ہارون ریشی، سری نگر

اس میں دو رائے نہیں ہے کہ 1989ء میں کشمیر میں عسکریت پسندی کی شروعات کے ساتھ ہی یہاں کے حالات نے اس قدر بھیانک رُخ اختیار کرلیا تھا کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کے حیثیت سے کشمیری پنڈت بری طرح عدم تحفظ کا شکار ہوگئے تھے۔ در اصل وادی میں بندوق نمودار ہوتے ہی ہلاکتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ تشدد کی پے درپے وارداتوں کا رونما ہونا ایک معمول بننے لگا تھا۔ چونکہ بندوق کے دہانے سے نکلنے والی گولیوں کی آنکھیں نہیں ہوتیں، اس لیے متاثرین میں ہر مذہب اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ سب سے زیادہ اُفتاد نیشنل کانفرنس، کانگریس اور دیگراصل دھارے کی سیاسی جماعتوں، جنہیں مقامی اصطلاح میں ’ہندنواز‘ پکارا جاتا تھا، کے لیڈروں اور کارکنوں پر نازل ہونا شروع ہوگئی تھی۔ شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا تھا جب کسی نہ کسی علاقے سے بم دھماکوں، فائرنگ اور آتشزنی کی خبریں موصول نہ ہوتی تھیں۔ ایسے حالات کو دیکھ کر کشمیری پنڈتوں کا خوفزدہ ہوجانا فطری تھا۔ اسی لیے وہ چند ہفتوں کے اندر اندر ہی اپنا گھر بار مال و املاک سب کچھ پیچھے چھوڑ کر یہاں سے بھاگنے لگے تھے۔ ظاہر ہے کہ اُس وقت کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ تشدد کی یہ لہر دہائیوں تک جاری رہے گی۔ اسی لیے بیشتر کشمیری پنڈت اپنے گھروں، دکانوں اور دیگر املاک کو عارضی طور بند کرکے چلے گئے تھے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ کشمیری پنڈت کسی اجتماعی منصوبہ بندی کے ساتھ یا ایک طویل عرصے کے لیے یہاں سے چلے گئے تھے۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ اُس وقت کے حالات دیکھتے ہوئے بہت سارے آسودہ حال مسلمان اور سکھ خاندان بھی وادی سے عارضی طور چلے گئے تھے۔ لیکن ہجرت کرنے والوں کی تعداد میں بھاری اکثریت کشمیری پنڈتوں کی تھی۔ ان کی ہجرت کے حوالے سے 19جنوری کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے کیونکہ 1990ء میں اسی دن ریاست کے اُس وقت کے گورنر جگ موہن، جنہوں نے ابھی ابھی ریاست کا انتظام سنبھالا تھا، ان کی انتظامیہ نے کشمیری پنڈتوں کو وادی سے نکلنے میں کئی طرح کی سہولتیں فراہم کی تھیں۔ 19جنوری کی شب بڑی تعداد میں کشمیری پنڈتوں کو سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیوں میں سوار کروا کر وادی سے باہر لے جایا گیا۔ اسی دن کی مناسبت سے گزشتہ ہفتے کشمیری پنڈتوں نے یوم احتجاج منایا۔ اس روز نہ صرف بھارت کے مختلف شہروں بلکہ کئی بیرونی ممالک میں بھی پنڈتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔ کئی جگہوں پر سمینار اور جلسے وغیرہ بھی منعقد کیے گئے۔

ظاہر ہے کہ اس بات کی نفی کرنا ایک غیر انسانی رویہ ہوگا کہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، یہ واقعی ایک المیہ ہے۔ کیونکہ اپنے مادر وطن، اپنی املاک، اپنے تہذیب و تمدن کو چھوڑنے کے دُکھ درد کا کوئی مداوا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تیس سال گزرنے کے باوجود مہاجر کشمیری پنڈتوں کے لہجے میں جو تلخی محسوس کی جاتی ہے وہ در اصل اسی دُکھ اور درد کی عکاس ہے جو انہیں اپنا مادر وطن چھوڑتے ہوئے اور بعد میں کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے سہنا پڑا تھا۔ 19جنوری کو احتجاج کرنے والے پنڈت عمومی طور پر اپنی باز آباد کاری کا دیرینہ مطالبہ دہرارہے تھے۔ یہ بھی تو ایک المیہ ہی ہے کہ متواتر مرکزی سرکاروں نے کشمیری پنڈتوں کے نام پر خوب سیاست کی لیکن عملی طور پر تیس سال گزرنے کے باوجود پنڈتوں کی گھر واپسی اور ان کی باز آباد کاری کرانے میں مکمل طور ناکام ثابت ہوگئی ہیں۔

اس دوران کشمیری پنڈتوں کی ہجرت سے منسلک معاملات کو لے کر اس قدر دروغ گوئی اور جھوٹ پھیلایا گیا کہ اصل حقائق اور سچائی کہیں کھو کر رہ گئی۔ دوسری جانب مہاجر کشمیری پنڈتوں سے منسوب درجنوں تنظیمیں قائم کی گئیں۔ ظاہر ہے کہ درجنوں پارٹیوں کے درجنوں لیڈران اور عہدیداران ہیں۔ ان میں جس کا جب اور جو جی چاہتا ہے کہتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی باتوں کے تعلق سے شدید تذبذب پیدا ہو گیا، جبکہ قومی میڈیا کا ایک بڑا حصہ بالخصوص نیوز چینلز اکثر اوقات حقائق سے بعید باتوں کو بار بار دہرا کر سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنے کی دانستہ کوشش میں مصروف ہیں۔ اس ضمن میں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والے کشمیری پنڈتوں کی تعداد سے متعلق ہے۔ عام طور سے تاثر دیا جاتا ہے کہ کشمیر میں سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں کشمیری پنڈتوں کا قتل کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا میں اس حوالے سے ’نسل کشی‘ کی اصطلاح کا استعمال ایک عام بات ہے۔ حالانکہ جموں کشمیر کی حکومت اب تک بارہا کہہ چکی ہے کہ 1989ء سے لے کر 2004ء تک مجموعی طور پر219کشمیری پنڈت،عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ سال 2011ء میں اُس وقت کے مرکزی وزیر برائے امور داخلہ جتیندرا سنگھ، جن کا شمار اس وقت بی جے پی کے بڑے لیڈروں میں ہوتا ہے،انہوں نے لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں اس بات کی تصدیق کی کہ وادی میں 219 کشمیری پنڈت ہلاک کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پنڈتوں کی ایک معروف تنظیم کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی نے سال 2008 اور 2009ء میں ایک مفصل سروے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 1989ء اب تک(2009ء تک ) کل399 کشمیری پنڈت عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ تنظیم نے یہ وضاحت بھی کی ان میں 75 فیصد ہلاکتیں وادی میں عسکریت پسندی کے شروع ہوجانے کے بعد ابتدائی پانچ سال میں ہوئی ہیں۔ یعنی ایک لحاظ سے اس سروے میں ریاستی اور مرکزی سرکار کے اعداد و شمار کی تصدیق کی گئی ہے، جس کے مطابق 1989ء سے لے کر 2004ء تک 219کشمیری پنڈت مارے گئے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے کم یا زیادہ ہونے سے اصل المیہ کی اہمیت کم یا زیادہ ہوجاتی ہے۔ لیکن دیانت دارانہ صحافت کا یہ تقاضا ہے کہ حقائق اور مصدقہ اعداد و شمار کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کرنے نہ دیا جائے۔

اسی طرح ہجرت کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی تعداد کے بارے میں بھی شبہات پیدا کر دیے گئے۔ حالانکہ اس معاملے میں بھی درست اعداد و شمار سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ ریاستی اور مرکزی سرکاروں کے پاس پنڈت مہاجرین کے جو رجسٹرڈ اعداد و شمار ہیں۔ ان کے مطابق ان مہاجر پنڈت کنبوں کی کل تعداد 62 ہزار 452 ہے، جو عسکریت پسندی شروع ہو جانے کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے۔ ان میں سے فی الوقت 38 ہزار 119جموں میں 19ہزار 338دہلی میں اور باقی 1995 ملک کے باقی حصوں یا بیرونی ممالک میں سکونت پذیر ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر معلوم ہوتی ہے کہ ایسے کشمیری پنڈتوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے جنہوں نے انتہائی ناسازگار حالات کے باوجود سکھوں اور دوسری اقلیتوں کی طرح ہجرت کے بجائے کشمیر میں مسلم اکثریت کے ہمراہ رہنے کو ترجیح دی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 3 ہزار 445نفوس پر مشتمل وہ 808کنبے وادی کے 292مختلف مقامات اور علاقوں میں رہ رہے ہیں، جو کبھی بھی وادی چھوڑ کر نہیں گئے۔ کشمیری پنڈٹ سنگھرش سمیتی نے بھی اپنے سروے میں اس بات کی تصدیق کی ہے۔ کشمیر میں رہ رہے ان کشمیری پنڈتوں کو احساسِ تحفظ دینے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونے کے لیے مقامی مسلمانوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ ان کی شادیوں میں مسلم خواتین ‘’ون ون‘‘ یعنی لوک سنگیت گاتی ہوئی نظر آتی ہیں اور ان کی اموات میں مسلم مردوں کو ان کا ’انتم سنسکار‘ کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ متعصب قومی میڈیا وادی میں بھائی چارے کی ایسی مثالوں کو کبھی بھی سامنے نہیں لاتا۔

