12 ؍دسمبر کی صبح جب وادی میں لوگ بیدار ہوئے تو ان کے گھروں کے باہر اور چھتوں پر برف کی دبیز سفید چادریں بچھ چکی تھیں۔ درمیانی شب ہی سے وادی کے طول و عرض میں برف باری ہو رہی تھی۔ دن بھر بالائی علاقوں میں بھاری اور نشیبی علاقوں میں ہلکی برفباری جارہی رہی۔ یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے کئی دن تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ سطح سمندر سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع علاقوں میں چار سے چھ فٹ تک برف جمع ہوگئی۔یہ بھاری برفباری ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔ کیونکہ مژھل، گریز، کنگن اور گلمرگ جیسے پہاڑی خطوں میں برفانی تودے گرنے کی وجہ سے قہر بپا ہوا تھا جس کے نتیجے میں تین کمسن بچوں سمیت 12 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔ درجنوں مویشی برف کے نیچے دب کر لقمہ اجل بن گئے تھے۔ کئی جگہوں پر کچے رہائشی مکانات، کوٹہار اور گاؤ خانے زمین بوس ہو کر رہ گئے تھے۔ سرحدی علاقوں میں برفانی قہر اور چٹانیں گرنے کے خدشے کی وجہ سے درجنوں کنبوں کو محفوظ مقامات کی طرف عارضی ہجرت کرنی پڑی تھی۔ غرض ہر سال کی طرح اس سال بھی چلہ کلان میں ہوئی برفباری آبادیوں کے لیے مصائب لے کر آئی تھی۔
سالِ نو میں ہوئی اس پہلی برفباری پر متاثرین نالاں اور عام لوگ خوش و خرم نظر آرہے ہیں۔ در اصل تمام تر مصائب کے باوجود چلہ کلان میں ہونے والی برفباری کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان ایام میں درجہ حرات نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے چلا جاتا ہے۔ اس لیے کوہستانوں پہاڑیوں اور چوٹیوں پر گرنے والی برف فوری طور پر منجمد ہوجاتی ہے۔ جب کہ گلیشئروں کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔ بعد ازاں موسم گرما میں اسی برفیلے پانی سے وادی کے آبشار، ندی نالے، جھیلیں اور دیگر آبی پناہ گاہیں ٹھنڈے اور شفاف پانی سے لبریز رہتی ہیں۔ یہی پانی، کشمیری آبادیوں کو پینے کے لیے سپلائی کیا جاتا ہے۔سخت ترین سردی پر محیط اس جاری مرحلے کو مقامی اصطلاح میں ’’چلہ کلاں ‘‘ پکارا جاتا ہے۔ در اصل صدیوں پہلے جب سردی یا گرمی کی شدت ناپنے اور موسموں کی پیش گوئی کا کوئی سائنٹفک نظام موجود نہیں تھا، کشمیریوں کے آبا و اجداد نے اس ہمالیائی خطے سرما کے تین ماہ کو سردی کی شدت کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کو چلہ کلاں، چلہ خورد اور چلہ بچہ کے نام سے موسوم کیا تھا۔ 21 دسمبر کی شب سے 31 جنوری تک کے چالیس دنوں پر محیط سخت ترین سردی کے ایام پر مشتمل مرحلے کو ’’چلہ کلاں ‘‘ پکارا جاتا ہے۔ 31 جنوری سے 19 فروری تک کے عرصے کو ’’چلہ خورد ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور سرما کے آخری ایام دس دنوں پر محیط جو 20 فروری سے 2 مارچ تک ہوتے ہیں۔ اس مرحلے کو ’’چلہ بچہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سردیوں کے یہ آخری ایام نسبتاً کم سردی والے ہوتے ہیں اور ان کے اختتام کے چند ہفتوں بعد ہی درختوں سے کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور کلیاں کھلنے لگتی ہیں۔
