رگھو رام راجن
گزشتہ کچھ دنوں سے ہندوستان سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک اور حیرت زدہ کر دینے والی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی معروف اور ممتاز دانش گاہوں میں سے ایک جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چند نقاب پوش غنڈوں کا ایک گروہ داخل ہوتا ہے اور یونیورسٹی کے احاطہ میں کئی گھنٹے تک شر انگیز ی کرتا ہے، نہتے طلبا اور کچھ اساتذہ کی لاٹھیوں، ڈنڈوں اور لوہے کی راڈ سے پٹائی کرتا ہے، جس سے ہاسٹل کے اندر افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ ورطہ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ موجودہ زود رس ترسیلی نظام کے دور میں جبکہ طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مار کاٹ اور ان پر ہونے والے جان لیوا حملوں کی یہ خبر دہلی ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے، مگر وہاں قریب ہی موجود دہلی پولیس کو اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہوتی۔ نتیجہ کار دہلی پولیس ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں کر پائی ہے۔ یہ واضح ہے کہ حملہ کرنے والوں میں بہت سے لوگ ایک مخصوص تنظیم کے کارکن تھے اور کچھ اے بی وی پی کے لوگ بھی اس حملے میں شریک تھے، لیکن اس کو روکنے یا اس کے خلاف کارروائی کرنے میں ابھی تک نہ تو حکومت اور نہ ہی دہلی پولیس نے کوئی قدم اٹھایا ہے۔ یہ سب ملک کے اس دارالحکومت میں ہوا ہے جہاں ہر شخص ہائی الرٹ پر رہتا ہے اور اسی قومی دارلحکومت کے درمیان واقع ملک کی چند یونیورسٹیاں میدان جنگ بن جاتی ہیں تو اس میں شامل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنے یا ان کی شر انگیزیوں پر باز پرس کرنے کے بجائے حکومت حزب اختلاف کو لعنت ملامت کرنے اور ان شرمناک حرکتوں کے لیے انہی کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتی ہے۔ یہ سب دیکھ کر جمہوریت کے لیے فکر مند طبقہ حیرت زدہ ہو رہا ہے۔
اگر نئی دہائی اور نفرت زدہ ماحول میں بھی ہمارے اندر اتنی ہمت باقی ہے کہ اس دستور کی حفاظت کے لیے تمام فاصلے مٹا کر ہم بہ یک آواز سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوجائیں تو اس سے بہتر کوئی دوسرا ایجنڈا ہو ہی نہیں سکتا۔
بہر حال یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ قیادت کو موردِ الزام ٹھہرانا بہت آسان ہے، لیکن ہماری جیسی عظیم اور تاریخی جمہوریت میں عام لوگوں کو بھی اپنااحتساب کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ شہری ہیں جنہوں نے برسر اقتدار قوتوں کو اپنے ووٹوں کے ذریعے قیادت کی ذمہ داری دی ہے اور خاموشی سے ان کے نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والے ایجنڈے کو قبول کیا ہے۔ قیادت میں شامل طبقے نے ہماری خاموشی کو ہماری تائید تصور کرلیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ اقتدار کے منصب پر فائز ہونے کے بعد وہ معاشی محاذ پر توجہ دیں گے۔ ہم میں کے بہت سے لوگوں نے ان کی خوش کن اور جذبات کو تسکین فراہم کرنے والی تقاریر سے اتفاق کیا ہے، جس نے ہمارے اندر پائے جانے والے نفرت و تعصب کے زہرکو اور زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ حالاں کہ ہم میں کے بہت سے لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ انہیں لگا کہ سیاست کسی اور کا مسئلہ ہے اس سے ان کی ذات اور زندگی قطعی متاثر نہیں ہوگی۔ اسی غفلت نے نفرت میں شرابور عناصر کی بد زبانیوں کو مزید حوصلہ بخشا، نتیجہ یہ ہواکہ ہم میں سے بیشتر لوگ ان کے یکجہتی مخالف اور نفرت کے شعلوں کو ہوا دینے والے ایجنڈوں پر تنقید کرنے سے ڈرنے لگے، ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ اور بھی ہے، جسے ساری دنیا نے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کیوں کہ برسر اقتدار قوتوں کی حرکتوں پر تنقید اور انگشت نمائی کرنے والوں کا ماضی قریب میں کیا حشر کیا گیا وہ کسی پر بھی مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ تنقید کرنے والوں کی زباں بندی کے لیے موجودہ قیادت نے جو سیاہ کارنامے انجام دیے ہیں وہ ملک کی تاریخ میں ایک مثال کی شکل میں محفوظ ہوگئے ہیں۔ جمہوریت صرف ہمارا حق ہی نہیں ہے، بلکہ اس کو بچائے رکھنا اور ہمیشہ اس کے حفاظت کی فکر کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ اپنی جمہوریت کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری صرف انتخابات کے دن کے لیے مخصوص نہیں ہے کہ ووٹ دے کر لوٹنے کے بعد خاموشی سے بیٹھ جایا جائے، بلکہ اپنی جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ مستعد و چوکس رہنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
