دعوت نیوز نیٹ ورک

نئی دہلی: روہت ویمولا کی چوتھی برسی کے موقع پر دہلی کی تمام یونیورسٹیوں میں انہیں یاد کیا گیا اور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہے احتجاج میں بھی روہت ویمولا کا یوم وفات منایا گیا اور قومی تعلیمی پالیسی پر سوال اٹھائے گئے۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کرشن سوامی دارا نے طلباء و عام لوگوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے محافظ ہیں ، اسی لیے ہم سڑکوں پر اتر کر آئین کو بچانے کی فکر میں یکجا ہوئے ہیں۔ سرکار کو اسی سے پریشانی ہے۔ روہت ویمولا کے یوم وفات پر انہوں نے کہا کہ ہمیں غریب، دلت طبقے کو حمایت بھی دینا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ بھی دینا ہے، تاکہ روہت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ دہلی یونیورسٹی کی طلبہ لیڈر دامنی کین نے بھی روہت ویمولا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک ایک طرح کی لڑائی ہے جو منوسمرتی اور آئین کے درمیان ہے۔ سرکار منوسمرتی کا تحفظ کر کے ہم پر برہمن واد تھوپنا چاہتی ہے، لیکن ہم آئین کی تحفظ پر جمے رہیں گے۔ انہوں نے آگے کہا کہ منوسمرتی پسماندہ طبقات وقبائلی لوگوں کے ساتھ بھید بھاؤ کرتی ہے، صرف آئین ہی ہے جو انہیں ان کے حقوق فراہم کرسکتا ہے۔ سرکار پسماندہ طبقات اور قبائلی لوگوں کے حقوق چھیننا چاہتی ہے۔ ان کے علاوہ جامعہ کے کئی طلبا نے روہت ویمولا کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر روہت ویمولا کی پھانسی کو ادراہ جاتی قتل قرار دیا گیا، ساتھ ہی روہت کے خودکشی نوٹ کو پڑھ کر اس جذبہ کو محسوس کرنے کی کوشش کی گئی جو اس خط کے ہر سطر میں بکھرا ہوا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہے اس پورے احتجاج میں روہت ویمولا ایک خاص چہرہ ہیں۔ کئی طلبا ان کی تصویریں لے کر اس احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ وہیں یونیورسٹی کے نواب منصور علی خان پٹودی اسپورٹس کامپلیکس کی دیواروں پر بھی ان کی پینٹنگ بنائی گئی ہے۔ شاہین باغ کے احتجاج میں بھی روہت ویمولا کے پوسٹر آسانی سے ہر جگہ دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی میں بھی ’پرتیرودھ کی ایک شام کے روہت کے نام‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں طلباء نے روہت کو جنوادی گیتوں، نظموں، غزلوں سے یاد کیا۔ آرٹس فیکلٹی پر ہوئے اس پروگرام میں سی اے اے- این آر سی- این پی آر کے ساتھ ساتھ طلباء نے نئی تعلیمی پالیسی کی بھی مخالفت کی۔ جے این یو میں سابرمتی ڈھابہ پر طلباء نے روہت اور ان کی جدوجہد کو یاد کیا۔ باپسا نامی طلبا تنظیم کی اپیل پر طلبہ نے ایک احتجاجی مارچ کے ساتھ کیمپس میں بڑھ رہے ذات پات کے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھائی۔ خیال رہے کہ سن 2016 میں حیدرآباد یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر روہت ویمولا نے خودکشی کی تھی۔ اس وقت اس خودکشی کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ایک تنظیم کو ذمے دار بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک بھر میں ذات پات اور حکومت کے خلاف بہت سے مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

آج کے اس دور میں روہت ویمولا کو یاد کرنا کیوں ضروری ہے؟

ہفت روزہ دعوت کے اس سوال کے جواب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر کرشن سوامی دارا کہتے ہیں کہ میری نظر میں روہت ویمولا ایک علامت کی طرح ہیں۔ تعلیمی اداروں میں گذشتہ 10-15 سالوں سے دلت طلبا جو خود کشی کر رہے ہیں، اس کے پیچھے کی ایک اہم وجہ انہیں ذات کی بنیاد پر پریشان و ٹارچر کرنا ہے۔ اور پھر ملک کی تمام یونیورسٹیوں و تعلیمی اداروں میں ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ذات کے نام پر کافی سیاست اور بھید بھاؤ پیداکردی گئی ہے۔ ان اداروں میں جو تشدد ہوتا ہے، روہت ویمولا اس تشدد کے خلاف تھا اور وہ اس کا شکار بھی بنا۔ روہت ویمولا ایک ایسے بھارت کا خواب ہے، جس میں کسی بھی ادارے میں ذات یا دھرم کے نام پر کوئی بھید بھاؤ نہ ہو۔ جو برہمن واد ملک کے تمام اداروں میں گھساہوا ہے، اس کی مخالفت کرتے ہوئے روہت نے جب خود کو بے بس محسوس کیا تب اس نے خودکشی کرلی۔ بے بسی کا نام ہی دلت ہونا ہے۔ اس نے اپنے آخری خط میں لکھا تھا کہ میری نالج اور میری پوری شناخت صرف ایک انفرادی شناخت میں محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ یہ شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی بھی یہی کام کرتا ہے۔ یہ اپنے شہری کی شناخت صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر کرتا ہے۔ غرض آج کے اس ’آندولن‘ کو بہت گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔


روہت اور نجیب کی مائیں پیدل مارچ نکالیں گی

شہریت قانون کے خلاف حیدرآباد کے روہت ویمولا، ممبئی کی ڈاکٹر پایل تڈوی اور دہلی سے جے این یو کے گمشدہ ریسرچ اسکالر نجیب کی ماؤں کی جانب سے پد یاترا شروع کی جا رہی ہے۔ روہت ویمولا کی چوتھی برسی کے موقع پر رادھیکا ویمولا نے کہاکہ وہ پایل تڈوی کی والدہ عابدہ اور نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس کے ساتھ مل کر مدرس فار نیشن یاترا (Mother's For Nation Yatra) شروع کریں گی۔ اس منصوبے کے تحت شہریت قانون کے خلاف ملک گیر یاترا نکالی جارہی\"\" ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد یونیورسٹی میں روہت کے ساتھ کیا ہوا وہ نہیں جانتیں، لیکن اب وہ اِس ملک کو مرنے نہیں دیں گی۔ میں ملک کو بچانے کے لیے جدوجہد کروں گی۔ میں گزشتہ چار سال سے اپنے بیٹے کا غم منا رہی ہوں۔ شہریت کا مسئلہ پیدا کر دیا گیا ہے۔ پہلے مودی اور شاہ کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں۔