کسی کو نہیں معلوم کہ ان دنوں جاری سردی کے سخت ترین ایام پر مشتمل مرحلے کا نام ’’چلہ کلاں ‘‘ کیوں رکھا گیا ہے۔ تاہم بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ سردی کے مخصوص ایام کو کوئی نام دینے کی روایت ماضی میں کئی دوسری جگہوں پر بھی رہی ہے۔ بزرگ سماجی کارکن اور کشمیری زبان کے معروف شاعر ظریف احمد ظریف نے اس موضوع پر ’’دعوت‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت میں دلچسپ اور اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’’ایرانی روایت کے مطابق 21 دسمبر سے 31 جنوری تک کے چالیس روزہ مرحلے کو ’’شپ چہلہ ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایرانی روایات کے مطابق 21 دسمبر کی شب کو اس چالیس روزہ مرحلے کا استقبال کیا جاتا ہے اور اس رات کو ’’شب یلد‘‘ یعنی ’’پیدائش کی رات ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ سابق روس کے تسلط آزاد ہوئے خطے آذر بائیجان میں انہی چالیس دنوں پر مشتمل سردی کے مرحلے کو ’’چلہ گیجاسی‘‘ یعنی سخت سردی کے ایام پر مشتمل مرحلے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
جو بھی ہو بہرحال یہ بات ہر سال ثابت ہوجاتی ہے کہ صدیوں پہلے سردی کی شدت کے لحاظ سے کشمیریوں نے تین مرحلوں پر مشتمل ایام کی جو نشاندہی کی تھی وہ آج بھی درست ثابت ہو رہی ہے۔ چونکہ یہ ’’چلہ کلان ‘‘ ہے اسی لیے ان دنوں وادی میں ہڈیوں کو تھرتھرا دینے والی سردی محسوس کی جا رہی ہے۔ مکانوں کی برف پوش چھتوں کے کناروں پر یخ کی قلمیں لٹکی ہوئی نظر آتی ہیں اور عمومی طور پر رات کے دوران نل منجمد ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ پانی کی پائپیں جم جاتی ہیں۔ لوگ صبح بیدار ہوجانے کے بعد جمے ہوئے نلوں پر گرم پانی کا چھڑکاؤ کرکے ان کے اندر موجود برف کی سلیں پگھلا دیتے ہیں۔ چلہ کلاں کے دوران درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے چلا جاتا ہے۔ بالخصوص وادی کے بالائی علاقوں میں دورانِ شب درجہ حرارت منفی دس ڈگری سے بھی زیادہ نیچے چلا جاتا ہے۔ ایسے میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے اور پھر اگلے دن ان پر چلنا پھرنا بہت ہی دوبھر ہوجاتا ہے۔ بڑے بزرگ گھروں سے باہر نکل کر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں جبکہ نو عمر لڑکے جوشِ جوانی میں نہ صرف اس جمے ہوئے پانی پر پھسلن کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ صحنوں اور گلی کوچوں میں برف کے پتلے بناتے نظر آتے ہیں۔صحافی طارق علی میر نے ’’دعوت ‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ماضی میں وادی میں چلہ کلاں کے آغاز پر ایک خاص طرح کی خوشی منانے کی روایت رہی ہے۔ لوگ 20 اور 21 دسمبر کی درمیانی شب میں ایک خاص طرح کا کھانا پکاتے تھے۔ یہ خاص پکوان بطخ کا پکایا جاتا تھا۔‘‘ اب اس طرح کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ پہلے سرما کے ایام میں پوری وادی کا باقی دُنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جاتا تھا۔ تاہم اب سرینگر کو باقی دنیا سے ملانے والی تین سو کلو میٹر طویل سرینگر ۔ جموں شاہراہ پر برف ہٹانے اور یخ کی وجہ سے تباہ شدہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے بیکن کی افرادی قوت رات دن کام پر لگی رہتی ہے جس کی وجہ سے شاہراہ برفباری کے بعد چند دن سے زیادہ بند نہیں رہتی۔ تاہم کئی مقامات پر اس شاہراہ سے منسلک کچے پہاڑی سلسلے سے چٹانیں گرآنے کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے اس شاہراہ پر چلنے والی مسافر اور مال بردار گاڑیوں کو رُک رُک کر چلنا پڑتا ہے۔سردی کے یہ ایام اپنے ساتھ ایک اور مصیبت جو لے کر آتے ہیں وہ لوڈ شیڈنگ ہے۔ عمومی طور سے شہروں اور قصبوں میں چوبیس گھنٹوں میں پانچ چھ گھنٹے اور دیہات اور دور افتاد علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹوں تک بجلی کی سپلائی بند رہتی ہے۔ کیونکہ سردی کے ان ایام میں ایک تو جموں کشمیر میں بجلی کی پیداوار کم ہو جاتی ہے ثانیاً نارتھرن گریڈ سے بھی کم مقدار میں بجلی سپلائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات برفباری کے نتیجے میں برقی رو کی تاریں اور کھمبے گر پڑتے ہیں اور پھر ان کی مرمت کرنے میں متعلقہ محکمے کو کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔
