ابونصر فاروق زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ہوش مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران:۱۹۰) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہو کر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔……(یونس:۳)…… ملائکہ اور روح اُس (خدا) کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار (تمہارے حساب سے) پچاس ہزار سال ہے۔(معارج:۳/۴) مذکورہ آیات سے تین باتیں معلوم ہوئیں۔ آسمان و زمین اور رات دن کی پیدائش میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور آسمانی دنیا کا ایک دن زمینی دنیا کے پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی گردش سے موسم بدلتے ہیں اور رات اور دن کی گردش سے حالات بدلتے ہیں۔ موجودہ سائنس کی زبان میں ہم اس بات کو یوں کہہ اور سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن وقت اور فضا کا نظریہ (Time and Space Theory) اپنے پڑھنے والوں کو سمجھا رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہہ رہا ہے کہ جو لوگ موسم اور وقت کے بدلنے کے اسباب پر غور و فکر کرتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہی عقل مند لوگ ہیں۔ جو غور و فکر کرنے، عالم اسباب کے حقائق اور تکنیک کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے وہ عقل سے محروم ایسے لوگ ہیں جو جانور کی طرح ہیں جن کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور عیش کرنا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جو لوگ حیات اور کائنات کی حقیقت پر غور و فکر کرتے ہیں وہی ان کی باریکیوں کو سمجھ کر دنیا کو سمجھاتے ہیں اور ایسے ہی لوگ نظریہ ساز، فلسفی، مفکر، مدبر، دور اندیش اور عقل و ہوش والے مانے جاتے ہیں اور ایک دنیا ایسے لوگوں کے پیچھے چلتی ہے۔ اس آیت کے تناظر میں قارئین کو اس وقت یہ حقیقت سمجھانی مقصود ہے کہ جنگل میں دو قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ایک کو چرندہ کہتے ہیں یعنی سبزیاں کھانے والے اور دوسرے سبزیاں کھانے والوں کو کھانے والے یعنی درندے۔ اسی طرح پرندوں میں بھی دو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ پرندے سبزیاں کھاتے ہیں اور کچھ پرندے اپنے جیسے پرندوں کا شکار کر کے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ سمندر میں بھی بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی ہیں۔ گھڑیال کی غذا بھی مچھلیاں ہی ہوتی ہیں۔ان امور پر کوئی آدمی غور و فکر کرے تو مادی دنیا کا اصول یہ بتاتا ہے کہ سبزی خور چرندوں، پرندوں اور چھوٹی مچھلیوں کی تعداد کم ہوتے ہوئے بالکل ختم ہو جانی چاہیے۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ جنگلوں سے شیروں، چیتوں، بھیڑیوں اور لکڑ بگھوں کی نسل ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن مویشیوں کی تعداد کم نہیں ہو رہی ہے۔ آسمانوں میں اب چیل، باز اور کوے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں مرغیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جن کے بچے چیل اور کوؤں کی غذا بنا کرتے ہیں۔ سمندر میں ان چھوٹی مچھلیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جنہیں انسان کھاتے ہیں اور گھڑیال اور ایسی نسل کی مچھلیاں کم ہوتی جارہی ہیں جو مچھلیوں کو کھاکر اپنا پیٹ بھرتی ہیں۔ انسانوں میں بھی دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک سیدھے، نیک اور محنت و مشقت کرنے والے لوگ جو اپنی حلال روزی کماتے ہیں اور دوسرے وہ چالاک و عیار لوگ جونیک سادہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر اُن کی حلال کمائی کو ناجائز طریقے سے چرا لیتے یا چھین لیتے ہیں یا ہڑپ کر جاتے ہیں۔ یہ ظالم لوگ اپنے ظلم سے اپنے جیسے انسانوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی دنیا کی صورت حال کے برخلاف انسانی دنیا کا معاملہ الگ ہے۔ یہاں نیک، سیدھے اور سچے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں اور ظالم، عیار اور مکار لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ جس طرح دنیا والے جانوروں اور پرندوں کی ختم ہوتی ہوئی نسل کی پیداوار بڑھانے کی کوشش اور تدبیر میں لگے ہوئے ہیں اُسی طرح نیک، سچے اور سادہ لوگوں کا فرض ہے کہ ظالم، عیار اور مکار لوگوں کی جگہ نیک، سچے اور سادہ لوگوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ دنیا کو اور انسانی سماج کو انسانیت کے یہ بھیڑیے تباہ و برباد نہ کرسکیں۔ ایسا تب ہی ہوگا جب عقل مند لوگ برائی کے راستے کو چھوڑ کر نیکی کے راستوں کو اپنائیں گے، ایسے نیک بنیں گے کہ دوسرے نیک بننے کی خواہش رکھنے والوں کو اُنہیں دیکھ کر سہارا اور حوصلہ ملے۔ حالات کے بگڑنے سے ہمت ہارنے اور برائی کی راہ پر چلنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے نیکی کی راہ پر چلنا ہے اور سچائی، خیر خواہی اور نیکی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ ایسے عقل مند لوگ صرف وہی ہو سکتے ہیں جو اللہ کی کتاب کو غور و فکر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ کی کتاب کی روشنی میں حالات کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فی زمانہ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے جو قرآن کا علم رکھتے ہیں اور قرآن کے احکام کی روشنی میں حیات اور کائنات کی حقیقت و صداقت لوگوں کو سمجھانے اور بتانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے اُن کے بہترین لوگ ہونے کی سند حضرت محمدﷺ نے دی ہے۔ تم میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کریں اور وہ علم دوسروں میں تقسیم کریں۔(بخاری) یہی بات علامہ اقبالؒ نے بھی اس شعر میں کہی ہے. وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر