فرزانہ صدیقی
اچھی اور متوازن غذا آپ کو تندرست و توانا رکھتی ہے جس کی بدولت بڑھتی عمر کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں نہیں ہوتے۔ جسم کو ہر دور میں پروٹین ‘ وٹامن ‘ معدنیات ‘ کاربوہائیڈریٹ اور تھوڑی بہت چربی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ ان تمام چیزوں کو اپنی غذا کا حصہ بناتی ہیں تو پھر آپ کو بڑھتی عمر سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ متوازن غذا ہی جسم کو طاقت دیتی ہے جس سے ہم جسمانی چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کی غذا متوازن نہیں ہے تو آپ کی جسمانی کار کردگی متاثر ہو سکتی ہے ۔ ہر انسان کو اپنی جسمانی ضروریات سے آگاہی ہونی چاہیے کیونکہ ہرکسی کی جسمانی ضرورت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا تعلق آپ کی عمر سے بھی ہے۔ ایک غذائی ماہر کے مطابق جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے آپ کے جسم کو کم کیلو ریز کی ضرورت ہوتی ہے ۔اصل میں خواتین بڑی عمر میں بہت سے پیچیدہ مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں۔ بڑی عمر یا بڑھاپے میں یہ بات قابل غور ہوتی ہے کہ مطلوبہ غذائیت سے کم کیلوریز کس طرح حاصل کی جائے۔ اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنی غذا کے انتخاب میں احتیاط برتیں۔ ایسی غذائیں کھائیں جس سے کیلوریز کم حاصل ہوں مگر وہ متوازن غذا ہو۔ بڑھاپے میں زیادہ کھانے سے بھی پرہیز کریں۔ بقول برطانوی غذائی ماہر عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ جسم سکڑنے لگتا ہے اور عملِ استحالہ (میٹابولزم) بھی سست پڑجاتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے دوران یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ بڑھتی عمر کے ہر دس سال بعد توانائی کی ضرورت میں دو فیصد کمی واقع ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک بیس سالہ خاتون کو روزانہ 2500 غذائی کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے تو ساٹھ سال کی عمر میں ہر دس سال کے بعد دو فیصد کمی واقع ہوگی اس کے مطابق اس عمر میں اس کو 2306 کیلوریز کی ضرورت ہوگی مگر شرط یہ ہے کہ وہ ساٹھ سال کی عمر میں بھی جسمانی طور پر فعال و متحرک ہو۔ عام طور پر خواتین چالیس سال کی عمر میں تندرست و توانا اور چاق و چوبند ہوتی ہیں۔ لیکن چالیس سال کے بعد بڑھتی عمر کے اثرات جسمانی نظام کو متاثر کرنے لگتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے ورزش اور کام کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر ورزش اور کام کرنا چھوڑ دیں گی تو وہ موٹاپے کا شکار ہوجائیں گی، ہر عمر میں جسم کو پروٹین کی یکساں ضرورت رہتی ہے۔ انسانی جسم کو روزانہ پانچ سے سات اونس گوشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو خواتین گوشت کو پسند نہیں کرتیں یا ایسی خواتین جن کے دانت نہ ہوں یا کمزور ہوں وہ گوشت کے متبادل کے طور پر ایک پیالی پکی ہوئی پھلیاں کھاسکتی ہیں۔ یہ مشورہ ان خواتین کے لیے بھی ہے جن کو دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء ہضم نہیں ہوتیں۔ وہ اس کے ذریعے پروٹین کی ضرورت پوری کرسکتی ہیں۔ دودھ کیلشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ‘ یہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اوراس کو ایک مکمل غذا بھی کہا جاتا ہے ۔خواتین کو عمر کے ہر دور میں اضافی کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے‘ 25 سے 65 سال تک کی خواتین کو روزانہ ایک ہزار ملی گرام کیلشیم درکار ہوتی ہے اور یہ ضرورت پوری کرنے کے لیے روزانہ تین سے چار پیالی دودھ پینا چاہیے۔ کیلشیم حاصل کرنے کے دوسرے ذرائع اناج‘ ہرے پتوں والی سبزیاں اور اورنج جوس ہیں۔ ان کے استعمال سے کیلشیم حاصل ہوتا ہے۔ متوازن غذا کے ساتھ ساتھ ورزش کو روز کا معمول بنالیں۔ اپنے فیملی ڈاکٹر سے اپنی عمر کے مطابق غذا کا مشورہ کرتی رہیں تو آپ بڑھاپے میں بھی تندرست و توانا رہ سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ چہرہ عمر کی عکاسی کرتا ہے۔ چہرے کی تر و تازگی کے لیے متوازن غذا اور ورزش بہت ضروری ہے۔ ان دونوں چیزوں پر سختی سے عمل کریں تو آپ عمر کے ہرحصے میں نہ صرف چاق و چوبند نظر آئیں گی بلکہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گی۔