صدیوں اور دہائیوں قبل جب کشمیر سرما کے دوران باقی دُنیا سے کٹ جاتا تھا تو غذائی اجناس کی شدید قلت ہوجاتی تھی۔ پرانے وقتوں کے لوگوں نے اس کا بھی ایک انوکھا علاج نکالا تھا۔ ظریف کا کہنا ہے ’’ہمارے بزرگ سردیاں شروع ہوتے ہی آلو، گاجر، مولی، شلجم اور اس قسم کی دیگر سبزیوں کو اپنے صحنوں میں مخصوص جگہوں پر زمین کے نیچے دبا کے رکھ دیتے تھے اور برفباری کے موسم میں جب کئی کئی فٹ برف گرتی تھی اور گھروں سے باہر نکلنا محال ہوتا تھا تو لوگ ان دبی ہوئی سبزیوں کو نکال کر استعمال میں لاتے تھ۔‘‘ لیکن اب اس طرح کی دقتیں ختم ہوچکی ہیں۔ کیونکہ اب نہ ہی اس مقدار برف گرتی ہے اور نہ ہی بازاروں میں سرما کے دوران اشیاء ضروریہ کی سپلائی کی کوئی قلت ہوتی ہے۔ اب وادی میں سردیوں کی وہ شدت نہیں ہوتی ہے جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ 1980ء کی دہائی میں سرینگر جیسے نشیبی علاقے میں میں کئی بار سرما کے دوران درجہ حرارت منفی 9 ڈگری تک اور بالائی علاقوں میں اس سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے 1980 کی دہائی میں ایک بار جیپ بھی چلائی تھی ۔سردی کے اِن ایام میں عمومی طور پر لوگ سست ہوجاتے ہیں اور غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ بالخصوص بڑے بزرگ گرم ملبوسات زیب تن کرکے کمبلوں وغیر میں دُبکے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ گھروں کے اندر سردی کی شدت سے بچنے کے لیے بھی کئی طرح کے انتظامات کئے جاتے ہیں۔ مکانوں کی کھڑیوں کو پالیتھین سے ڈھک لیا جاتا ہے اور دروازوں وغیرہ پر موٹے پردے لٹکائے جاتے ہیں۔ چونکہ کشمیر میں لوگوں کا میز کرسیوں کے بجائے زمین پر بیٹھنے کی رواج ہے ، اس لیے کمروں کے فرش کا بھی خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ شہر اور قصبوں سے باہر لوگوں کی اکثریت گھروں میں ہی گرم نمکین چائے کی چسکیاں لیتے اور کانگڑی سینکتے دکھائی دیتے ہیں۔
وادی میں کانگڑی کے استعمال کا رواج
چلہ کلاں اور کانگڑی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کشمیر میں کانگڑی کا استعمال جسے مقامی اصطلاح میں ’’کانگر‘‘ پکارا جاتا ہے کب شروع ہوا تھا۔ صدیوں پہلے جب سخت ترین سردی سے مقابلہ کرنے کے لیے دور حاضر جیسی سہولتیں میسر نہ تھیں، تو کشمیر میں کسی طرح سے کانگڑی متعارف ہوئی ہے۔ کانگڑی جسے مقامی اصطلاح میں ’’کانگر‘‘ کہا جاتا ہے، بنیادی طور پر دو چیزوں کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ پہلے چکنی مٹی یا گلی ظروف سے بنے قدح کو آگ پر سینک کر پختہ بنایا جاتا ہے اور پھر بید کے درختوں کی سوکھی ہوئی پتلی ٹہنیوں سے اس کے گرد نواح میں اس کا ڈھانچہ گُندا جاتا جاتا ہے۔ اور قدرے موٹی ٹہنیوں کا دستہ بُنا جاتا ہے۔ اس کے اندر سلگتے ہوئے انگارے یا سوکھے پتوں سے تیار کیا گیا کوئلہ اور راکھ ڈالی جاتی ہے۔ اس کی تپش سخت ترین سردی میں چند ہی منٹوں میں انسانی جسم کو مطلوبہ حرارت بہم پہنچاتی ہے۔کانگڑیوں کے کئی اقسام ہوتے ہیں، جن میں بعض اعلیٰ درجے کی مانی جاتی ہیں۔ خاص طور سے سسرال میں نئی نویلی دلہنوں کے لیے خصوصی کانگڑیاں یہ نفاست اور نزاکت کے ساتھ اور زیادہ بہتر مٹیرئل سے تیار کی جاتی ہیں۔ اسے عمومی طور پر کشمیریوں کے مخصوص سرمائی لباس فیرن کے اندر تپایا جاتا ہے ۔
