہاڑ جیسا مضبوط ایمان ہو۔ اس لیے علماء اور داعیان دین کی جانب سے عام مسلمانوں میں دین و ایمان کی پختگی پیدا کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ اس وقت عام مسلمانوں کو ملک سے نکالے جانے کا خوف تو خوب ستا رہا ہے، لیکن اس بات کی فکر نہیں ہے کہ کہیں دین و ایمان سے نہ نکل جائیں۔ اس وقت سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ کہیں شہریت کے ختم ہونے کے خوف سے مسلمان مرتد نہ ہوجائیں۔ ارتداد کے متوقع سیلاب کے آگے مضبوط بندھ باندھنے کے لیے عام مسلمانوں میں دینی شعور بیدار کرنا نہایت ضروری ہے۔
۴- بی جے پی جہاں سے یہ سیاہ قوانین لا رہی ہے اس کا اصل منبع آر ایس ایس ہے۔ بی جے پی در اصل آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے اس لیے وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کی تکمیل کی پابند ہے۔ اور آر ایس ایس کا ایجنڈا جگ ظاہر ہے کہ وہ ملک کو برہمن راشٹر بنانا چاہتی ہے، آر ایس ایس کی بنیاد ہی مسلمانوں سے نفرت و تعصب پر رکھی گئی ہے۔ اس وقت این آر سی کے خلاف بنی فضا کی وجہ سے پورا ملک آر ایس ایس کی حقیقت سے واقف ہوتا جا رہا ہے، موجودہ آر ایس ایس مخالف ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی عوام کو آر ایس ایس کے فسطائی اور دستور مخالف عزائم سے واقف کرایا جائے۔ کیوں کہ جب تک آر ایس ایس کو بے نقاب کرکے عوام کو اس کے ناپاک عزائم سے آگاہ نہیں کیا جاتا تب تک سیاہ قوانین کا سلسلہ موقوف نہیں ہوگا۔ اس کے لیے مسلمانوں سمیت ایس ٹی ایس سی سکھ عیسائی وغیرہ تمام طبقات کو آر ایس ایس کے خلاف متحد ہونا ضروری ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے اس حوالے سے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات میں شعور بیدار ہو رہا ہے، بام سیف جیسی تنظیمیں عملاً سرگرم ہیں۔
اس ملک کے مٹھی بھر برہمن، یہودیوں کی طرح اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں اس لیے جب تک ملک سے برہمن ازم کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک امن و سکون اور دستور کی حفاظت ممکن نہیں ہے۔ اور برہمن ازم کا خاتمہ آر ایس ایس کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آر ایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم کے طور پر متعارف کراتی ہے لیکن دیش بھگتی کی آڑ میں وہ ساری حرکتیں کرتی ہے جو ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والی ہیں۔ آر ایس ایس کی بنیاد فرقہ واریت، جمہوریت مخالف اور فاشزم پر قائم ہے۔ ایک دلت شخصیت رام کمار کی تحقیق کے مطابق اس وقت آر ایس ایس کی کل شاکھاؤں کی تعداد ۸۴۸۷۷ ہے، جو ملک و بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندوؤں کو انتہا پسندانہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔ ۲۰ سے ۳۵ سال کی عمر کے تقریباً ایک لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی ہے، نیز آر ایس ایس ہندوستان میں تقریباً ۸۸ فیصد بلاکس میں اپنی شاکھاؤں کے ذریعے رسائی حاصل کر چکی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں آر ایس ایس نے ۱۱۳۴۲۱ تربیت یافتہ سویم سیوک سنگھ تیار کیے ہیں۔ ہندوستان سے باہر ۳۹ ممالک میں ان کی شاکھائیں کام کر رہی ہیں۔ آر ایس ایس کی ایک لاکھ شاخوں میں پندرہ کروڑ خدمات انجام دینے والے ہیں۔ اسی طرح ایک لاکھ سرسوتی تعلیمی مندروں میں کم وبیش ایک کروڑ طلبہ ہیں۔ آر ایس ایس کی بھارتیہ مزدور سنگھ کے اراکین دو کروڑ ہیں۔ طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے جوانوں کی تعداد ایک کروڑ ہے، نیز وشوا ہندو پریشد کے اراکین ایک کروڑ ہیں، اور بجرنگ دل کے ۳۰ لاکھ ہیں۔ آر ایس ایس کے ۱۲۰۰ اشاعتی ادارے مختلف رسالے اور اخبارات نکالتے ہیں، آر ایس ایس کے تقریباً ۱۰ لاکھ افراد نے مذہب کی حفاظت کے لیے تا حیات غیر شادی شدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندوستان کی تقریباً سبھی مندروں سے آر ایس ایس کے لیے پیسہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی ممالک سے بھی بے حساب فنڈ آر ایس ایس کے کھاتوں میں جمع ہوتا ہے۔ اس قدر مضبوط ڈھانچہ رکھنے والی تنظیم کی تخریب کاری سے ملک اور عوام کو بچانے کے لیے اسی قدر اسباب و وسائل اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ملک کا اصل ناسور یہی فرقہ پرست، دستور مخالف اور ملک دشمن تحریک ہے۔ آر ایس ایس دستور ہند کو بدلنا چاہتی ہے، این آر آسی کا نفاذ در اصل اسی کا پیش خیمہ ہے۔ ملک کے موجودہ حالات آر ایس ایس کے خلاف رائے عامہ کی تبدیلی کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔
۵- ان کے علاوہ این آر سی کے خلاف جاری موجودہ تحریک کی کامیابی کے لیے تین مزید نکات پر خصوصی توجہ ضروری ہے
(۱) گھر گھر پہونچ کر ملک کے ہر شہری کو این آرسی کے نقصانات سے واقف کرایا جائے (۲)احتجاج کا موجودہ سلسلہ پوری قوت کے ساتھ آخری وقت تک جاری رکھا جائے
