شبیع الزماں (پونہ)

مودی حکومت نے اپنی پہلی میعاد کی بنیاد نیشنلزم پر رکھی تھی۔ جے این یو، ملٹری کے اختیارات میں اضافہ، بالاکوٹ، پلوامہ، اربن نکسل یہاں تک کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی حماقتوں کے حق میں بھی دلیل نیشنلزم ہی سے دی گئی تھی۔

 دوسری میعاد کی شروعات تھوڑے مختلف انداز سے ہوئی، اس بار کے ایشوز یا مسائل مختلف ہیں۔ انسداد دہشت گردی قانون، ٹرپل طلاق کا مسئلہ، آرٹیکل 370 کا خاتمہ، بابری مسجد کا فیصلہ، این آر سی اور اس کے بعد شہریت ترمیمی قانون۔ اس وقت پورے ملک میں این آر سی اور سیٹیزن شپ ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے لیکن بی جے پی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے۔ این آر سی آسام کا مسئلہ تھا لیکن بی جے پی نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے اسے ملک بھر میں پھیلا دیا۔

کہا جا سکتا ہے کہ دوسری میعاد میں مودی حکومت کی پالیسی بدل گئی یا راست اس کے اصل ایشوز پر آگئی ہے۔ نیشنلزم، ہندو نیشنلزم میں بدل گیا ہے۔ تمام ہی سرگرمیاں مسلم مخالف رنگ لیے ہوئے نظر آنے لگی ہیں۔ پہلی میعاد کی بہ نسبت دوسری میعاد میں بی جے پی اپنے نظریاتی ایشوز کو لے کر زیادہ جارحانہ موڈ میں نظر آرہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں عوام کیا کریں۔ حکومت کو قابو میں رکھنے کے جتنے ممکنہ آپشنز ہو سکتے تھے بی جے پی نے گزشتہ میعاد میں بہت ہی عیاری اور چالاکی سے ختم کر دیے ہیں۔ جمہوری نظام کی بقا کے لیے جمہوری اداروں کا آزادنہ طور پر کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس حوالے سے دنیا میں اس کی تعریف کی جاتی رہی ہے کہ یہاں جمہوری اداروں کو آزادی حاصل ہے۔ جیسے یہاں الیکشن کمیشن حکومت کی دخل اندازی سے محفوظ رہتا ہے۔ فوج ملک کے سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی بلکہ سول اتھارٹی ہی فوج سے متعلق فیصلے بھی لیتی ہیں۔ اسی طرح عدلیہ، میڈیا جیسے دوسرے ادارے بھی آزاد ہیں۔ لیکن پچھلے پانچ سالوں سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ہندوستان میں دستور کا نفاذ کرنے والے ادارے کمزور ہو جائیں بلکہ اس پورے تنظیمی ڈھانچہ (Institutional Framework) کو ہی کمزور کر دیا جائے جو سرکار پر گرفت کر سکتا تھا۔ قانون کی حکم رانی کے لیے لازمی ہے کہ یہ ادارے آزادانہ طور پر کام کریں۔

جمہوریت میں پارلیمنٹ سب سے اہم ادارہ ہوتا ہے لیکن اس کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔ کمزور سیاسی اپوزیشن، حکومت کو اپنے ارادوں سے باز رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ حکومت اپنی مرضی کے مطابق پارلیمنٹ سے قوانین پاس کروا رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بے بس اور مجبور ہیں۔ قوانین کو منظور ہونے سے روکنا تو دور وہ ڈھنگ کا اعتراض تک درج نہیں کروا پا رہی ہیں۔

عوام کے تحفظ کی ذمہ داری سیکورٹی ایجنسیوں پر ہوتی ہے لیکن حکومت ان سرکاری ایجنسیوں کو اپنے مخالفین، چاہے وہ سیاسی مخالفین ہوں یا سول سوسائٹی کے افراد، کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہر قسم کی مخالفت کو دبانے کے لیے انکم ٹیکس، ای ڈی، سی بی آئی اور دوسری ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کا کچھ نہ کچھ غلط استعمال ہر حکومت کرتی رہی ہے مگر اس حکومت نے سابقہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پولس تو بالکل سرکاری غنڈوں کے طور پر استعمال کی جارہی ہے۔

اسی طرح الیکشن کمیشن ایک دوسرا ادارہ ہے جس کے ذمہ ہندوستان میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروانا ہے۔ ہندوستان کا الیکشن کمیشن اس بات کے لیے دنیا میں مشہور رہا ہے کہ وہ غیر جانبدار رہتا ہے اور سرکار کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں ہوتا۔ لیکن پچھلے پانچ چھ سالوں میں الیکشن کمیشن کا رویہ مستقل طور پر سوالات کے گھیرے میں ہیں۔

ہندوستان میں فوج کو ہمیشہ سیاست سے علاحدہ رکھا گیا ہے۔ ملکی سیاست میں کیسی ہی افتاد آ پڑے،

٠فوج ملکی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھی لیکن دھیرے دھیرے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ فوج کی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے۔ آرمی چیف بار بار پریس کانفرنسز کر رہے ہیں حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ دوسرے ان کے بیانات موجودہ حکومت کی آئیڈیالوجی سے کافی قریب محسوس کیے جا رہے ہیں۔ آرمی کی سیاسی معاملات میں مداخلت ایک خطرناک رجحان ہے جو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

میڈیا سے امید کی جاتی تھی کہ سرکار کی سچائیاں دنیا کے سامنے لائے گا لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑا حصہ حکومت نوازی میں لگا ہوا ہے۔ جو خریدے نہیں گئے ان پر دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ میڈیا کا بڑا حصہ سرکار کا ماؤتھ آرگن بن گیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں میڈیا کبھی بھی اتنا یک رخی نہیں رہا ہے۔

اس پورے تنظیمی ڈھانچے ( Institutional Eco System (میں سپریم کورٹ وہ آخری ادارہ بچا ہے جس سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں لیکن جب کہ پورا سسٹم ہی کمزور ہوگیا تو سپریم کورٹ اکیلے کب تک پورا بوجھ سہہ پائے گا۔ پچھلے پانچ سالوں میں ججوں کی بھرتیاں جس طریقہ پر ہوتی رہی ہیں اس پر شک و شبہ کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ عدلیہ کے بعض فیصلے مستقل سوالات کے گھیرے میں آئے ہیں۔ حکومت مستقل کوشش کر رہی ہے کہ جمہوریت کے اس آخری ادارے کو بھی قابو میں کر لیا جائے۔

 حکومت نے ایک ایک کرکے جمہوریت کا نفاذ کرنے والے سبھی اداروں پارلمینٹ، سرکاری ایجنسیوں، میڈیا اور دیگر کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔

ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کے باقی رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کی آزادی باقی رہے اگر یہ آزادی ختم ہوئی تو ہندوستانی جمہوریت بکھر جائے گی اور سماج سے آزادی ختم ہوجائے گی۔ اس کے بعد ہندوستان میں امن و امان اور لا اینڈ آرڈر کی کیا صورت حال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

ہندوستان میں آزادی کو بر قرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری اداروں کا تحفظ کیا جائے۔ اگر جمہوری ادارے ختم ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں عوام کے پاس سرکاری نا انصافیوں سے لڑنے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت، آزادی اور جمہوری اداروں کو کس طرح بچایا جائے اس پر غور و فکر اور نئی حکمت عملی تیار کرنا ہوگا۔