وطن عزیز کے حالات کو لے کر آج بھلا کسے فکر و تشویش نہیں ہے۔ کیا صاحبانِ اقتدار، کیا حزب اختلاف، کیا عوام کیا خواص، کیا امیر کیا غریب، ہر کوئی اسی بات کا دعویٰ کر رہا ہے وہی اصل میں ‘’دیش بھکت‘‘ ہے اور وہ جو کچھ کر رہا ہے اسی دیش بھکتی کے جذبے کے تحت کر رہا ہے۔ بادی النظر میں ہم ان میں سے کسی بھی فریق کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارا ملک بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کی تقریبات منا رہا ہے اور ابھی ابھی 71ویں یوم جمہوریہ تقریبات کے تحت ہم نے بڑی شان و شوکت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شاہین باغ کی نہایت پرامن طریقے سے احتجاج پر بیٹھی خواتین نے بھی جشن یوم جمہوریہ شاندار طریقے پر منایا۔ یہاں تک کہ جنوب کی ریاست کیرالا میں 620کیلو میٹر طویل انسانی زنجیر بنا کر وہاں کے عوام نے محب وطن ہونے کا اظہار کیا اور آئین سے وفاداری کا عہد کیا، لیکن عین اسی وقت ملک کی شمال مشرقی ریاست آسام میں کچھ دہشت گردوں نے بم دھماکے کرکے جمہوریت کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی مذموم کوشش کی۔
ملک کی راجدھانی دہلی کی اصل تقریب جشن جمہوریہ صبح منعقد ہوئی تو شام ڈھلے ہمارے وزیر اعظم اپنے 61ویں ‘’من کی بات‘‘ ایپی سوڈ کے ذریعے ہم وطنوں کو مخاطب کر رہے تھے۔ لرننگ اور شیئرنگ کی بات کرتے ہوئے کئی مثبت حصولیابیوں کا ذکر مودی جی نے کیا، البتہ اگلے دن کے لیے انہوں نے یہی سرخی دی کہ کسی بھی مسئلے کا حل امن اور ڈائیلاگ سے ہی نکل سکتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اسی بات سے جوڑ کر یہ بھی کہا کہ ‘’تشدد کو ترک کریں‘‘۔ ظاہر ہے کہ ملک بھر میں جاری متنازعہ شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کو ذہن میں رکھ کر وزیر اعظم نے یہ نصیحت کی ہے۔ جمہوری، نیز آئینی حقوق کے تحت ایک سرکاری قانون کے خلاف اپنی رائے کے پرامن طریقے سے اظہار کو وزیر اعظم کیا تشدد آمیز اقدام تصور کررہے ہیں؟ اب آئیے! ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ کی دلی انتخابی ریلی کے دوران دی گئی دھمکی کو ہی دیکھ لیں۔ وہ اپنے خطاب میں واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے دو پھر یہاں کوئی شاہین باغ نہیں ہوگا۔ حکم راں پارٹی کے ایک چرب زبان ترجمان سمبت پاترا نے شاہین باغ کی کردار کشی کرتے ہوئے ایک چینل پر اسے ‘’توہین باغ‘‘ کے نام سے تعبیر کیا۔ ملک کا دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ این سی آر بی یعنی قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے سن ۲۰۱۷ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ’غداری وطن ‘ کے کیسوں تقریباً دوگنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سن ۲۰۱۷ میں اس قانون کے تحت تین نابالغ بچوں اور نو خواتین سمیت ۲۲۸ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور محض چار ہی ملزموں کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ لاء کمیشن آف انڈیا نے سال گزشتہ اس ‘’سیڈیشن لا‘‘ پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہی حال متنازعہ یو اے پی اے قانون کا بھی ہے۔ مذموم ’ٹاڈا‘ اور ’پوٹا‘ قوانین کے سلسلے میں ایک خطرناک قانون انسداد غیر قانونی سرگرمی (UAPA) ہے، جس کے تحت ضمانت قبل از گرفتاری حاصل نہیں کی جاسکتی۔ سن ۲۰۱۶ میں اس کے تحت ۶۷ فیصد ملزمان کو بری کردیا گیا۔ یعنی قریب ایک تہائی افراد ہی قصوروار ٹھہرائے جاسکے۔ دراصل یو اے پی اے کے تحت آنے والے مقدمات کو ‘’اقتدار کے خلاف جرم‘‘ کے درجے میں شمار کیا جارہا ہے۔ یوں تو اس کی زد میں زیادہ تر ماؤ نواز یا ان سے ہمدردی جتانے والے دانشور اور سماجی کارکن آتے ہیں، لیکن حکومتیں ماحولیات اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد و دانشوروں کو بھی یکساں طور پر یو اے پی اے کے نشانے پر رکھتی ہیں۔ تازہ ترین معاملوں میں جے این یو کے طالب علم شرجیل امام کے ذریعے ریاست آسام کی ناکہ بندی والا بیان کافی سرخیاں بٹور رہا ہے۔ کم ازکم پانچ ریاستوں میں اس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، جس میں 124-A یعنی غداری ون کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں کنہیا کمار، عمر خالد اور انربان جیسے نوجوانوں پر بھی اسی نوعیت کے مقدمے درج ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف متنازعہ شہریت قانون کے خلاف معمولی آواز اٹھانے پر بھی اتر پردیش پولیس بڑی بے دردی سے عوام کو پیٹ رہی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہماری حکومتیں عوام کا دل جیتنے سے زیادہ پولیسیا جبر اور قانون کا ڈنڈا چلانے میں یقین رکھنے لگی ہیں اور یہ رویہ کسی بھی جمہوری مملکت کو زیب نہیں دیتا۔ آنجہانی وزیر اعظم واجپائی انسانیت اور ڈائیلاگ کی بات کرتے کرتے رخصت ہوگئے۔ اور موجودہ وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کےدوسرے دور میں ’ویکاس‘ کے ساتھ ’وشواش‘ کی بات بھی کہی تھی۔ لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کیا حکومتوں کے جارحانہ اپروچ کے ذریعے عوام کے دل جیتنے کا کوئی سامان ہو سکے گا؟ ڈائیلاگ یا ڈنڈے میں سے کسی ایک ہی کو منتخب کرنا ہوگا۔


