(دعوت نیوز نیٹ ورک)
کوچی: کیرالا کا شہر کوچی، بحیرہ عرب کی لہروں کو گواہ رکھتے ہوئے خواتین اور بچوں سمیت لاکھوں افراد کی ریلی منعقد کر کے حکومت ہند کے لیے تاکید کا نشان بن گیا ہے، جو مذہب کی بنیاد پر مخصوص عقائد کے غیر ملکی لوگوں کو شہریت دلانے اور دوسرے مخصوص عقائد والے لیکن اپنے ہی ملک کے لوگوں کے حقِ شہریت کو پامال کرنے کی کوشش میں ہے۔ کوچی کی شاہراہوں پر آزادی کے نعروں کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ ہم سی اے اے اور این آر سی کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے رہیں گے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس ریلی میں تمام مذاہب کے ماننے والے ہندوستانی شہری کندھے سے کندھا ملا کر ایک ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم اسی مٹی کی نسلیں ہیں، اسی سرزمین پر مریں گے اور اسی کی آغوش میں دفنا دیے جائیں گے۔
کوچی مرین ڈرائیو میں مسلم جماعتوں کی متحدہ کمیٹی نے اس عظیم مظاہرے اور احتجاج کا اعلامیہ و ایجنڈہ مرتب کیا تھا۔ ریلی میں کیرالا کی مختلف جماعتوں کے رہنما اور کارکنان شریک ہوئے۔ موجیں مارتی ہوئی سمندری لہروں کے دونوں جانب بلند و بالا عمارتوں سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل کر کشادہ سڑکوں پر اکٹھا ہوگئے اور مظاہرین کے عزم و حوصلے کی تائید کرتے ہوئے اس تاریخی مظاہرے کا حصہ بن گئے۔
شام کو چھ بجے مرین ڈرائیو میں مظاہرین کا اجتماع شروع ہوا تو جلوس کا دوسرا سرا کلور اسٹیڈیم کے آخری کنارے تک پہنچا ہوا تھا۔ انسانوں کا ٹھا ٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کی طرف اشارے کر رہا تھا کہ بی جے پی حکومت مذہب کی بنیاد پر ملک کے کسی بھی شہری کی شہریت چھیننے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
مقررین نے اپنی تقاریر میں اعلان کیا کہ جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جائے گا وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی صدر حیدر علی شہاب تھنگل نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ یہ ہندوستان تنہا کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ سرزمین سارے ہندوستانیوں کی ہے جو یہیں پیدا ہوئے، یہیں پلے بڑھے، وہ سب اسی ملک کے باشندے ہیں۔ اجتماع عام کی صدارت استقبالیہ کمیٹی کے سربراہ ٹی ایچ مصطفیٰ نے کی۔ اپنی تقریر میں اے پی ابو بکر سلہار کانتا پورم نے جو کل ہند سنی جمعیۃ علما کے سکریٹری بھی ہیں، حکومت سے پوچھا کہ شہریت دینے کے معاملے میں صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی کیوں عصبیت برتا گیا؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ہندوستان کے دستور میں کسی فرد کو شہریت دینے کا معیار مذہب ہے؟ جماعت اسلامی ہند کے امیر صوبہ کیرالا ایم آئی عبد العزیز نے کہا کہ حکومت ہند بابائے قوم کو نظر انداز کرکے ان کے قاتل کو عزت و احترام بخش رہی ہے۔ جنگ آزادی میں شرکت کرنے والوں کی نئی نسل سے ان جماعتوں اور نظریات کے حامل لوگوں کو معافی مانگنی پڑے گی جن کے اجداد انگریزوں سے معافی مانگ کر جیل سے رہا ہوئے تھے۔ آج مذہب کی کھائی کو پاٹ کر یکجا ہونے والا یہ اتحاد کیرالا کے سارے عوام بالخصوص مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔
مجاہدین آزادی نے جس طرح ملک کو انگریزوں سے ’اہنسا‘ یعنی عدم تشدد اور غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کے ذریعے آزاد کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، ٹھیک اسی طرح ہم سب مل کر بھی ہندوستان کو سنگھ پریوار، ہندتوا اور فسطائیت سے بچائیں گے۔ تمام مذاہب کے ماننے والوں اور مختلف مذہبی و سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اس متحدہ اجتماع میں تقریریں کیں۔
اسی نوعیت کا دوسرا احتجاجی مظاہرہ ۱۸ جنوری کو کوزی کوڈ میں بھی منعقد کیا گیا جس میں سپریم کورٹ کے مشہور وکیل اور کانگریس کے سینئر رہنما کپل سبل بھی شریک تھے۔ یہاں بھی بحیرہ عرب کے ساحل پر ہزاروں لوگوں کا اجتماع منعقد ہوا، جس میں یو ڈی ایف کے کارکنوں کے ساتھ مختلف مسلم جماعتوں کے کارکنان نے شرکت کی۔ کیرالا کے اپوزیشن لیڈر رمیش چینی تلا کے زیر صدارت اس اجتماع کا افتتاح حیدر علی شہاب تنگل نے کیا۔ اس موقع پر کپل سبل نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر سی اے اے اگر عدالت کی جانب سے رد نہ کیا گیا تب بھی ہم اسے نہیں مانیں گے۔ عوامی احتجاج کے ذریعے ہم اس کو مسترد کروا کے رہیں گے۔ میں اپنی آخری سانس تک اس کالے قانون کی مخالفت کرنے کے لیے کھڑا رہوں گا۔ اس کالے قانون کی بابت ہندوستان کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ یاد رکھیے! ماضی کی مغرور قوتوں کی طرح ان دونوں لیڈران اور ان کے ظالمانہ نظریات کا نیست و نابود ہونا بھی یقینی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے دس جھوٹ بیان کیے گئے۔ ہم اب تک حکم رانوں کی باتوں پر بھروسہ کرتے تھے لیکن اب وہ زمانہ گزر گیا ہے۔ نوٹ بندی کے ذریعے کالا دھن اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، ۲۰ کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہندوستان جی ڈی پی میں سب سے نیچے آگیا ہے۔ مودی ہمیشہ پاکستان کو یاد کرتے ہیں لیکن ہندوستان کے بارے میں سوچنے اور کہنے کے لیے تھوڑا وقت بھی نکالنے کی انہیں فرصت میسر نہیں ہے۔ اس اجتماع عام میں دستورِ ہند میں شہریت کے حق پر کی گئی بحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔


