پرواز رحمانی

 اتحادی بھی ناراض ہیں

مرکزی حکومت اور حکم راں پارٹی کے لوگ شہریت سے متعلق نئے قوانین پر یہ کہہ کر شہریوں کے اندیشے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سی اے اے اور این آر سی کا نیشنل پاپولیشن رجسٹر سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے لیکن خود حکومت کے بہت سے حامیوں اور اتحادیوں کو ان باتوں پر اطمینان نہیں ہے۔ اس معاملے میں بہار کی جے ڈی یو کے اندر سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ پارٹی کے دو بڑے دانشوروں، پون ورما اور پرشانت کشور نے خود وزیر اعلی نتیش کمار کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ ورما کا کہنا ہے کہ یہ سارے قوانین بی جے پی اور آر ایس ایس کے قدیم ایجنڈے کا حصہ ہیں جس پر خود وزیر اعلیٰ شدید تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی جے پی سے جے ڈی یو کا اتحاد صرف بہار کی حد تک ہے۔ اس اتحاد کو وسعت دینا غلط ہوگا۔ دہلی میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے اسمبلی کے انتخابات لڑنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ مسٹر ورما نے اس سے پہلے بھی ایک خط لکھ کر نتیش کمار سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ مسٹر ورما نے مسٹر کمار کو یہ بھی یاد دلایا کہ ‘’آپ نے ایک بار کہا تھا کہ بی جے پی بھارت کو انتہائی خطرناک راستے پر لے جا رہی ہے‘‘۔

یقین دہانی واضح ہو

اسی طرح پرشانت کشور نے کہا ہے کہ یہ تینوں قوانین ایک دوسرے سے ملحق ہیں۔ این آر سی، این پی آر کا پیش خیمہ ہے۔ مسٹر کشور جنتا دل یو کے نائب صدر ہیں۔ اس موضوع پر روزنامہ ہندو میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر کشور نے کہا کہ ‘’اگر آپ ان قوانین کے سلسلے میں عوام کے اندیشے اور شکوک و شبہات واقعی دور کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو صاف صاف کہنا چاہیے کہ این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹر) کا عمل پورا ہونے کے بعد نیشنل رجسٹر آف سٹی زن شپ نہیں لایا جائے گا‘‘۔ آسام میں بھی یہی صورت حال ہے۔ وہاں بی جے پی کی سرکار ہے اور آسام گن پریشد اس کی اتحادی ہے۔ آسام گن پریشد کے بہت سے لوگ اس اتحاد کے خلاف ہیں۔ آسام گن پریشد، آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کی پارٹی ہے لیکن اب وہ پریشد سے ناراض ہے اور ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے پر سرگرمی سے غور کر رہی ہے۔ اسٹوڈنٹس یونین کا کہنا ہے آسام گن پریشد کے لیڈر بی جے پی کے ہندتوا کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کے بہت سے کام ۱۹۸۵ء کے اس معاہدے کے خلاف ہیں جو راجیو گاندھی کی حکومت کے ساتھ ہوا تھا۔ اور بھی کئی گروپ اور حلقے ہیں جو بی جے پی کے ساتھ قربت رکھتے ہیں لیکن اس کی اِس نئی دیوانگی کو پسند نہیں کرتے۔ بہت سے کہتے ہیں کہ عوام کی توجہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت سے ہٹانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔

اس دیوانگی کے پیچھے

اس دیوانگی کی حقیقت جو بھی ہو، اس نے شہریوں کے بہت بڑے حصے کو بہر حال پریشان کر رکھا ہے۔ اگر حکومت یا اس کے دو گجراتی لیڈر دہشت زدہ عوام کی دہشت دور کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ وہی ہے جو پرشانت کشور نے بتایا ہے۔ وہ واضح طور پر کہیں کہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر کے بعد این آر سی نہیں آئے گا۔ ایسی دستاویزات طلب نہیں کی جائیں گی جو فراہم نہ کی جاسکتی ہوں۔ مسلم شہریوں کو خاندانی ناموں میں نہیں الجھایا جائے گا۔ ہندو شہریوں میں خاندانوں اور جاتیوں کے نام لکھنے کا جو رواج ہے وہ مسلمانوں میں نہیں ہے۔ ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونے سے خاندانوں کے نام بدل بھی جاتے ہیں۔ حکومت کے لوگ مبہم اور مہمل زبان میں تو کچھ کہہ دیتے ہیں لیکن صاف الفاظ میں کوئی مضبوط و مدلل بات نہیں کہتے۔ آج پورے ملک میں جو غیر معمولی احتجاج جاری ہے یہ اُسی کا نتیجہ ہے۔ حکام کا لہجہ قدرے نرم ہوا ہے لیکن ہوم منسٹر کے تیور زبانی جمع خرچ کی حد تک وہی ہیں۔ مظاہرین کو چاہیے کہ سی اے اے کے خاتمے کے ساتھ ساتھ این آر سی میں (اگر وہ آتا ہے) بنیادی تبدیلیوں پر زور دیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، ورنہ حالات مزید بگڑیں گے۔ حکومت کی سرپرست آر ایس ایس کو بھی اب اپنی ضد چھوڑ دینی چاہیے۔