محمد اعجاز اختر

ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ

ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ لیکن کشمیر سے آرٹیکل 370 کے منسوخ کیے جانے اور شہریت ترمیمی بل کے قانونی شکل اختیار کرنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ بات زور پکڑ گئی ہے کہ بھارت اب سیکولر اسٹیٹ سے ہندو راشٹر کی طرف پیش قدمی کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ملک اب اکثریتی غلبے والے اسٹیٹ کے احساس کو جنم دے رہا ہے، جہاں اقلیت اور دلت آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک کو فروغ مل رہا ہے۔ کئی بڑے عالمی اخبارات و جرائد نے اس قانون کے خلاف اداریے لکھے ہیں، جن میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا ہے کہ بھارت اب ہندو راشٹر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اندرونی اور خارجی سطح پر شدید ردعمل اور سخت احتجاجی مظاہروں کو عالمی میڈیا میں زبردست کوریج مل رہا ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی شبیہ کو عالمی سطح پر کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی اخبارات کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہندوستان کے گودی میڈیا کے برعکس عالمی پریس اور الیکٹرانک میڈیا نے حالیہ قوانین کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے اور انہیں غیر آئینی اور معاشرے کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے بی جے پی حکومت کے حالیہ اقدامات کو جابرانہ اور پولس کی کارروائی کو ظالمانہ قرار دیا ہے۔ جبکہ مختلف ممالک کا ردعمل کچھ اس طرح رہا۔

ملائشیا:

تمام مسلم ممالک کے بیانات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ملائشیا کے 94 سالہ بزرگ وزیر اعظم نے سب سے سخت بیان دیا تھا۔ انہوں نے پہلے کشمیر کے مسئلے میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے اس پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ كوالا لمپور كے مسلم سمٹ میں شہریت ترمیمی ایکٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے جبکہ وه بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدامات کر رہا ہے۔ اگر ہم ملائشیا میں ایسا کریں گے تو مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہوگا۔ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی اور ہر کوئی اس سے متاثر ہوگا۔ اس قانون کی نہ تو ضرورت تھی نہ تو یہ صحیح ہے۔ یہ بیان اتنا تیکھا تھا کہ ہندوستانی دفتر خارجہ کو ملائشیائی سفارتخانے میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم مہاتر محمد کے بیان کو مسترد کرنا پڑا۔ اس کو صفائی دینے کی ضرورت پڑی کہ اس قانون کے اثرات کسی بھی شہری پر نہیں ہوں گے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اس طرح کا جواب کسی بھی ملک کے سفارت خانے میں تب دیا جاتا ہے جب حالات کافی بگڑ جاتے ہیں۔

ترکی، ایران اور کوالالمپور سمٹ:

ترکی، ایران اور عراق میں بھی سی اے اے کو لے کر سخت رد عمل دیکھا گیا۔ ترکی کا بیان آیا ہے کہ یہ قانون انسانیت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ ایران میں جگہ جگہ اس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ملائشیا میں پچھلے مہینے کوالا لمپور کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا جس میں ان ممالک کے علاوہ تقریبا 16 دیگر مسلم ممالک شامل ہوئے تھے جن کا مقصد عالمی سطح پر مسلم امت کے مفادات کے تحفظ پر کام کرنا اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کا حل نکالنا تھا۔ اس كانفرنس سے یہ خیال بھی ابھر کر سامنے آتا ہے کہ ان ممالک كا بھروسہ تیزی سے غیر فعال ہوتی اسلامی تعاون تنظیم پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کے علاوہ مسلم ممالک کے درمیان ایک اور نئی لیڈرشپ پیدا ہو سکتی ہے جو فعال اور اپنے فیصلوں کو جلد عملی جامہ پہنا سکتی ہو۔ جس كی طرف مہاتر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اشاره بھی کیا ہے۔ تقریباً ان سارے ممالک نے بھی اس قانون کو لے كر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کے اکثر مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ ہندوستانی آئین اور ہندوستانیوں پر حملہ ہے۔ اس سے ہندوستان کے امن و امان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان رد عملوں اور مظاہروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی ممالک سے تعلقات و معاملات کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ: 

