مومن فہیم احمدعبدالباری بھیونڈی
بارہویں اور دسویں کے نتائج عنقریب آنے والے ہیں۔ شعبہ سائنس سے بارہویں کرنے والے طلبہ نے انجینئرنگ کے لیے جے ای ای یا پھر ریاست مہاراشٹر کا سی ای ٹی کا امتحان دیا ہوگا اور یقیناً ان کے ذہن میں شعبہ انجینئرنگ میں کرئیر بنانے کا منصوبہ ہوگا۔ دسویں کے وہ طلبہ جو انجینئرنگ میں جانے کے خواہشمند ہیں وہ بھی دسویں کے بعد ڈپلوما ان انجینئرنگ کورسیس کے ذریعے انجینئرنگ میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔ عموماً ابتدائی مرحلے میں ہمارے طلبہ انجینئرنگ کی چند اہم اور معروف شاخوں کے بارے ہی میں جانتے ہیں اور زیادہ تر کی کوشش بھی یہی رہتی ہے کہ وہ میکانیکل، الیکٹرونکس، سول، کمپیوٹرس وغیرہ شعبوں میں داخلہ لیں۔ مزید زیادہ تر انجینئرنگ کالجس میں انہی شعبوں کی تعلیم و تربیت کا نظم ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ انجینئرنگ ایک وسیع شعبہ ہے اور ان روایتی کورسیس سے ہٹ کر ایسے کورسیس کی طرف راغب ہونا ضروری ہے جن کی مانگ بڑھتی جارہی ہے اور آئندہ بھی اس میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔
فوڈ ٹیکنالوجی یا فوڈ پروسیسنگ صنعت کا تعارف:
بنیادی طور پر فوڈ ٹیکنالوجی طبیعاتی، کیمیائی اور مائکرو بائیلوجیکل پروسیس اور تکنیکوں پر مشتمل ہوتی ہے جس کے ذریعے خام غذائی اشیاء کو نیم تیار اور حتمی غذائی اشیاء میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ نیم تیار غذائی اشیاء وہ ہوتی ہیں جنھیں مختصر وقفے میں بآسانی پکایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر میگی وغیرہ۔ مختلف ذراعتی پیداوار گوشت، دودھ وغیرہ سے تیار کی جانے والی روزانہ کے استعمال کی اشیاء مثلاً گیہوں اور چاول سے تیار شدہ آٹا، دودھ سے تیار مکھن، پنیر اور چیز وغیرہ، اچار، جیلی، ڈرائی فروٹس اور دیگر غذائی اشیاء جو عموماً ڈبہ بند غذائوں کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں انھیں فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ان صنعتوں میں ڈیری پروڈکٹس (دودھ سے تیار ہونے والی اشیاء)، میٹ پروڈکٹس (گوشت سے تیار ہونے والی اشیاء)، فشیری پروڈکٹس (مچھلیوں سے تیار اشیاء) وغیرہ شامل ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ صنعتوں کے ذریعے اشیاء کی پیداوار، استعمال (صَرف) اور برآمد کے معاملے میں ہندوستان دنیا کا پانچویں نمبر کا ملک ہے جبکہ ملک کے مجموعی بازار (مارکیٹ) میں بتیس فیصد اسی صنعت کا حصہ ہے۔ ان اعداد و شمار سے ہمارے ملک میں اس صنعت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ نیسلے، کسان، مدرس ڈیری، بریٹانیہ، پارلے ایگرو، امول وغیرہ چند اہم ہندوستانی کمپنیاں ہیں جو فوڈ پروسیسنگ صنعتوں سے وابستہ ہیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے تیار کی گئی اشیاء بسکٹ، چاکلیٹ، چپس، سافٹ ڈرنکس، مکھن، چیز اور دیگر روزانہ کے استعمال کی اشیاء شامل ہوتی ہیں انھیں ایف ایم سی جی (فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس) کہا جاتا ہے کیونکہ ان اشیاء کی مانگ اور کھپت روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
کورس کے خد و خال:
فوڈ پروسیسنگ انجینئرنگ کا وہ شعبہ ہے جہاں بارہویں (سائنس) کے بعد داخلہ لیا جاسکتا ہے۔ بارہویں میں فزکس، کیمسٹری، میتھس و بائیلوجی مضامین لازمی ہیں مختلف ریاستوں میں ان کورسیس کے لیے پچاس فیصد مارکس کی قید ہوتی ہے یا پھر اہلیتی امتحانات کی بنا پر داخلے دیے جاتے ہیں۔ چار سال پر مشتمل یہ کورس بی ای (بیچلر ان انجینئرنگ) یا بی ٹیک (بیچلر ان ٹیکنالوجی) ان فود پروسیسنگ یا فوڈ ٹیکنالوجی کہلاتا ہے۔ ڈگری مکمل کرنے کے بعد طلبہ اس شعبے میں ماسٹرس اور ریسرچ میں بھی جاسکتے ہیں۔ ماسٹرس کورس میں داخلے کے لیے بی ای یا بی ٹیک کامیاب امیدوار کو مختلف مرکزی، ریاستی یا نجی یونیورسٹی کے اہلیتی امتحان میں شرکت کرنا ہوتی ہے۔ فوڈ ٹیکنالوجی کا اسکوپ: ایک آرگینک کیمسٹ کے طور پر فوڈ ٹیکنولوجسٹ خام اشیاء کو پروسیس شدہ غذا میں کیسے تبدیل کیا جائے اس کا مشورہ دیتا ہے۔ ٭ ایک بائیو کیمسٹ کے طور پر وہ غذا کا ذائقہ، معیار، ساخت بڑھانے اور ذخیرہ کے بہتر اقدامات کے مشورے دیتا ہے۔ ٭ ایک داخلی تجزیہ کار کے طور پر وہ غذا و تغذیہ کے ماہر اور کھانے کی جانچ کے ذمہ دار کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ ٭ ایک انجینئر کے طور پر وہ پروسیسنگ نظام کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، اس میں بہتری اور اس کے رکھ رکھاؤ کے اقدامات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ٭ ایک تحقیقی سائنٹسٹ کے طور پر وہ ان ڈبہ بند غذاؤں سے توانائی، ذائقہ اور ان کی عمومی قبولیت کی جانچ اور تحقیق کرتا ہے۔ ٭ ایک منیجر کے طور پر وہ حساب کتاب اور نظم و نسق کے معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ نصابی مضامین: فوڈ ٹیکنالوجی کورس میں بنیادی طور پر مختلف غذائی اشیاء کی تیاری، ان کی حفاظت کے طریقے، طویل عرصے تک خراب ہونے سے بچانے کی تراکیب، کیمیائی و حیاتیاتی پروسیسنگ وغیر شامل ہوتی ہے۔ یہ مضامین فوڈ پروسیسنگ کے بنیادی عوامل ، بیکری و کنفیکشنری پروڈکٹس، غذاکا تجزیہ، حفظان صحت کے اصول و ضوابط، غذا کی باریک بینی سے جانچ (فوڈ مائکرو بائیلوجی)، دودھ (مِلک) پروسیسنگ، دودھ سے تیار خشک غذائیں، فوڈ کیمسٹری (غذا میں کیمیائی اجزاء ) غذا سے متعلق رہنما اصول و قوانین اور معیار کو یقینی بنانا (کوالیٹی ایشورنس)، وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کورس کی نوعیت و فیس: بی ای /بی ٹیک ان فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی بارہویں کے بعد چار سال کا ایک کل وقتی (ریگولر) کورس ہے۔ ہر سال دو سیمسٹرس ہوتے ہیں۔ طالبعلم کا بارہویں میں فزکس، کیمسٹری اور میتھس کے مضامین ہونا لازمی ہے۔ ساتھ ہی انجینئرنگ میں داخلے کے لیے قوی سطح کے امتحان JEE یا پھر ریاستی اہلیتی امتحان میں کامیابی ضروری ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے امیدوار MH-CET میں شرکت کے ذریعے اس کورس میں داخلے کے اہل ہوں گے۔ یوں تو اس کورس کی فیس اداروں کی بنیاد پر الگ الگ ہوتی ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق سالانہ ٹیوشن فیس پچاس ہزار سے لے کر کئی لاکھ کے درمیان ہوسکتی ہے۔ داخلے لینے سے قبل کالج کی ویب سائٹ یا پراسپیکٹس سے فیس کی مکمل معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے چند اہم کالیجیس: ٭ ایم آئی ٹی کالج آ ف فوڈ ٹیکنالوجی، پونے(فیس ایک لاکھ ساٹھ ہزار سالانہ،اہلیت ایم ایچ سی ای ٹی) ٭لکشمی نارائن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ناگپور ٭شیواجی یونیورسٹی،کولہا پور ٭نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی ، انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی، جلگاؤں ٭ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد ٭ڈی وائی پاٹل یونیورسٹی نوی ممبئی ٭وسنت رائو نائک مراٹھواڑہ کرشی ودیا پیٹھ ، پر بھنی
٭ مہاراشٹر انیمل و فشیری سائنس یونیورسٹی، ناگپور۔
قومی سطح کے دیگر یونیورسٹیاں اور ادارے:
کرونیا یونیورسٹی (کوئمبٹور)، ایم ایس یونیورسٹی (بروڈا گجرات)، سینٹرل فوڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (میسور)، نیشن ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (کرنال)، ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (چینائی)، یونیورسٹی آف دہلی،آنند ایگریکلچرل یونیورسٹی (آنند گجرات)، یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسیس(دھارواڑ کرناٹک)، جی بی پنت یونیورسٹی آف ایگریکلچرل اینڈ ٹیکنالوجی، پنت نگر، آئی آئی ٹی (کھرگ پور)۔
بھارت میں فوڈ پروسیسنگ صنعت تیز رفتاری سے ترقی کررہی ہے پورے ملک میں لاکھوں افراد پروسیسڈ فوڈ کا استعمال کررہے ہیں۔ اس شعبہ میں کرئیر بنانے کے خواہشمند امیدوار وں کے لیے روزگار کے بھر پور مواقع ہیں اور ان صنعتوں میں کوالیٹی کنٹرول ایکزیکیٹیو، پروڈکشن منیجر، پروڈکٹ ڈیویلپمنٹ ایکزیکیٹیو کے طور پر ابتدائی تنخواہ کا سالانہ پیکیج دو سے چار لاکھ کے درمیان ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بڑی کمپنیوں میں کام کرنے سے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ شعبہ انجینئرنگ میں کرئیر بنانے کے خواہشمند طلبہ کو اس سمت میں بھی پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔
(مضمون نگار لکچرر ہیں اور کیرئیر کے کالم لکھتے ہیں)