خوشی قسمتی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس دوران ہندوستان سے کچھ حوصلہ افزا خبریں بھی آ رہی ہیں۔ جب مختلف مذاہب کے نوجوان ایک ساتھ مارچ کرتے ہیں اور ہندو مسلم کے تمام فاصلے مٹاکر ترنگے کے پیچھے کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہیں تو اسے دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے اور خوشگوار مستقبل کی امیدیں روشن ہوجاتی ہیں۔ اس دوران سیاستدانوں نے اپنے مفاد کے لیے پیدا کردہ نفرت کی خلیج کو مزید بڑھانے کی مقدور بھر کوششیں کیں، مگر ان نوجوانوں نے انہیں کہیں بھی ٹکنے کا موقع نہیں دیا۔ جب یہ حالات ہماری آ نکھوں کے سامنے آتے ہیں تو یقین ہونے لگتا ہے کہ ہمارے اندر آئین کی روح ابھی زندہ ہے۔ جب بیورو کریسی میں شامل افسران اپنے حسین خوابوں کی بڑی بڑی نوکریاں اور منصب کو یہ کہہ کر ٹھوکر مار دیتے ہیں کہ جمہوریت کو تہ و بالا کر دینے والے موجودہ ماحول میں وہ اپنا کام ایمانداری کے ساتھ نہیں کرسکیں گے تو ان کا یہ عمل ہمیں ہمارے آبا و اجداد کی یاد دلاتے ہیں جنھوں نے آزادی کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا اور بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ جب ایک الیکشن کمشنر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حکومت کے ناروا سلوک اور ظلم و ستم روا رکھنے کے باوجود غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے تو یہ امید اور زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے کہ ایمانداری اور دیانت ابھی ہماری مٹی سے ختم نہیں ہوئی ہے۔ جب کچھ میڈیا والے حکومتِ وقت کے سامنے اپنے زیادہ تر ساتھیوں کے سر جھکا لینے کے بعد بھی حقیقت کو سامنے لانے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر تکلیف کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہیں تو وہ اپنے عمل سے جمہوری ملک کے ایک ذمہ دار شہری ہونے کا حقیقی معنی سمجھاتے ہیں۔ اور جب ایک بالی ووڈ اداکارہ اپنی آنے والی فلم کے لیے خطرات سے بے پرواہ ہو کر جے این یو حملے کے متاثرین سے ملتی ہے اور اپنا خاموش احتجاج درج کراتی ہے تو وہ ہمیں یہ سوچنے کی ترغیب دیتی ہے کہ کیا کچھ خطرے میں ہے، یعنی اس وقت جو چیز خطرے میں ہے اگر اسے نظر انداز کردیا گیا تو فلم سے حاصل ہونے والا وقتی نفع بھی اس کے لیے فائدے مند نہیں رہے گا۔ ان چیزوں سے متاثر نہ ہونے کے لیے جمہوریت پسند اور حساس ہونا ضروری ہے۔ ان لوگوں نے اپنے کام کے ذریعے بتایا ہے کہ حقِ آزادی اور انصاف صرف بڑے الفاظ نہیں ہیں بلکہ اس کے خلاف محاذ آرا نظریات کےخلاف قربانی دینا ایک بڑا اور جرأت مندانہ کام ہے۔ وہ آج اس ہندوستان کے لیے لڑ رہے ہیں، تکلیفیں برداشت کررہے ہیں، صعوبتیں جھیل رہے ہیں جس کے لیے مہاتما گاندھی نے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا تھا۔ مرورِ زمانہ نے موجودہ وقت میں سراپا احتجاج نوجوانوں کو برطانوی سامراج سے ملک کی آزادی کے لیے مارچ کرنے کا موقع نہیں دیا، لیکن آج اس کو بچانے کے لیے وہ قدم بہ قدم چل ر ہے ہیں۔ وہ رابندر ناتھ ٹیگور کے خوابوں کے ہندوستان کو بامعنی تعبیر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 26 جنوری کو 70 سال پورے جائیں گے جب ملک نے ایک مخصوص اور متعصبانہ نظریات سے مبرا اور وسعت قلبی سے بھرے ہوئے سیکولر اور جمہوری آئین کو قبول کیا تھا۔ ممکن ہے چند شعبوں میں ہمارا آئین کامل نہیں رہا ہو، لیکن اسے ان تعلیم یافتہ مردوں اور خواتین نے مرتب کیا تھا جنہوں نے تقسیم کی ہولناکیوں کو دیکھ کر مزید متفق و متحد مستقبل کو جنم دینے کا عزمِ پیہم کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ملک آج سے کہیں بہتر کرنے کا اہل ہے، لیکن کچھ خودکش طاقتیں بھی سامنے آسکتی ہیں، جس کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جانا چاہیے۔ لہذا ہمارے خاکِ وطن کے بانیوں اور مالیوں نے سیکولر اور جمہوری آئین کا ایک مسودہ تیار کیا جو ہمارے اندر ہمیشہ مشترکہ مقصد اور فخر کا احساس زندہ رکھ سکے۔ اگر نئی دہائی اور نفرت زدہ ماحول میں بھی ہمارے اندر اتنی ہمت باقی ہے کہ اس دستور کی حفاظت کے لیے تمام فاصلے مٹا کر ہم بہ یک آواز سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوجائیں تو اس سے بہتر کوئی دوسرا ایجنڈا ہو ہی نہیں سکتا۔آئیے! ہم ہندوستان کو رواداری اوروضع داری کی ایک مثال بنانے کے لیے مل کر کام کریں جس کا ہمارے آبا و اجداد نے خواب دیکھا تھا۔ تھکی ہوئی دنیا میں مشعل کی طرح نئی دہائی میں یہ ہمارا فرض ہے، جسے ہمیں نبھانا چاہیے۔ ***