امریکی وزارت خارجہ نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اس قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادھر بین الاقوامی مذہبی آزادی کی نگرانی کے ذمہ دار ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار بھی اس قانون کو لے کر فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم ہندوستان کے اداروں کا احترام کرتے ہیں لیكن سی اے اے کے مضمرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں بننے والے قانون کے بعد حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کا احترام اور قانون کے تحت سب کے ساتھ مساوی سلوک میں ہم دونوں جمہوریتوں کی قدر مشترک ہے۔ اس سے پہلے یو ایس آئی آر ایف نے راجیہ سبھا کی حمایت سے قبل مجوزہ قانون پر سب سے زیادہ تیکھا بیان دیا تھا کہ شہریت کے لیے مذہب کا استعمال کرنا مذہبی تکثریت کے بنیادی اصول کے خلاف ہوگا۔ یو ایس آئی آر ایف نے اس بل کو \"غلط سمت میں خطرناک موڑ\" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصول کو ٹھیس پہنچانے والا ہے۔ نیز کمیشن نے ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن کمیشن کے جواب میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس کے خدشات کو نہ تو درست قرار دیا ہے اور نہ ہی اس کی ضمانت دی ہے۔

اقوام متحدہ کا سخت بیان:

مودی حکومت کے لیے سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ رہی جب اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کے ترجمان جیری لارینس نے جینوا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم فکر مند ہیں کہ ہندوستان میں یہ نیا شہریت قانون بنیادی طور پر امتیاز پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ترمیم شدہ قانون آئین ہند میں قانون کی نظر میں سب کے مساوی ہونے کے یقین دہانی کے منافی ہے۔ ساتھ ہی یہ قانون شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق گلوبل کنوینینٹ اور اس نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کنونشن کے بھی منافی ہے۔ ہندوستان اس کا رکن ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری بھی سی اے اے کو لے کر فکر مند نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بھی اس قانون کو انسانی بنیادی حقوق كے خلاف قرار دیا ہے۔

عرب مسلم ممالک:

23 دسمبر کو او آئی سی کے سی اے اے پر شدید ردعمل كو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ او آئی سی نے ہندوستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کو متاثر کرنے والے حالیہ اقدامات کا باریکی سے معائنہ کر رہی ہے۔تنظیم نے مودی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کی حفاظت اور ان کے مذہبی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور پورے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس طرح کا بیان مودی حکومت کے لیے جھٹکے پر ایک اور جھٹکے سے کم نہیں تھا۔ جبکہ وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریروں كے دوران مسلم ممالک سے اپنی دوستی کے قصیدے پڑھ پڑھ کر کانگریس کو طنز کیا تھا۔ اس لیے اب ان ممالک کی طرف سے مودی حکومت کو خبردار کیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اگر او آئی سی کے بارے میں اس عام نظریے كو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ ادارہ سوائے اجلاس کے اور کچھ نہیں کرتا اور یہ ایسا بادل ہے جو گرجتا ہے لیکن برستا نہیں، پھر بھی پچھلے کچھ سالوں سے او آئی سی كے کچھ ممبران کی کوشش رہی ہے کہ تنظیم کو فعال اور سرگرم بنایا جائے۔ ایسے میں تنظیم کا اس قانون کو لے کر ہندوستان کو خبردار کرنا ایک تشویش کی بات ہے۔ اگر یہ تنظیم ہندوستان کے خلاف کوئی قدم اٹھا لے تو ہندوستان معاشی بحران کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

یوروپی یونین:

یوروپی یونین نے بھی قانون بننے سے پہلے، سی اے بی اور کشمیر کے مسئلے پر اپنی فکر مندی ظاہر كی تھی۔ یوروپی یونین کے مندوب نے کہا تھا کہ کشمیر میں تحریک کی آزادی اور معمول کی بحالی ضروری ہے۔ یونین نے یہ بھی امید ظاہر کی تھی کہ ہندوستانی آئین کے اصولِ مساوات کو اس مجوزہ قانون میں برقرار رکھا جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ دستورِ ہند بغیر کسی امتیاز کے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ یونین کے ان بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ بلا واسطہ اس بات کی امید رکھتی ہے کہ مودی سرکار اس بل كو دستورِ ہند کے مساوات کے بنیادی اصول کے مطابق پاس کرے گی اور کسی بھی مذہب کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتے گی۔

