ابوفہد، دہلی
فیض احمد فیض کی مشہور نظم ‘’ہم دیکھیں گے‘‘جو سیاست کی بالادستی اور ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کا اعلامیہ بن چکی ہے، چوںکہ اردو میں لکھی گئی ہے اور شاعر اپنے نام کے اعتبار سے مسلمان ہے، مشرقی علوم اور مشرقی زبانوں کا اس نے گہرا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ اس لیے لازمی طور پر ایسا ہوا کہ نظم کی زمین مشرقی بیانیوں کے علامتی لفظ و صوت اور تصور و خیال سے بھر گئی ہے۔ اور یہ بالکل فطری بھی ہے، کوئی بھی نظم جس زبان میں لکھی جاتی ہے اسی زبان کے محاوروں، کہاوتوں، علامتوں، استعاروں اور تشبیہات و تلمیحات بلکہ خود شاعر کے ایمان و مذہب کو ظاہر کرنے والی علامتوں اور صوتیات سے مملو ہوتی ہے اور جب تک لفظ اور علامتوں کا برتاؤ. منفی نہیں ہے، تب تک اس میں کچھ برائی بھی نہیں۔ اس کے برعکس اگر ظلم کی مخالفت اور آزادیوں کی حمایت کی بات ہے تو یہ ہر طرح سے قابل قبول ہے اور اس کی ہر حال میں تائید کی جانی چاہیے۔
یہ نظم اس وقت لکھی گئی تھی جب فیض امریکہ میں مقیم تھے اور وطن سے دور اپنے اس قیام کو جلا وطنی سے تعبیر کرتے تھے، یہ نظم فیض کے دیوان ‘’مرے دل مرے مسافر‘‘ میں شامل ہے۔ اس کا عنوان ‘’ویبقیٰ وجہ ربک‘‘ہے، جو سورۂ رحمان کی آیت کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ نظم ڈکٹیٹر شپ کے خلاف بغاوت کا اعلامیہ ہے اور جمہوری حکومت کے قیام کا مژدہ سنانے والی ہے۔ اس میں یہ دعویٰ بہت یقین کے ساتھ دہرایا گیا ہے کہ حالات ایک دن یقیناً بدلیں گے۔ حالاں کہ فیض نے کب کے ترک مذہب کرلیا تھا لیکن بطور استدلال شاعر کے دل میں یقین کی یہ کیفیت قرآن کے بیانیے اور اس پر اعتماد و یقین سے بھی پیدا ہوئی ہے۔ اور ان ادبی و سیاسی سرگرمیوں اور وابستگیوں سے بھی، جن سے وہ عمر بھر وابستہ رہے۔ اقبال اور رومی تو ان کے پسندیدہ شاعر رہے ہیں۔
اس نظم میں جتنے بھی ایسے الفاظ آئے ہیں جو مذہبی شعار اورعلامات کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں جیسے کعبہ و بُت اور حرم وانا الحق وغیرہ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ علامتی اور استعاراتی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ بُت سے مراد بھی ہندو مذہب کے دیوی دیوتاؤں کی کوئی مورتی نہیں ہے، بلکہ ظالم حکم راں اور نامراد اہل سیاست مراد ہیں۔ اردو شاعری میں بُت کا استعمال بہت کثرت سے ملتا ہے اور اکثر جگہ اس سے معشوق مراد ہوتا ہے، خاص کر وہ جو شوخ اور بے پرواہ ہے، جو محبت کا مثبت جواب نہیں دیتا۔ پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی نے کہا ہے:
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
نسیم کے اس شعر میں ‘’ بُت‘‘ سے مراد کوئی مورتی نہیں ہے اور نہ ہی ‘’کفر‘‘ کا اشارہ کسی غیر مسلم کی طرف ہے، بلکہ بت سے مراد معشوق ہے اور کفر سے مراد اس کی ضد اور ’نہیں نہیں‘ ہے۔
فیض کی نظم میں اللہ کا نام بے شک حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے اور اس نظم کی یہی لائن ‘’ بس نام رہے گا اللہ کا‘‘ اس نظم اور اس کے عنوان میں ربط پیدا کرتی ہے۔ مگر یہاں لفظ ’اللہ‘ کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ نظم اردو زبان میں ہے اورشاعر مذہب بیزار ترقی پسند اردو حلقہ سے وابستہ ہونے کے باوجود اللہ کی ذات میں عقیدہ (آستھا) رکھتا ہے۔ اگر شاعر غیر مسلم ہوتا یا نظم دوسری زبان میں ہوتی تو اللہ کے سوا کوئی دوسرا لفظ ہوسکتا تھا، جیسے مالک، بھگوان اور گاڈ وغیرہ۔ اسی طرح ’حرم ‘ اور ’کعبہ‘ بھی ایوان سیاست کی اعلی مسندوں کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح عدالتِ عالیہ کو’’ انصاف کا مندر‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ایسا کہتے وقت حقیقی مندر مراد نہیں ہوتا اور نہ ہی عدالتِ عالیہ کو مندر بتانا مقصود ہوتا ہے۔