 کشمیری پنڈتوں کی ہجرت سے متعلق ایسے کئی سولات ہیں جن کا حکومتیں اب تک کوئی جواب نہیں دے پائی ہیں۔ مثال کے طور پر 1990ء میں گورنر جگ موہن کی انتظامیہ نے پنڈتوں کو وادی سے باہر نکالنے کے لیے سہولتیں بہم پہنچانے کے بجائے وادی کے ہی کسی ہائی سیکورٹی زون میں ان کی عارضی رہائش کا انتظام کیوں نہیں کیا؟یعنی اُس وقت کشمیری پنڈتوں کو وادی سے باہر لے جانا ہی کیوں ضروری سمجھا گیا؟ کیا انہیں جموں اور دہلی لے جا کر خیموں میں رکھنے کے بجائے وادی کے مختلف اضلاع میں سیکورٹی فورسز کی کڑی حفاظت میں نہیں رکھا جاسکتا تھا؟ وادی کے تمام علاقوں میں ویسے بھی سیکورٹی فورسز کے بڑے بڑے کیمپ اور فوجی چھاؤنیاں قائم ہیں کیا وجہ ہے کہ پنڈتوں کو کسی سیکورٹی حصار میں اپنی ہی سر زمین پر نہیں رکھا گیا؟ کم از کم اس صورتحال میں وہ اپنے معاشرے سے جدا نہیں ہوجاتے۔ اپنی سرزمین پر رہ کر ایک تو وہ یکسو رہتے دوسرے وہ اپنے کلچر اور تمدن کی زیادہ بہتر طریقے سے حفاظت کر پاتے اور کشمیری مسلمانوں سے ان کا رابطہ یک لخت ہی ختم نہیں ہو جاتا۔ اُن کے لیے اپنی املاک پر نظر گزر رکھنا بھی ممکن ہوتا۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا اُس وقت گورنر انتظامیہ جانتی تھی کہ کشمیری پنڈت عارضی ہجرت نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ اُن کی ایک طویل مدتی ہجرت ہوگی؟ اگر ہاں، تو کیا وجہ ہے کہ ان مہاجروں کو جموں اور دہلی کی تپتی گرمیوں میں خیموں میں رکھا گیا؟ دو درجن سے زائد ریاستوں پر محیط سوا ارب والے ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری پنڈتوں کی رہائش کے بہتر انتظامات کرنا حکومت کے لیے کیا مشکل کام تھا؟ اس طرح کے ان گنت سوالات کی بنا پر ہی بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو دہلی اور جموں کی خستہ حال بستیوں اور پھٹے پرانے خیموں میں سالہا سال تک بسائے رکھنے کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی کردار کشی کرنا اور انہیں انتہائی سفاک ثابت کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والی ہر اہم شخصیت اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کو حکومتی اداروں کی رہنمائی میں ان کیمپوں کا ضرور دورہ کرایا جاتا تھا۔ وادی میں اب بھی بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ گورنر جگ موہن کی انتظامیہ نے کشمیری پنڈتوں کے انخلا ء کو یقینی بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا تاکہ اس کے بعد بچی کچھی خالص مسلم آبادی پر اندھا دھند اُفتاد نازل کی جا سکے۔ حالانکہ اس الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے لیکن یہ الزام لگانے والے یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کیا یہ محض ایک اتفاق تھا کہ 19جنوری 1990ء کو کشمیری پنڈتوں کو سرکاری بسوں میں بھر کر جموں اور دہلی پہنچانے کے محض دو دن بعد یعنی 21 جنوری کو سرینگر کے گاؤں کدل میں مسلم مظاہرین پر بندوقوں کے دہانے کھول کر بیک وقت پچاس افراد کی لاشیں گرادی گئیں اور سینکڑوں کو زخمی کردیا گیا اور پھر اس کے بعد تسلسل کے ساتھ اس طرح کے واقعات وادی کے دیگر علاقوں میں دہرائے گئے؟ یہ اور اس طرح کے درجنوں سوالات شاید ہمیشہ جواب طلب ہی رہیں گے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی ہجرت کے المیہ کا ہر حکومت نے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ 2014ء میں بی جے پی کی سرکار قائم ہوتے ہی حالات کو ایک خطرناک رُخ دینے کی کوشش کی گئی، جب اس سرکار نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کی باز آباد کاری کے نام پر وادی میں علاحدہ بستیاں بسانے کا اعلان کیا۔ جبکہ سبرامنیم سوامی جیسے بی جے پی لیڈر یہ کہتے پھرنے لگے کہ مہاجر پنڈتوں کے لیے علاحدہ بستیاں قائم کی جائیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے لاکھوں سابق فوجیوں کو اسلحہ سے لیس کرکے وادی بھیجا جائے گا۔ اُس وقت وادی میں بھاجپا کی حلیف پی ڈی پی اس منصوبے کے خاکے میں رنگ بھرنے کے لیے بالکل تیار بیٹھی تھی۔ وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے اُس وقت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو دہلی جاکر بتایا کہ ان کی حکومت نے وادی میں کشمیری پنڈتوں کے لیے حصار بند بستیاں بسانے کے لیے تین مقامات پر زمین کی نشاندہی بھی کرلی ہے۔ ان مجوزہ بستیوں میں گھر لوٹنے والے پنڈتوں کے لیے ایک ہزار رہائشی کوارٹر تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم وادی کے مسلمانوں نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی۔ ان کا استدالال تھا کہ چونکہ پندٹ کشمیر کے ایک مخلوط تمدن اور تہذیب کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہیں اس لیے انہیں علاحدہ نہیں بلکہ اسی طرح معاشرے کے ہر حصے میں بسایا جائے جس طرح یہاں سکھ اور دیگر اقلیتیں رہ رہی ہیں، تاکہ ماضی کی شاندار روایات بحال کی جاسکیں گی اور اسرائیلی طرز کی علاحدہ بستیوں سے متعلق خدشات بھی پیدا نہ ہوں۔

یہاں پر یہ بات دہرانا بہت ضروری ہے کہ حکومتوں کی سازشوں اور سیاست کاریوں کا ذمہ دار مہاجر کشمیری پنڈتوں کو ہرگز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ وہ تو محض اپنی باز آبادکاری اور حقوق مانگ رہے ہیں۔ یہ مطالبہ وہ مسلسل تین دہائیوں سے کر رہے ہیں۔ لیکن اگر حکومت ان کے اس جائز مطالبے کو تسلیم کرنے میں ناکام ثابت ہوگئی ہے تو اس کا قصور وار کون ہے؟ یہ بات سابق یو پی اے سرکار کے حق میں جاتی ہے کہ تیس سال کے دوران اگر کبھی کشمیری پنڈتوں کی باز آباد کاری کے لیے واقعی کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے تو یہ اسی حکومت نے سال 2008ء میں کی تھی۔ منموہن سنگھ کی سرکار نے پہلی بار کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری کے لیے ایک وسیع مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ 1,618.40کروڑ رروپے کی خطیر رقم کے اس پیکیج میں کشمیری پنڈتوں کے لیے رہائش سے لے کر پنڈت طلبا کی اسکالر شپ، سرکاری نوکریوں کی فراہمی اور بینک قرضوں کو معاف کرنے تک کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ بلکہ مہاجر پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے تواس پیکیج سے استفادہ بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں اُس وقت 1800 پنڈت نوجوان وادی لوٹ آئے۔ انہیں نوکریاں فراہم کی گئیں اور یہاں ان کی رہائش کے لیے مختلف مقامات پر 469 رہائش گاہیں بھی تعمیر کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عملی طور پر اگر کشمیری پنڈتوں کی باز آباد کاری کے لیے کسی حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش کی بھی تو وہ بی جے پی کی حکومت نہیں بلکہ یو پی اے کی حکومت نے تھی۔

