(دعوت نیوزنیٹ ورک)

دہلی میں اس وقت کم از کم دس مقامات پر شاہین باغ کے طرز پر خواتین کا 24x7 احتجاج جاری ہے۔ نایلان کی رسی یا تار پالین کے ذریعہ سے ان کے بیٹھنے کی جگہ کی حد بندی کی گئی ہے اور اس کے چاروں جانب کافی بڑی تعداد میں نوجوان اور مرد حضرات کھڑے احتجاجی نعروں میں خواتین کا ساتھ دے رہے ہیں، تقریریں سنتے ہوئے عورتوں کے لیے تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور ان کے لیے طعام وغیرہ کا انتظام کر رہے ہیں۔ احتجاج کے مقام پر AIIMS کے ڈاکٹرز چھوٹے موٹے علاج کے لیے ٹیبل کرسی لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جائے احتجاج کے قریب ہزاروں کی تعداد میں بچے اور بڑے ہاتھوں میں موم بتیاں لیے قطار در قطار کھڑے ہیں۔ کہیں آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں تو کہیں اس بل کے خلاف مردہ آباد کی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تو کہیں حکم رانوں کا استخفاف ہو رہا ہے۔

گزشتہ دنوں امیرِ جماعت اسلامی ہند، جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب، ان کے ہمراہ انجینئر محمد سلیم صاحب اور جناب امین الحسن احتجاج کے چار مقامات پر پہنچے۔ وہاں کے آرگنائزرز سے ملاقاتیں کیں، ان کی ہمت افزائی کی اور جماعت کی طرف سے تعاون کا یقین دلایا اور وہاں دھرنے پر بیٹھی ہوئی خواتین سے خطاب بھی کیا۔

احتجاجات میں دو خاص پہلو دیکھنے کو ملے۔ ایک یہ کہ اسٹیج پر غیر مسلم مرد و خواتین بالخصوص، سکھ بھائی صرف اپنی حمایت کے اظہار کے لیے وہاں کھڑے ہوئے ملے، ان‌ میں سے کچھ غیر مسلم بھائی اور بہنیں تقریریں بھی کر رہی تھیں۔ اس احتجاج کا دوسرا پہلو تہذیبی ہے جس میں کئی جگہ ٹیمز تیار ہو رہی ہیں، آرٹ کے بہترین نمونے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں، پینٹنگ بھی کی جا رہی ہیں، ماڈل بھی بنا کر کھڑے کئے گئے ہیں، اسٹانڈنگ کامیڈین بھی ہیں جو طنز و مزاح کے ذریعے سے اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، انقلابی نظمیں اور نغمے بھی دف بجا کر گائے جا رہے ہیں، انقلابی نعروں کی گونج سے احتجاج کی رونق دو بالا ہوتی جا رہی تھی۔ یہ خوش کن منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ ضعیف خواتین، عام گھریلو خواتین اور وہ خواتین بھی جن کے گودوں میں شیر خوار بچے ہیں، سب یکساں جوش و جذبے کے ساتھ شریکِ احتجاج ہیں۔ لڑکیاں کھلانا سپلائی کر رہی ہیں اور دیگر انتظامی امور سنبھالی ہوئی ہیں۔ گو کہ آج پورے ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں عوام کے احتجاج کی صدا ایوانوں میں بہرے کانوں سے سنی جا رہی ہے، لیکن یہ دباؤ اگر بڑھتا گیا تو وہ دن دور نہیں جب حکم راں اس کالے قانون کو واپس لینے پر مجبور ہوں گے۔

دستور کے تحفظ کے لیے تانا شاہی حکومت کا خاتمہ ضروری، گلبرگہ میں مخالف سی اے اے احتجاج، لاکھوں افراد کی شرکت

گلبرگہ (دعوت نیوز نیٹ ورک) موجودہ حکومت اس ملک کو ہندتوا کے نظریہ کے تحت ہندو اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے جو کہ ہمارے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دستور کے تحفظ کے لیے مرکز کی تاناشاہی حکومت کو ختم کرنے کے لیے ملک کے ہر فرد کو سپاہی کی طرح کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف قائدین نے 21 جنوری کو پیر بنگالے گراؤنڈ گلبرگہ پر منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس جلسہ میں بلا لحاظ مذہب و ملت لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ ممتاز قائد مسٹر پرکاش مول بھارتی نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ کیا وہ جانتے ہے کہ گلبرگہ شہر کیا ہے؟ اور ہندوستان کیا ہے۔ اس دیش میں دلت۔ پسماندہ طبقات، مسلمان اور سیکولر ذہن رکھنے والے اعلیٰ ذات کے ہندو سب ایک ہیں لیکن آج اس دستور کے خلاف کام ہو رہا ہے۔ ممتاز کمیونسٹ قائد مسٹر ماروتی مانپاڑے نے بھی سی سی اے، این سی آر اور این پی آر کے پس پردہ حکم راں طبقہ کی نیّت پر روشنی ڈالتے ہوئے دستور ہند کو بچانے پر زور دیا۔ سابق چیف منسٹر کرناٹک مسٹر دھرم سنگھ کے فرزند اور جیورگی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر اجئے سنگھ نے کہا کہ قوانین سی اے اے، این سی آر اور این آر پی سارے ملک کے عوام کے خلاف ہیں، لہٰذا دستور ہند کا تحفظ ضروری ہے۔ سابق وزیر کرناٹک مسٹر ایشور کھنڈرے نے کہا کہ سی اے اے، این سی آر اور این آر پی کے قوانین مسلمانوں کو چھوڑ کر بنائے گئے ہیں، یہ دستور ہند کے خلاف ہیں لہٰذا تمام عوام کو دلی کی تانا شاہی کے خلاف لڑنا چاہیے۔ خاتون مقرر مسز سشما نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں جو قوانین بنائے ہیں وہ مسلمانوں کو نشانہ بناکر بنائے گئے ہیں۔ مندر کا معاملہ ہو، گائے کا گوشت کھانے کا معاملہ ہو یا تین طلاق کا معاملہ ہو یہ سارے قوانین مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے ہیں۔ 1955 سے پہلے شہریت کا قانون بنا ہے پھر اب نئے قوانین کی کیا ضرورت ہے۔ کمیونسٹ قائد مسٹر سیتا رام یچوری نے کہا کہ سارے ملک میں یہی کہا جا رہا ہے کہ دستور ہند کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اب وقت آگیا کہ دیش کا ہر باشندہ سپاہی بن کر کھڑا ہوجائے۔