‘’ہم دیکھیں گے/لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے‘‘
ان مصرعوں میں دو نوعیت کا مضمون ہے۔ ایک یہ کہ دیکھتے ہیں اللہ ظلم کو مٹانے اور انصاف قائم کرنے کا اپنا وعدہ کس طرح پورا فرماتا ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ کا یہ وعدہ سچ ہوکر رہے گا اور ہم (یعنی انسان، نہ کہ خود فیض) اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
‘’ہ دن کے جس کا وعدہ ہے/جو لوح ازل میں لکھا ہے‘‘
یہاں وعدے کے دن سے قیامت کا دن مراد نہیں ہے اور نہ ہی لوح ازل سے محض قرآن مراد ہے، جیسا کہ بعض اہل قلم نے بتانے کی کوشش کی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے قوانین فطرت میں بھی اور قوانین شریعت میں بھی اللہ کا یہ اصول اور وعدہ ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آتا ہے، جب ظالم بے موت مارا جاتا ہے اور مظلوم سرخ رو ہوتا ہے۔ موسیٰ و فرعون کی طویل داستانِ دلخراش میں ایک دن وہ بھی آیا جب فرعون غرقاب ہوا اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سرخ رو ہوئی۔ یہی بات قرآن میں اس طرح لکھی ہے۔ ‘’و قل جآء الحق وزهق الباطل‘‘۔ جس طرح فرعون کا غرق ہونا اسی دنیا میں ہوا، اسی طرح یہ بھی دنیا ہی میں ہوتا ہے کہ باطل کا چراغ گل ہوتا ہے اور حق کی شمع روشن ہوتی ہے۔ اس لیے ‘’وعدے کے دن ‘‘ سے قیامت کا دن مراد لینا درست نہیں ہے اور’’ لوح ازل ‘‘سے قرآن ہی سمجھنا بھی غلط ہے۔ اس میں ابتدائے آفرینش کے معنی بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح نظم میں زمین کے دھڑدھڑ دھڑکنے اور بجلی کے کڑکڑ کڑکنے کی صوتیات کی خام بنیادیں قرآنی بیانیے میں تلاش کرنا بھی دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ مگر کئی قلم کاروں نے یہ کوشش بھی کر ڈالی ہے۔
‘’جب ارضِ خدا کے کعبے سے /سب بت اٹھوائے جائیں گے‘‘
ارضِ خدا کے کعبے سے یعنی اللہ کی زمین کے قابل احترام مقامات اور ایوان سیاست سے، جب ظالم حکم رانوں کو بے عزت کرکے نکالا جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح بیت اللہ سے بتوں کو نکالا گیا تھا۔ یہاں تلمیحاً اُس واقعے کی طرف اشارہ ہے، جب بیت اللہ الحرام کو بتوں سے پاک کیا گیا تھا۔ مگر مقصود آج کے زمانے کے ظالم حکم رانوں سے سیاست کے ایوانوں کو پاک کرنا ہے اور مردودِ حرم، (سیاست کے محل اور ایوانوں سے دھتکارے ہوئے لوگ) یعنی عوام کو ایوان سیاست کی اعلیٰ مسندوں پر بٹھایا جائے گا۔ آج کی دنیا میں جو دھتکارے ہوئے لوگ ہیں اور دبے کچلے انسان ہیں، جلد ہی وہ دن بھی آئے گا جب وہ سیاسی و مذہبی محلوں اور ایوانوں کی اعلیٰ مسندوں پر جلوہ افروز ہوں گے اور یہ ہوکر رہے گا، کیونکہ قدرت کے کارخانے میں ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے۔
