جاوید عالم خان

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، نئی دہلی

 ہندوستان میں مرکزی، صوبائی، اور پنچایت و میونسپل کارپوریشن (اور نچلے سطح پر ) کے ذریعے ہر سال بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ بجٹ کا مطلب آمدنی اور خرچ کا تخمینہ (Estimation) ہے۔ جبکہ آئین میں بجٹ کو سالانہ مالی سال Annual Financial Statement کہا جاتا ہے۔ دراصل بجٹ کو چار اہم مراحل کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔

(۱)بجٹ بنانے کا طریقہ کار

(۲) بجٹ کو پاس کرنے کا مرحلہ

(۳) بجٹ کو نافذ کرنے کا مرحلہ

(۴)بجٹ کے آڈٹ کرنے کا طریقہ

یہاں پر سب سے پہلے ضروری ہے کہ بجٹ کے بنانے کے طریقہ کار کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر مرکزی، صوبائی حکومتیں جب بجٹ بنانے کا سلسلہ شروع کرتی ہیں تو سب سے پہلے وزارت مالیات کی جانب سےایک Circular تمام وزارت اور شعبہ جات کو بھیجا جاتا ہے، جس میں ان سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ ہر ایک وزارت یا شعبہ اگلے سال کے لیے اپنی آمدنی اور خرچ کا تخمینہ پیش کرے۔ اس کے علاوہ وزارت مالیات ان تمام وزارتوں اور شعبوں سے رواں سال کی نصف میعاد میں خرچ اور آمدنی کی تفصیلات کو بھی پیش کرنے کے لیے کہتی ہے۔ اس کے علاوہ تیسری چیز یہ ہے کہ تمام وزارتوں اور شعبوں کو پچھلے سال کا حقیقی خرچ اور آمدنی بھی پیش کرنا ضروری ہے۔ اس طرح سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بجٹ تیار کرنے میں تین طرح کے اعداد و شمار جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے ہم اس طرح سے پیش کرسکتے ہیں۔

۱)Budget Estimate۔ 2020-21 کے لیے

۲) Revised Estimate۔ 2019-20

۳)Actual Estimate۔ 2018-19کے لیے

Budget Estimate سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگلے سال حکومت کتنی آمدنی اور خرچ کرنے جارہی ہے۔ Revised Estimate سے حکومت کے رواں سال کے درمیانی میعاد کی آمدنی اور خرچ کی صلاحیت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے، جبکہ حقیقی خرچ (Actual Estimate)کے انالسیس سے پتا چلتا ہے کہ سرکار نے سابقاً جو بجٹ پیش کیا تھا وہ صحیح خرچ ہوا یا نہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بجٹ بنانے کے مرحلہ میں کون سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے شامل ہوتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی سطح پر مندرجہ ذیل ادارے شامل ہیں۔

۱) وزارت مالیات

۲) تمام طرح کی وزارت اور شعبے

۳) ماہر ین معاشیات

۴) صوبائی حکومتوں کے وزیر مالیات

۵) سروے کسانوں کی جماعت

۶) Business and Chambers of Commerce جسے Confederation of Indian Industry(CII) اور

Federation of Indian Chambers of Commerce and Industry(FICCI)

۷) ٹریڈ یونین

۸) غیر سرکاری تنظیمیں جو سرکار کے پالیسی اور بجٹ پر کام کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ سرکار اپنی Website پر ایک ای میل آئی ڈی کھول کر عوام سے بجٹ پر مشورہ مانگتی ہے۔ اگر بجٹ میں عوامی شمولیت کی بات کی جائے تو حکومت کے بجٹ کے بنانے میں اس کا خاص کردار نہیں ہے۔ اسی طرح سے غیر سرکاری تنظیموں سے حکومت بجٹ بنانے سے پہلے مشورے طلب کرتی ہے لیکن ان تنظیموں کی کوششیں سرکار کے سامنے ایک رسمِ ادائیگی کی طرح ہیں کیونکہ حکومت ان کے مشوروں پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی ہے اور موجودہ دور میں کسانوں کی حمایت یا ٹریڈ یونین کا کردار بجٹ بنانے کے عمل میں کافی کم ہوتا نظرآ رہا ہے۔ اس کی خاص وجہ حکومت کی توجہ تمام شعبوں میں اس کے کردار کو بڑھانا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بجٹ بنانے کے عمل میں حکومت FICCI اور CII پر ہی توجہ دیتی ہے۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عام آدمی کی آواز اور اس کی ضرورتوں کو بجٹ بنانے کے مرحلے میں شامل کیا جاتا ہے، جس کا جواب نہیں میں ہے۔ اس کے علاوہ وہ بجٹ بنانے کے مرحلے میں شفافیت بھی نہیں پائی جاتی۔ اس لیے بجٹ کو لے کر عوام کے سامنے حکومت کی جواب دہی بھی کم ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کس طرح سے بجٹ میں عوام کی شمولیت کو بڑھایا جائے اور جواب دہی کو مضبوط بنایا جائے۔

۱) عوامی سطح پر لوگوں میں بجٹ کے تئیں بیداری پیدا کی جائے۔

۲) بجٹ بنانے کے مرحلے اور بجٹ سے متعلق تمام طرح کی جانکاری کو عوام میں پہنچایا جائے۔

۳) غیر سرکاری تنظیموں کو بجٹ پر ٹریننگ دی جائے تاکہ وہ بجٹ کو سمجھ کر حکومت سے مطالبہ کرے کہ سرکار بجٹ میں غریبوں اور محروم طبقات کو زیادہ اہمیت دے۔

۴) عوام میں بجٹ پر مستقل سیمینار اور بحث و مباحثہ کا پروگرام منعقد کیا جانا چاہیے۔

(اگلے شمارے میں بجٹ کے دیگر مراحل کے بارے میں بتایا جائے گا)