(۳) احتجاج میں غیر مسلم بھائیوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
جہاں تک پہلے نکتے کا تعلق ہے وہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ موجودہ شدید احتجاج اور شور اور ہنگاموں کے باوجود اب بھی ملک کا ایک بڑا طبقہ این آر سی کے تعلق سے غفلت و بے خبری کا شکار ہے، بعض غیر مسلم برادران وطن فرقہ پرستوں کی چال بازیوں کو سچ سمجھ رہے ہیں، ان کے خیال میں این آر سی کا مقصد چند پڑوسی ممالک کے مظلوموں کو پناہ دینا ہے۔ اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ این آر سی صرف مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے، اس میں ہمارا یا ملک کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ ان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ قانون صرف مسلمانوں ہی کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کے نقصانات سے ملک اور اس کے سارے باشندوں کو بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ قانون ملک کے دستور کے بھی خلاف ہے اس لیے کہ یہ دستور کی دفعات ۱۴‘۱۵ سے ٹکراتا ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ نیز یہ قانون ہندوستان کے سیکولر ڈھانچہ سے بھی ٹکراتا ہے، اس لیے کہ ملک کو آزادی دلانے والے قائدین نے روز اول سے اس ملک کو سیکولر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، اور یہ طے کیا تھا کہ یہاں تمام مذاہب والوں کو اپنے مذہب پر عمل کی پوری آزادی ہوگی۔ علاوہ ازیں این آر سی کے نتیجے میں ملک کی سلامتی بھی متأثر ہوسکتی ہے، اس لیے کہ جب این آر سی کے نام پر ایک خاص مذہب کے پیرو کاروں کو شہریت سے محروم کردیا جائے گا تو ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، نیز جن تین ملکوں کے لوگوں کو پناہ دی جائے گی وہ بھارت کی سالمیت کو خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ یہ سیاہ قانون ملک کی جمہوری قدروں سے بھی متصادم ہے۔ یہ ملک کی ایک بڑی آبادی کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی سازش ہے۔ اتنا ہی نہیں اس قانون کے نتیجے میں ملک بھر میں رشوت اور بدعنوانی کا بازار گرم ہوگا، کاغذات بنانے کے لیے سرکاری افسر خوب رشوت کا مطالبہ کرنے لگیں گے۔ اس سے ہٹ کر اس قانون کا سب سے زیادہ منفی اثر ملک کی معیشت پر پڑے گا۔ پہلے سے کنگال معیشت مزید ابتری کا شکار ہوگی، اس لیے کہ این آر سی کے نفاذ کے لیے حکومت کو کروڑوں کا بجٹ مختص کرنا ہوگا۔ اس قانون کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ اس سے ملک کا غریب طبقہ چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، سب سے زیادہ پریشان ہوگا۔ ملک میں ایسے غریبوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے پاس نہ زمین ہے اور نہ کاغذ۱ت، وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوں گے، قانون کے نفاذ کی صورت میں کاغذات کی فراہمی اور ان کی درستگی کے مراحل اس قدر دشوار ہوں گے کہ اس سے امیر و غریب، مسلم و غیر مسلم سب کو پریشان ہونا پڑے گا۔ جو غیر مسلم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو اس قانون سے کوئی دھکا نہیں لگے گا وہ آسام میں لاگو کے گئے این آر سی کے نتائج کو سامنے رکھیں کہ کس طرح وہاں حکومت نے انھیں پریشان کیا ہے۔ آسام کے ایسے بہت سے غیر مسلموں کے تأثرات سوشیل میڈیا پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں جو این آر سی میں نام نہ آنے کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ این آر سی سے خارج ہونے والے غیر مسلموں کے لیے اگرچہ سی اے اے کے ذریعے شہریت کی گنجائش رکھی گئی ہے لیکن جب تک سی اے اے کے ذریعے انھیں شہریت نہیں ملتی وہ غیر قانونی شہری کہلائیں گے، اس دوران حکومت کو ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حق حاصل رہے گا۔ سی اے اے کے ذریعے جب انھیں دوبارہ شہریت ملے گی تو حکومت ان کی جائیداد لوٹانے کی پابند نہ ہوگی۔ این آر سی کے نفاذ کی صورت میں عوام کو بھی قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، مثلاً ہر بینک کو یہ ہدایت ہوگی کہ بغیر این آر سی نمبر کے بینک نکاسی نہ کی جائے، آپ سر پٹک کر مرجائیں گے لیکن اپنی رقم نہیں نکال پائیں گے۔ اسی طرح ہوائی سفر کے دوران بھی این آر سی نمبر درکار ہوگا، نیز سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں میں بغیر این آر سی نمبر دکھائے علاج نہیں ہوگا۔ سرکاری و غیر سرکاری اسکول و کالجس میں بچوں کا داخلہ شہریت ثبوت کے بغیر نہیں ہوسکے گا۔ حتیٰ کہ لین دین یا سم کارڈ وغیرہ لینے کا معاملہ بھی شہریت ثبوت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ آپ اگر کوئی فلیٹ خریدنا یا فروخت کرنا چاہیں تب بھی این آر سی نمبر درکار ہوگا۔ یہ وہ ساری دشواریاں ہیں جو مسلم و غیر مسلم، امیر و غریب سبھی کو در پیش ہوں گی۔