اس نظم کا عنوان اور پھر نظم میں موجود بعض الفاظ اور تلمیحات اس کو مذہب اسلام،اسلامی تہذیب اور پھر اسلامی بیانیے سے جوڑ دیتی ہیں۔ عنوان کے لیے تو قرآن کے الفاظ من و عن لے لیے گئے ہیں۔ اس میں منصور کے نعرے ’انا الحق‘ کا ذکر بھی بطور تلمیح آگیا ہے۔ یہ نعرہ بھی بنیادی طور پر کسی غیر اسلامی مذہب کے مخالف نہیں ہے، بلکہ اُس وقت جب یہ نعرہ حسین بن منصور حلاج کی زبان سے ادا ہوا تھا، اسے اسلامی توحید کے خلاف ہی سمجھا گیا تھا، بعد میں سیاست بھی اس کے خلاف ہوگئی اور منصور کو دار پر کھینچا گیا۔ پھر مزید بعد کے زمانوں میں یہ نعرہ سیاست گردی کے خلاف اور غلامی کے خلاف ’انقلاب زندہ باد ‘ جیسا نعرہ بن گیا۔ فیض کی نظم میں اس نعرے کی گھن گرج نعرۂ انقلاب کی گھن گرج کے ہم معنی ہی ہے۔ اب اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ فیض اس نعرے سے فی الواقع کیا معنی سمجھتے تھے، وہ بھلے ہی منصور کو درست مانتے ہوں اور اپنے من میں ’انا الحق‘ کی کوئی توجیہ کرتے ہوں جیسے کہ بہت سے صوفیاء اور علماء نے کی ہے، مگر نظم میں یہ محض عزم و استقلال اور انقلاب کے معنی میں ہی ہے۔ اس میں اس عزم کا اظہار ہے کہ منصور حلاج کی طرح ہم بھی خوشی خوشی تختہ دار کو چوم لیں گے مگر اپنے دعوے سے سرمو انحراف نہ کریں گے۔
جملۂ معترضہ کے طور پر یہ بھی سن لیں کہ نعرۂ انا الحق سے کوئی کچھ بھی سمجھے اور جو چاہے معنی نکالے مگر’ اناالحق‘ فرعون کے نعرے ’انا ربکم الا علیٰ‘ سے بہت مختلف ہے۔ اس میں غرور اور خدائی کا دعویٰ ہے،جبکہ’ اناالحق‘ میں عاجزی اور فنا کا تصور ہے۔ دونوں قلبی واردات کی سطح پر ایک دوسرے کے متضاد ہیں، ایسے ہی جیسے کفر اور ایمان ایک دوسرے کے کھلے متضاد ہیں۔
جس طرح کوئی فلم، ناول یا افسانہ وغیرہ جس کی زمین مذہبی علامتوں پر استوار ہو، یا اس کی کہانی مندر، مسجد، گردوارہ یا چرچ وغیرہ کے ارد گرد گھومتی ہو تو محض اس بات سے وہ افسانہ، ناول یا فلم مذہبی نہیں ہوجاتی، اسی طرح کوئی نظم، فن پارہ یا ادب مذہبی علامتوں کی وجہ سے مذہبی نہیں ہوجاتا۔ انہیں اگر کوئی چیز مذہبی بناتی ہے تو وہ لفظوں، استعاروں اور تلمیحات کا برتاؤ ہے کہ ان میں معنی کو کس کیف و نوع کے ساتھ برتا گیا ہے۔ اگر کسی نے یہ بات نہیں جانی تو اس نے آرٹ اور ادب کو نہیں جانا۔
اس نظم کو یا اس کی کسی لائن کو ہندو مخالف بتانا شعر و ادب سے سراسر ناآشنائی والی بات ہے یا پھر یہ کہ سیاست چلانا مقصود ہے اور کچھ نہیں۔ کوئی بھی ادب و ساہتیہ کا آدمی اس نظم کو ہندو مخالف نہیں کہہ سکتا۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ یہ نظم خود پڑوسی ملک کے حکم راں جنرل ضیاء الحق کی بعض پالیسیوں کے خلاف کہی گئی تھی، تب تو اور بھی کوئی تُک نہیں بنتی کہ اسے ہندو مخالف بتایا جائے۔
تعجب ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان میں جس شاعر کو ہندوستان نواز کہا گیا، آج اسی کے چند بول ہندو مخالف قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس نظم سے ایک زمانے میں پاکستان کی حکومت خوف کھاتی تھی اور آج ہندوستان کی حکومت کو اسی نظم سے کے اندر پوشیدہ دعوتِ انقلاب کا خوف ستا رہا ہے۔ سیاسی اکھاڑوں کے پہلوان بھی کتنے بہادر ہوتے ہیں، کہ لفظ و صوت کی گھن گرج سے ڈرجاتے ہیں، حالانکہ ان کے اپنے پاس توپوں، میزائلوں اور ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ ہوتی ہے اور پھر بھی وہ کمزور اور سریلی آوازوں سے خوف کھاتے ہیں۔ کیا یہ اپنے آپ میں کچھ کم تعجب خیز بات نہیں ہے؟