پڑوسی ممالک:

جہاں تک چین کی بات ہے تو وہ کشمیر کے مسئلے میں کھلے عام پاکستان کے ساتھ گیا تھا۔ یونائیٹڈ نیشنس سیکورٹی کونسل میں ۵۰ سالوں کے بعد اس مسئلے پر بحث ہوئی تھی۔ سیکورٹی کونسل میں پاکستان کی جانب سے چین کی تجویز پر مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی تھی۔ یہ بحث اپنے آپ میں اہم تھی اور ہندوستان کے لیے باعث تشویش بھی تھی، جس سے ہندوستان کی شبیہ کو لے کر ایک بڑا سوال کھڑا ہوگیا تھا۔ چین اور پاکستان کو مودی حکومت کا حریف تصور کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک مودی حکومت کے ایسے مواقع اور معاملات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مودی حکومت بھی کہیں نہ کہیں اپنے پڑوسی ممالک سے آپسی تعلقات کو بہتر بنانے میں ناکام سمجھی جا رہی ہے۔ اگر پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو ملک کو بیرونی خطرات سے نمٹنے میں آسانی ہوگی اور اندرونی طور پر امن قائم ہوگا اور معیشت کو تقویت ملے گی۔ اس قانون پر بیرونی و پڑوسی ممالک کے رد عمل سے کہیں نہ کہیں عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو ٹھیس پہنچ رہی ہے جس سے ملک کے اندر بھی منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ ملک پہلے ہی سے مشکل حالات سے گزر رہا ہے، معیشت گھٹ رہی ہے اور ٹورزم صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں سے اب تک اربوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ ایسے میں اسلامی تعاون تنظیم كے سخت بیان کو نظر انداز کرنا نادانی ہوگی۔ اگر کسی ملک نے کوئی پابندی لگا دی تو ملک کی معیشت اور بگڑ سکتی ہے اور مودی حکومت کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، جبکہ ہندوستان کے برانڈ پاور اور سوفٹ پاور میں ویسے بھی کمزوری آ رہی ہے۔


امریکہ اور طالبان کے درمیان بہت جلد

امن معاہدے کے اشارے

(دعوت نیوز ڈیسک) اس ماہ کے اختتام تک طالبان اور امریکہ کے درمیان امن کا معاہدہ ہوسکتا ہے۔ طالبان نے حال ہی میں جنگ بندی کی پیش کش کرتے ہوئے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معادہ کتنا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے محدود جنگ بندی کی پیشکش کی ہے اور یہ کہ وہ اپنے عسکری آپریشن میں کمی لانے کے بھی تیار ہیں۔ طالبان کی جانب سے امن معاہدے کی ابھی کوئی تاریخ طئے نہیں ہوئی ہے لیکن اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ بہت جلد اس پر کوئی حتمی فیصلہ آسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ دو اہم بنیادوں پر کھڑا ہے۔

ایک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا اور دوسری طالبان کی جانب سے جہادیوں کو محفوظ پناہ نہ دینے کی ضمانت ہے۔ یہ واضح نہیں کہ معاہدے کے بعد ساری امریکی فوج افغان سرزمین سے لوٹ جائے گی یا نہیں کیونکہ گزشتہ سال امریکہ کی جانب سے یہ بیان آیا تھا کہ افغانستان میں کچھ امریکی فوجی تعینات رہیں گے۔ اس معاہدے کے بعد امید ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ طالبان اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ افغانستان کی حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی ہے تو اس سے بات چیت کرکے کوئی فائدہ نہیں ہے۔

گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں طالبان اور امریکہ امن معاہدہ کے قریب ہی تھے کہ اچانک طالبان کے حملے میں ایک امریکی فوجی کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت کو معطل کر دیا تھا۔ امریکہ۔طالبان بات چیت میں اہم رول ادا کر رہے پاکستان کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے کے بعد بھی چیلنجز موجود ہوں گے۔ اس لیے معاہدے کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان کی تعمیر نو کے لیے کردار جاری رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے امریکہ اور پاکستان کا اکٹھا ہونا ایک اچھا موقع پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