ملک میں بے روزگاری عام ہے، بھائی چارہ کو خطرہ لاحق ہے اور معیشت دم توڑ رہی ہے۔ لیکن اس بیچ امیروں کے لیے خوشخبری ہے۔ جی ہاں! آکسفیم کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے ایک فیصد امیروں کے پاس 70 فیصد آبادی کی کل جائیداد کی چار گنا دولت ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے 63 ارب پتیوں کے پاس 19-2018 کے بھارت کے بجٹ سے زیادہ دولت ہے۔ 19-2018 میں بھارت کا بجٹ 24 لاکھ 42 ہزار 200 کروڑ روپیے تھا۔ غیر سرکاری ادارہ آکسفیم کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں دنیا بھر میں ارب پتیوں کی تعداد دو گنا ہوگئی ہے۔ یہ ارب پتی دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ دولت اپنے پاس رکھتے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی رپورٹ ’ ٹائم ٹو کیئر‘ جاری کرتے ہوئے آکسفیم کی جانب سے کہا گہا کہ پوری دنیا میں اقتصادی عدم مساوت پھیل رہی ہے۔ رپورٹ میں جنسی عدم مساوات پر بھی حیرت انگیز اعداد شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک گھریلو ملازمت کرنے والی خاتون کو کسی ٹکنالوجی کے سی ای او کے برابر کمانے میں 22 ہزار277 سال لگ جائیں گے۔ ایک سی ای او ایک سیکنڈ میں 106 روپئے کماتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر دنیا کے صرف ایک فی صد امیر ترین افراد اپنی دولت پر 10 سال تک صرف اعشاریہ پانچ فی صد اضافی ٹیکس ادا کریں تو اس سے بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری کی کمی دور ہو سکتی ہے۔
وہیں دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں 47 کروڑ لوگ بے روزگار ہیں یا پھر غیر مستحکم روزگارسے وابستہ ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ دنیا کی کمزور ہوتی معیشت سے بے روزگاری مزید بڑھ سکتی ہے۔
آکسفیم کی رپورٹ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان کے پس منظر میں اگر ہم بھارت کی بات کریں تو نوٹ بندی جیسے غلط فیصلے کے بعد سے لگاتار ملک میں بے روزگاری بڑھی ہے اور ہنوز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ لیکن حکومت کو اپنے ’ہندو‘ ووٹ بینک کی زیادہ فکر ہے کیونکہ ان کے خیال میں ملک کی معیشت سے کہیں زیادہ ان کے لیے انتخابات میں جیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد حکومت اور عوام دونوں کو اس بات کا علم ضرور ہوگیا ہوگا کہ ملک میں کس قدر اقتصادی عدم مساوات بڑھی ہے۔ اب حکومت اس بات پر توجہ دے کہ ملک میں غریبی کیسے کم ہو، لوگوں کو روزگار کیسے ملے اور سماج میں بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کیسے فروغ دیا جائے۔ چند سرمایہ کاروں کو ’فائدہ‘ پہنچانے کے بجائے ملک کے غریب اور بے روزگار عوام کی فکر کی جائے اور ایسی پالیسی کو لاگو کیا جائے جس سے روزگار بڑھے اور ملک کی معیشت مضبوط ہو۔ لیکن سب سے پہلے حکومت اپنے کم عقل وزراء کی زبان پر تالا لگائے۔ ورنہ پیوش گوئل جیسے اور بھی میدان میں آجائیں گے اور روزگار کا بٹنا دھار کرنے سے نہیں چوکیں گے۔ کیونکہ پیوش گوئل کا امیزان کے سی ای او جیف بیزوس کو یہ کہنا کہ امیزان کی سرمایہ کاری بھارت پر احسان نہیں ہے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حکومت کو ’معیشت‘ کی نہیں، صرف ’سیاست‘ کی فکر ہے۔