یہ بدقسمتی ہے کہ صرف کشمیری پنڈت مہاجروں کے معاملے کو ہی نہیں بلکہ 70 سال کے عرصے کے دوران کشمیر سے متعلق ہر انسانی المیہ کو سیاسی عینک لگا کر دیکھا گیا اور ان المیوں کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ کشمیر کی بدقسمتی یہی ہے کہ1947ء سے ہی یہاں انسانی سانحوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تقسیمِ برصغیر کے وقت کھٹوعہ، ادھمپور اور جموں اضلاع کے لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ جبکہ لاکھوں مسلمانوں کو سرحد پار پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا تھا۔ اس انسانی المیہ سے جڑی داستانیں اُس وقت کے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی تھیں۔ ‘’اسٹیٹسمین‘‘ کے سابق ایڈیٹر لین سٹیفن نے اپنی کتاب ‘’ہارنڈ مون‘‘ میں لکھا ہے کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو ایک ساتھ قتل کیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں ‘’1947ء کے موسم خزاں میں کم و بیش پانچ لاکھ لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا گیا۔ لگ بھگ دو لاکھ کو غائب کردیا گیا اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کا اُس وقت بے دردی سے قتل عام کیا گیا جب وہ اپنی زندگیاں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ ان میں سے زندہ بچنے والے لاکھوں مسلمان سرحد عبور کرکے پاکستانی پنجاب چلے گئے۔ ‘‘ اس سانحہ سے متعلق اُس وقت اخبار ‘’لندن ٹائمز‘‘ میں خصوصی نامہ نگار کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو قتل کروایا۔ اس کے علاوہ اُس وقت بھارت میں مقیم عالمی شہر ت یافتہ صحافی ہوریس الیکزنڈر نے اخبار ’سپیک ٹیٹر‘‘ کی 16جنوری 1948ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ان ہلاکتوں کو ریاستی حکام کی پشت پناہی حاصل تھی۔ انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ بتائی ہے۔

یہ بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہے کہ 1947ء کے اس المناک سانحہ کے بعد ریاست میں مسلم آبادی کا تنزل تسلسل کے ساتھ دیکھنے کو ملا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں 78 فیصد مسلمان تھے۔ 47ء کے قتل عام کے بعد 72 فی صد رہ گئے۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی مزید گھٹ کر68.30فیصد رہ گئی۔ 1971ء کی مردم شماری سے پتہ چلا کہ ریاست کی مسلم آبادی مزید کم ہوکر 65.85 فیصد رہ گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 70سال کے عرصے میں صرف ایک بار یعنی 2001ء کی مردم شماری میں ریاست کی مسلم آبادی میں اضافہ ظاہر ہوا ہے۔ اس مردم شماری سے پتہ چلا کہ مسلم آبادی میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بہرحال 1947ء کے مسلم کش فسادات کے بعد حالات بہتر ہوجانے کے ساتھ ہی پاکستانی پنچاب جانے والے ریاستی باشندوں کی گھر واپسی کی آوازیں اٹھنے لگیں۔ جبکہ شیخ محمد عبداللہ کی حکومت نے ان مہاجرین کی جائیدادیں محفوظ رکھنے کے لیے کسٹوڈین محکمہ معرض وجود لایا۔ ان کی تمام املاک کی نشاندہی کرنے کے بعد حکومت نے ان جائیدادوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ 1980ء میں جموں کشمیر اسمبلی میں ان مہاجرین کی گھر واپسی اور یہاں ان کی باز آباد کاری کے لیے ایک بل پیش کیا گیا۔ دو سال بعد یعنی 1982ء میں ایوان نے اکثریت رائے سے ‘’باز آباد کاری بل‘‘ کو پاس کیا اور اسے منظوری کے لیے گورنر کے پاس بھیج دیا۔ گورنر نے بل منظور کیے بغیر اسے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ اس بل پر ‘’نظر ثانی‘‘ کی جائے۔ لیکن ایوان نے اس میں کوئی تبدیلی کیے بغیر اسے دوبارہ پاس کیا۔ اس کے بعد گورنر کے پاس اس بل کو منظوری دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ چنانچہ 6 اکتوبر 1982ء کو ایوان میں بل کو منظوری دی گئی اور اس طرح سے بازآبادی کاری بل ایک ایکٹ میں تبدیل ہوگیا۔ یعنی 47ء میں پاکستان بھاگنے پر مجبور ہوئے لاکھوں لوگوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی گھر واپسی کے حق کو آئینی اور قانونی طور پر تسلیم کیا گیا۔ لیکن آج تک ان مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کوئی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ کشمیری مسلم مہاجرین کی ایک اور کھیپ ان ہزاروں مسلمانوں پر مشتمل ہے جو لائن آف کنٹرول کے قریب رہتے تھے اور آئے دن کی گولہ باری سے بچنے کے لیے 1990ء کی دہائی میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر چلے گئے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ حد متارکہ کے بالکل قریب رہتے تھے اس لیے انہیں وادی کے اندرونی علاقوں کے برعکس پاکستانی زیر انتظام کشمیر جانا زیادہ آسان نظر آیا۔ آج بھی یہ مہاجرین وہاں طرح طرح کے مصائب کو جھیل رہے ہیں۔ لیکن نہ ہی میڈیا اور نہ کسی حکومت نے آج تک ان مہاجرین کو گھر واپس لانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا۔

جو کچھ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہوا۔ یا جن حالات سے کشمیری مسلمان پچھلے تیس سال سے دوچار ہیں وہ بلا شبہ المناک ہیں۔ شاید جنگ ذدہ خطوں کا دستور یہی ہے کہ یہاں انسانی المیوں پر سیاست کی جاتی ہے۔ 19 جنوری کو جب پنڈتوں کے یوم احتجاج پر جسے بعض پنڈت تنظیموں نے ’ہولوکاسٹ ڈے ‘قرار دیا ہے،چند کشمیری پنڈت لیڈر جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں جاری اُس احتجاجی دھرنے میں نمو دار ہوئے جو نیشنل سٹیزنز رجسٹر اور شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے۔ در اصل اس واقعہ سے کچھ دیر قبل معروف فلم ساز وویک اگنی ہوتری نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاہین باغ میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے لوگ در اصل کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کے جبری انخلا کا جشن منا رہے ہیں۔ جوں ہی مذکورہ پنڈت لیڈر دھرنے میں نمودار ہوئے تو وہاں منتظمین کے ساتھ ان کی نوک جھونک بھی ہوئی۔ پنڈت لیڈروں نے اس موقعے پر ‘’کشمیری پنڈتوں کو انصاف دو‘‘ کے نعرے لگائے۔ اس کے جواب میں دھرنے میں بیٹھے کسی شخص نے کہا کہ’’صرف کشمیری پنڈتوں کو ہی نہیں بلکہ انصاف سب کو ملنا چاہیے‘‘۔ حق بات بھی یہی ہے کہ انصاف واقعی سب کو ملنا چاہیے۔ انسانی المیوں کو مذہب کے نام پر بانٹنا ہی در اصل سب سے بڑا المیہ ہے۔ کشمیر کے حالات و واقعات کے حوالے سے بھی گزشتہ تیس سال سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہر حکومت اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ کے اپنوں کو کے مصداق ’انصاف‘ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیر کا زخم مسلسل رِس رہا ہے۔ رہا سوال کشمیری مسلمانوں کا تو اُن کی حالت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پچھلے تیس سال کے دوران سرکاری وغیر سرکاری عناصر کی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری مسلمان موت کے گھاٹ اُتر چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جیلوں اور تعذیب خانوں میں سڑ رہے ہیں۔ یہاں تشدد سے متاثرہ بیواؤں، نیم بیواؤں اور یتیموں کی بھر مار ہے۔ عزتیں لٹ چکی ہیں۔ سینکڑوں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی بینائی چھن چکی ہے۔ تعلیمی اور طبی شعبے برباد ہو چکے ہیں۔ آج بھی وادی میں ہر خاص و عام بنیادی حقوق سے بھی محروم ہے۔ انہیں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے کے لیے جموں اور دہلی جانا پڑتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں پر گزشتہ تیس سال کے دوران جو مصیبتیں ٹوٹی ہیں، ان کا تذکرہ کرنے کے لیے کئی صفحے درکار ہوں گے۔ کیا انہیں انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ بلا لحاظ مذہب و ملت اور بلا لحاظ نسل و عقیدہ سب کو انصاف ملنا چاہیے۔