پتہ نہیں یہ کشمیر میں کس طرح سے متعارف ہوئی ہے کیونکہ اس پر مورخین کا تضاد ہے۔ سرکردہ سماجی کارکن اور کشمیری زبان کے معروف شاعر ظریف احمد ظریف نے اس موضوع پر ’’دعوت‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’’ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ کانگڑی مغل دور میں کشمیر میں متعارف ہوئی ہے۔ لیکن اس کا تذکرہ 12 ویں صدی میں لکھی گئی کلہن کی راج ترنگنی میں بھی ملتا ہے اور معروف کشمیری ولی اللہ شیخ نور الدین نورانی ؒ ( 1377ء سے 1440ء) کے کلا م میں بھی۔‘‘ ظریف کے مطابق،’’بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگڑی اٹلی سے کشمیر آئی ہے کیونکہ اٹلی میں بھی ماضی میں گرمی کا انتظام کرنے کے لیے کانگڑی نما کوئی شئے ہوا کرتی تھی جسے وہاں کی اصطلاح میں سکل ڈنو کہا جاتا تھا۔‘‘
بہر حال اب وادی میں کانگڑی کے استعمال کا رواج بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اب لوگ گرمی کا انتظام کرنے کے لیے زیادہ ترسینٹرل ہیٹنگ سسٹم، الیکٹرک ہیٹرس، روم ہیٹرس، ہیٹ بلورس، الیکٹرک کمبل وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم دیہات اور مضافاتی علاقوں میں اب بھی کانگڑی کو ہی سردی سے نمٹنے کا ایک بہتر اور مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ماضی قریب تک وادی میں سالانہ بیس لاکھ نئی کانگڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وسطی کشمیر کے چرار شریف علاقے میں کانگڑیاں تیار کرنے والے ایک شخص عبدالاحد شیخ نے ’’دعوت ‘‘ کو بتایا ’’ کانگڑیاں گندنا ایک ایسا فن ہے جس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ فن کشمیر کے علاوہ کسی دوسری جگہ کے لوگ نہیں جانتے ہیں۔‘‘ شیخ نے بتایا کہ ’’ ماضی قریب تک کانگڑیاں بُننے والے ہنر مند طبقے سے جڑے ہزاروں لوگوں کے لیے یہ کام واحد ذریعہ معاش تھا اور وہ اس میں خوش و خرم تھے۔‘‘ کانگڑیاں گندنے کے کام کو وادی میں باضابطہ ایک صنعت کا درجہ حاصل رہا ہے اور آج بھی کئی سرکاری اسیکموں کو کانگڑیاں بنانے والوں کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ عمومی طور پر ایک نئی کانگڑی دو یا تین سیزن تک استعمال کی جاتی ہے۔ زیادہ استعمال کرنے کے نتیجے میں اس کی بنائی ڈھیلی پڑجاتی ہے۔ تاہم یہ تب تک قابلِ مرمت ہوتی ہے جب تک نہ اس کے اندر مٹی کا ظروف ٹوٹ نہیں جاتا۔ بازاروں میں فی کانگڑی کی قیمت ایک سو روپے سے پانچ سو روپے تک ہوتی ہے۔ کانگڑیوں کے استعمال کے رجحان میں کمی کی وجہ سے کانگڑیاں بنانے والے ہنر مندوں کی تعداد بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ شیخ کے مطابق ،’’ کانگڑیاں بُننے کے کام کے ساتھ خاندانی لحاظ سے جڑے لوگوں کی نئی نسل اب اس کام میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’آج کل کے بچے پڑھے لکھے ہیں۔ کمپیوٹر کا استعمال جانتے ہیں اس لیے وہ روز گار کے لیے اس آبائی پیشے کو اپنانا نہیں چاہتے ہیں اور ہم بھی انہیں ایسا کرنے کے لیے اصرارنہیں کرتے۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ آنے والے وقتوں میں شاید کئی دیگر روایتی اشیاء کی طرح کانگڑی کے استعمال کا چلن مکمل طور ختم ہوجائے گا اور یہ انوکھی شئے میوزیم کی زینت بن کر رہ جائے گی۔


